ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں داخلہ کے امیدوار طلبا و طالبات سے انتہائی ذاتی معلومات کیوں پوچھی جارہی ہیں؟

پیر 6 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اس وقت ملک بھر کی جامعات میں داخلوں کا عمل جاری ہے، تاہم متعدد سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں کے داخلہ فارموں میں امیدواروں سے ذاتی نوعیت کی معلومات طلب کیے جانے پر طلبہ اور والدین کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

متعدد طلبہ کا کہنا ہے کہ داخلہ فارم میں والد یا سرپرست کی ماہانہ آمدن، گھر کے اخراجات، خاندان کی معاشی صورتِ حال اور بعض صورتوں میں صحت سے متعلق معلومات طلب کی جا رہی ہیں، جبکہ ان کے مطابق یہ معلومات داخلے کے میرٹ یا تعلیمی اہلیت سے براہِ راست متعلق نہیں ہیں۔

18 سالہ محمد ثاقب رشید اس وقت اسلام آباد کی ایک نجی یونیورسٹی میں کیمیکل انجینئرنگ کے طالب علم ہیں اور اس وقت سیکنڈ سمسٹر میں پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب انہوں نے گزشتہ برس داخلے کے لیے اپلائی کرنے کا ارادہ کیا تو تقریباً تمام یونیورسٹیوں کے داخلہ فارم میں والدین کی ماہانہ آمدن، گھر کے اخراجات اور دیگر مالی معلومات طلب کیے جانے پر انہیں کافی تشویش ہوئی۔

ان کے مطابق اکثر طلبا ایسے خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں مالی معاملات کو نجی سمجھا جاتا ہے، اس لیے وہ یہ معلومات شیئر کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فارم میں یہ بھی واضح نہیں کیا جاتا کہ اگر کوئی طالب علم یہ معلومات فراہم نہ کرے تو کیا اس کے داخلے پر کوئی اثر پڑے گا۔

ان کے مطابق اگر یہ معلومات صرف اسکالرشپ یا مالی معاونت کے لیے درکار ہیں تو انہیں اختیاری رکھا جانا چاہیے، جبکہ داخلے کے لیے صرف وہی معلومات لازمی ہونی چاہئیں جو تعلیمی میرٹ سے براہِ راست متعلق ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ داخلہ فارم میں پوچھے گئے کچھ سوالات واقعی ذاتی نوعیت کے ہوتے ہیں اور ہر کوئی انہیں بتانے میں آسانی محسوس نہیں کرتا۔

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی طالبہ اریبہ طارق اس وقت اپنے داخلے کی تیاریاں کر رہی ہیں اور 2 سے 3 یونیورسٹیوں میں سائبر سیکیورٹی کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے داخلہ فارم بھی جمع کرا چکی ہیں۔

اریبہ طارق کہتی ہیں کہ داخلہ فارم میں بعض ذاتی اور خاندانی معلومات دیکھ کر وہ اور ان کے والدین اس بات پر پریشان ہوئے کہ آخر یہ معلومات کس مقصد کے لیے جمع کی جا رہی ہیں اور مستقبل میں ان تک کس کی رسائی ہوگی۔

ان کے مطابق موجودہ دور میں ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کا معاملہ پہلے سے زیادہ اہم ہو چکا ہے، اس لیے جامعات کو داخلہ فارم کے ساتھ واضح طور پر یہ پالیسی بھی فراہم کرنی چاہیے کہ طلبہ کی معلومات کس مقصد کے لیے استعمال ہوں گی، کتنے عرصے تک محفوظ رکھی جائیں گی، اور انہیں کسی تیسرے فریق کے ساتھ شیئر تو نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جامعات اس حوالے سے شفافیت اختیار کریں تو طلبہ زیادہ اعتماد کے ساتھ داخلہ فارم جمع کرا سکیں گے۔

محمد فاروق کا تعلق راولپنڈی سے ہے اور ان کا بڑا بیٹا اس وقت بی ایس آئی ٹی کا طالب علم ہے۔ اس حوالے سے محمد فاروق نے بتایا کہ ان کا تعلق ایک محدود آمدن والے خاندان سے ہے، لیکن وہ اپنے بچوں کی تعلیم کو اپنی اولین ترجیح سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق بہت سے والدین روزانہ محنت مزدوری کرتے ہیں، اپنی دیگر ضروریات پر سمجھوتہ کرتے ہیں اور برسوں تک تھوڑی تھوڑی بچت کر کے بچوں کی یونیورسٹی فیس اور دیگر اخراجات پورے کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے اپنے بیٹے کا داخلہ کروایا تو داخلہ فارم میں ماہانہ یا سالانہ آمدن سے متعلق سوالات دیکھ کر انہیں اپنے بیٹے کے سامنے بہت عجیب محسوس ہوا۔ انہوں نے اپنے بیٹے کا داخلہ فارم اسلام آباد کی بعض بڑی یونیورسٹیوں میں بھی جمع کروایا، مگر اس کا نام صرف 2 یونیورسٹیوں میں ہی آیا۔

انہوں نے کہا، ’جب میں اس حوالے سے سوچتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ کہیں کم آمدن ظاہر کرنے والے طلبہ کے بارے میں یہ تاثر تو قائم نہیں کر لیا جاتا کہ وہ یونیورسٹی کی فیس بروقت ادا نہیں کر سکیں گے، جس کی وجہ سے ان کے داخلے پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔‘

ان کے مطابق اگر یہ معلومات صرف مالی معاونت یا اسکالرشپ کے تعین کے لیے درکار ہیں تو جامعات کو واضح طور پر اس کی وضاحت کرنی چاہیے، تاکہ والدین اور طلبہ بلاوجہ خدشات اور ذہنی دباؤ کا شکار نہ ہوں۔

بعض طلبا کا یہ بھی مؤقف ہے کہ وہ اپنی یا اپنے خاندان کی مالی اور ذاتی معلومات ظاہر نہیں کرنا چاہتے، تاہم انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ اگر فارم مکمل نہ کیا گیا تو ان کی درخواست متاثر ہو سکتی ہے۔ والدین بھی یہی مطالبہ کرتے ہیں کہ جامعات واضح کریں کہ ایسی معلومات کیوں حاصل کی جاتی ہیں اور ان کا استعمال کس مقصد کے لیے کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض جامعات یہ معلومات اسکالرشپس، مالی معاونت، خصوصی سہولیات، طلبہ کی فلاح و بہبود یا ہنگامی حالات میں رابطے جیسے انتظامی مقاصد کے لیے حاصل کرتی ہیں۔

اس بارے میں بات کرتے ہوئے نمل یونیورسٹی اسلام آباد کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر عاطف افتخار کا کہنا تھا کہ داخلہ فارم میں مالی اور خاندانی معلومات طلب کیے جانے کو صرف منفی زاویے سے نہیں دیکھنا چاہیے، کیونکہ اس کے پیچھے جامعات کی بعض انتظامی اور مالی ضروریات بھی ہوتی ہیں۔

ان کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کو سرکاری گرانٹس میں نمایاں کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے باعث بیشتر سرکاری اور نجی جامعات کے اخراجات کا بڑا حصہ طلبہ کی فیسوں سے پورا کیا جاتا ہے۔ ایسے میں اداروں کے لیے یہ جاننا اہم ہو جاتا ہے کہ داخلہ لینے والا طالب علم اپنی تعلیم جاری رکھنے اور فیس کی ادائیگی کی استطاعت رکھتا ہے یا نہیں، تاکہ مستقبل میں تعلیم ادھوری چھوڑنے یا فیسوں کی عدم ادائیگی جیسے مسائل سے بچا جا سکے۔

عاطف افتخار نے مزید کہا کہ اپنے تدریسی تجربے کے دوران انہوں نے کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ کسی طالب علم کو صرف کم آمدن یا مالی مشکلات کی بنیاد پر، جبکہ وہ تعلیمی طور پر میرٹ پر پورا اترتا ہو، داخلے سے محروم کیا گیا ہو۔ ان کے مطابق داخلوں میں بنیادی اہمیت تعلیمی قابلیت اور میرٹ کو دی جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کو داخلے کے عمل میں شفافیت کے ساتھ ساتھ طلبہ کی پرائیویسی اور ذاتی معلومات کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا چاہیے، تاکہ امیدوار بلاوجہ اپنی نجی معلومات شیئر کرنے پر مجبور محسوس نہ کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

متحدہ عرب امارات میں مہنگی قیمت کے باوجود پاکستانی آم کی مانگ میں مسلسل اضافہ

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی غیرمعمولی سرگرمیاں، ایک اور فالس فلیگ آپریشن کے خدشات

10 کھلاڑیوں پر مشتمل انگلینڈ نے میزبان میکسیکو کو 2-3 سے شکست دے کر کوارٹر فائنل میں جگہ بنالی

مقبوضہ کشمیر: بی جے پی کے دباؤ پر لائبریری سے 2 کتابیں اٹھا لی گئیں، 8 افسران معطل

گروپ کیپٹن عاصم طارق کی شہادت، وزیراعظم کا شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کو سخت سزا دینے کا حکم

ویڈیو

لاہور کا مٹکا سوڈا، یہ کیسا مشروب ہے؟

اسٹاک مارکیٹ میں نوجوان سرمایہ کاروں کی دلچسپی، نئے اکاؤنٹس کھلنے کی شرح میں 50 فیصد اضافہ

پاکستان اور ترکیہ معاشی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

کالم / تجزیہ

ریڈیو کا روشن باب: بھائی لال اور اوم پرکاش

بریسٹ کینسر: خوف نہیں، آگاہی کی ضرورت

بھارتی آبی دہشتگردی کا پاکستان کیسے جواب دے؟