اسلام آباد پولیس نے ایئرفورس کے گروپ کیپٹن عاصم کو فائرنگ کرکے شہید کرنے کے مقدمے میں مرکزی ملزم محمد سعد عباسی کو گرفتار کر لیا ہے۔
آئی جی اسلام آباد پولیس سید علی ناصر رضوی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور مربوط تفتیشی حکمت عملی کے ذریعے ملزم کو واقعے کے صرف نو گھنٹوں کے اندر گرفتار کیا گیا۔
مزید پڑھیں: ایئرفورس کے بہادرگروپ کیپٹن خاتون کو اغوا سے بچاتے ہوئے شہید، عوام کا زبردست خراج تحسین
انہوں نے کہاکہ واقعہ صبح 11 بج کر 21 منٹ پر پیش آیا، جسے پولیس نے ایک بڑا چیلنج سمجھتے ہوئے فوری تحقیقات کا آغاز کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ملزم محمد سعد عباسی اور نمرہ نامی خاتون میلوڈی کے ایک کیش اینڈ کیری اسٹور میں ملازمت کرتے تھے اور اس سے قبل بھی دونوں 2 مرتبہ اکٹھے آ چکے تھے۔
آئی جی کے مطابق وقوعہ کے روز ملزم خاتون کو پارک یا کسی اور مقام پر لے جانا چاہتا تھا، تاہم خاتون نے انکار کر دیا، جس پر ملزم نے زبردستی کرنا شروع کر دی۔
انہوں نے کہاکہ اسی دوران گروپ کیپٹن عاصم نے صورتحال دیکھی تو اپنی گاڑی واپس موڑ کر موقع پر روکے اور مداخلت کی۔ اس دوران خاتون دوبارہ مڑ کر گاڑی کی جانب آئی، جبکہ ملزم سعد عباسی بھی موٹر سائیکل موڑ کر واپس آیا اور پستول نکال کر گروپ کیپٹن پر فائرنگ کر دی۔
سید علی ناصر رضوی نے کہاکہ خاتون کو مذکورہ اسٹور میں کام شروع کیے ابھی 10 دن بھی نہیں ہوئے تھے۔ ملزم خاتون کو زبردستی اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا اور اس کے عمل میں صرف مجرمانہ ذہنیت اور شیطانیت کارفرما تھی۔
آئی جی اسلام آباد نے کہاکہ ملزم کی گرفتاری کے لیے 11 خصوصی پولیس ٹیمیں تشکیل دی گئیں، جنہوں نے مشترکہ طور پر کارروائی کی۔ تفتیش کے دوران سیف سٹی کے 275 کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا گیا، جبکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی کیمروں اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزم کی نقل و حرکت سے متعلق تمام معلومات اکٹھی کی گئیں، جس کے نتیجے میں ایک انتہائی مضبوط سراغ ملا۔
انہوں نے مزید کہاکہ ملزم کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے۔ گرفتاری کے وقت وہ اسلام آباد میں موجود تھا اور اس نے اسکائی ویز کی ٹکٹ بھی حاصل کر رکھی تھی، جبکہ اپنی لوکیشن چھپانے کے لیے موبائل ڈیٹا بھی بند کر رکھا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام 11 تفتیشی ٹیمیں مسلسل رابطے میں رہیں، جس کی بدولت واقعے کے صرف 9 گھنٹوں میں ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔
مزید پڑھیں: غازی ’معرکۂ حق‘ کیپٹن حذیفہ، بہادری اور عزم کی زندہ مثال
آئی جی کے مطابق ایک سی سی ٹی وی کیمرے کی ویڈیو کا تجزیہ کرنے میں عموماً 3 گھنٹے لگتے ہیں، تاہم پولیس نے جدید اے آئی ٹولز اور دیگر تکنیکی وسائل استعمال کرتے ہوئے تفتیش کا عمل غیر معمولی رفتار سے مکمل کیا۔
انہوں نے مزید کہاکہ جب ملزم خاتون کو موٹر سائیکل پر ساتھ لے کر نکلا تو دونوں پورے راستے ایک خاندان کی طرح سفر کرتے دکھائی دیے، تاہم ملزم کی اصل نیت اور مجرمانہ رویہ وقوعہ کی جگہ پر سامنے آیا، جہاں اس نے خاتون کو زبردستی اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کی۔














