وینزویلا میں 24 جون کو آنے والے تباہ کن زلزلوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر قریباً 3 ہزار تک پہنچ گئی ہے، جبکہ بین الاقوامی امدادی ٹیموں نے ملبے تلے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کا آپریشن بتدریج سمیٹنا شروع کردیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد میں مزید 300 سے زیادہ افراد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مجموعی اموات 2 ہزار 954 تک پہنچ گئی ہیں۔ اس قدرتی آفت کے باعث ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور سڑکوں یا عارضی امدادی کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
مزید پڑھیں: وینزویلا زلزلہ: ہلاکتیں 2,595 تک پہنچ گئیں، تعمیرِ نو کے لیے 20 کروڑ ڈالر کا فنڈ قائم
دوسری جانب اب بھی ہزاروں افراد لاپتا ہیں۔ وینزویلا کی حکومت نے لاپتا افراد کی کوئی سرکاری تعداد جاری نہیں کی، تاہم اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ 7.2 اور 7.5 شدت کے 2 زلزلوں کے بعد قریباً 50 ہزار افراد کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
لاطینی امریکا کی حالیہ تاریخ کی بدترین زلزلہ آفات میں شمار ہونے والی اس تباہی نے دارالحکومت کراکس کے شمال میں واقع ساحلی علاقے لا گوائیرا کو سب سے زیادہ متاثر کیا، جہاں متعدد رہائشی عمارتیں مکمل طور پر زمین بوس ہوگئیں۔
دونوں زلزلے محض 38 سیکنڈ کے وقفے سے آئے تھے۔ سانحے کے 10 روز گزرنے کے بعد امدادی ٹیمیں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کا مرحلہ ختم کرنے کی جانب بڑھ رہی ہیں، جبکہ متاثرہ خاندان اب بھی اپنے پیاروں کی لاشیں ملبے سے نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
ماہرین کے مطابق زلزلے جیسی آفات میں زندہ افراد کو نکالنے کا سب سے اہم وقت ابتدائی 72 گھنٹے ہوتے ہیں، اگرچہ اس ہفتے بھی چند افراد کو ملبے سے زندہ نکالنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔
امدادی سرگرمیوں کے اختتام کے اشارے کے طور پر قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز نے مختلف ممالک سے آنے والی امدادی ٹیموں اور ان کے ریسکیو کتوں کو اعزازی تمغے دینے کی تقریب منعقد کی۔
اس موقع پر انہوں نے کہاکہ وینزویلا اس وقت گہرے قومی غم سے گزر رہا ہے۔ کئی خاندان اب بھی اپنے پیاروں کے زندہ ملنے کی امید لگائے بیٹھے ہیں، جبکہ بے شمار افراد ایک ہی لمحے میں اپنا سب کچھ کھو چکے ہیں۔
امریکی اور جنوبی امریکی ممالک سمیت مختلف بین الاقوامی امدادی ٹیموں نے بھی تصدیق کی ہے کہ وہ اپنی ریسکیو کارروائیاں مکمل کر کے واپس جانے کی تیاری کررہی ہیں۔
لاس اینجلس کاؤنٹی فائر ڈپارٹمنٹ کی ریسکیو ٹیم نے بتایا کہ حالیہ تلاش کے دوران زندگی کے کوئی آثار نہیں ملے، جس کے بعد آپریشن ختم کیا جا رہا ہے، جبکہ فلوریڈا اور ورجینیا سے آنے والی ٹیمیں بھی واپسی کی تیاری کر رہی ہیں۔
متاثرہ شہریوں کی بڑی تعداد نے حکومت پر آفت سے نمٹنے میں سستی کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ابتدائی کئی گھنٹوں تک خاندانوں نے اپنے پیاروں کو ملبے سے نکالنے کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت کوششیں جاری رکھیں اور بین الاقوامی امدادی ٹیموں کی آمد تک انہیں خاطر خواہ سرکاری مدد میسر نہیں تھی۔
تاہم قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز نے حکومتی اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہاکہ سانحے کے فوراً بعد ہزاروں فوجیوں، امدادی اہلکاروں اور سرکاری افسران کو متاثرہ علاقوں میں تعینات کردیا گیا تھا۔
ادھر لا گوائیرا میں بھاری مشینری کے ذریعے مکمل طور پر تباہ شدہ عمارتوں کو منہدم کرنے کا کام شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ کئی مقامات پر متاثرہ خاندان اب بھی اپنے عزیزوں کی لاشیں ملبے سے نکال کر تدفین کے لیے منتقل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
مزید پڑھیں: وینزویلا : 140 ٹن ملبے کے نیچے دبا ہوا سیکیورٹی گارڈ 8دن بعد زندہ نکل آیا
ایک رضاکار نے بتایا کہ امدادی کام اب بھی جاری ہے اور لاشوں کی تلاش میں مسلسل مصروف ہیں۔ ان کے مطابق اب تک 2 لاشیں نکال کر اہل خانہ کے حوالے کی جا چکی ہیں۔
معاشی نقصانات بھی اربوں ڈالر تک پہنچ گئے
اقوام متحدہ کے مطابق دوہرے زلزلوں کے نتیجے میں وینزویلا کو تقریباً 6.7 ارب ڈالر کا براہِ راست مالی نقصان پہنچا ہے، جو ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے قریباً 6 فیصد کے برابر ہے۔
تیل پیدا کرنے والا ملک وینزویلا اس سانحے سے پہلے بھی کئی دہائیوں سے معاشی بحران، سیاسی عدم استحکام اور کمزور بنیادی ڈھانچے کے مسائل سے دوچار تھا، جس کے باعث صحت اور دیگر بنیادی خدمات پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار تھیں۔














