برصغیر کے گمنام سپاہیوں کی قربانیاں تسلیم، 9,909 نام عالمی ریکارڈ میں شامل

پیر 6 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تقسیمِ ہند سے قبل برطانوی ہند کی فوج میں خدمات انجام دینے والے اور پہلی جنگِ عظیم کے دوران جان قربان کرنے والے ہزاروں فراموش شدہ فوجیوں کو بالآخر سرکاری طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔

یہ گزشتہ 80 برس سے زائد عرصے میں جنگی ہلاکتوں کے ریکارڈ میں سب سے بڑی تبدیلی قرار دی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ، جنگ عظیم اول کی یادگار کی محفوظ منتقلی کا شاندار منصوبہ

کامن ویلتھ وار گریوز کمیشن نے تحقیق کے دوران سامنے آنے والے برطانوی ہند کی فوج کے 9 ہزار 909 اہلکاروں کے نام اپنے سرکاری جنگی ریکارڈ میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

برطانیہ سے تعلق رکھنے والے رضاکاروں نے کئی برس تک ان منفرد رجسٹروں پر تحقیق کی، جو پہلی جنگِ عظیم کے فوراً بعد پنجاب میں تیار کیے گئے تھے۔

اب ان فوجیوں کی برطانوی نسلوں سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کو تلاش کرنے کا کام بھی جاری ہے تاکہ انہیں ان کے آباؤ اجداد کی قربانی سے آگاہ کیا جا سکے۔

لیسٹر سے تعلق رکھنے والے دندان ساز سنی پلہے کا کہنا ہے کہ وہ برسوں سے اپنے پردادا کیسر سنگھ کے بارے میں معلومات تلاش کر رہے تھے، جن کے متعلق خاندان میں یہی معلوم تھا کہ وہ جنگ پر گئے تھے لیکن واپس نہیں لوٹے۔

تحقیق کاروں نے انہیں اطلاع دی کہ ان کے پردادا کا نام نئے سرے سے جانچے گئے پنجاب رجسٹروں میں مل گیا ہے اور اب اسے باضابطہ طور پر کامن ویلتھ وار گریوز کمیشن کے ریکارڈ میں شامل کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: روس میں جنگ عظیم دوم کا گولہ 70سال بعد پھٹ پڑا، وجہ کیا بنی؟

سنی پلہے کے مطابق اب ایک مستند ادارے نے ان کی قربانی کو تسلیم کیا ہے، جو پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ ’میرے پردادا اب کامن ویلتھ وار گریوز کمیشن کے ریکارڈ کا حصہ ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی تمام قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں۔‘

انہوں نے کہا کہ اس اعتراف کے بعد انہیں ان لاکھوں خاندانوں کا حصہ ہونے پر فخر محسوس ہوتا ہے جن کے عزیز پہلی جنگِ عظیم میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔

تاریخی ریکارڈ کے مطابق بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش پر مشتمل اس وقت کے برصغیر سے تقریباً 14 لاکھ افراد نے پہلی جنگِ عظیم میں برطانوی ہند کی فوج کے ساتھ خدمات انجام دیں۔

جنگ کے بعد حکام نے اس وقت کے پنجاب کے ہر شہر اور گاؤں کا دورہ کرکے ان 3 لاکھ 20 ہزار فوجیوں کے نام اور انجام ریکارڈ کیے جو صرف پنجاب سے تعلق رکھتے تھے۔

1947 میں تقسیمِ ہند کے بعد پنجاب 2 حصوں میں تقسیم ہوگیا، جن میں ایک بھارت اور دوسرا پاکستان کا حصہ بنا۔

مزید پڑھیں: جرمنی کے ہاتھوں ڈنمارک اور ناروے کی فتح: دوسری جنگِ عظیم کی اہم پیش قدمی

آج پاکستان کے لاہور میوزیم میں چمڑے سے جلد بند درجنوں قدیم اور نازک رجسٹر محفوظ ہیں، جن میں ہر گاؤں کے فوجیوں کا ہاتھ سے تحریر کردہ ریکارڈ موجود ہے۔

برطانیہ کی پنجاب ہیریٹیج ایسوسی ایشن نے ان رجسٹروں کو ڈیجیٹل شکل دینے اور ان کا تجزیہ کرنے کا منصوبہ شروع کیا، جسے مکمل ہونے میں کئی سال لگے۔

اس تحقیق کا حصہ رہنے والی یونیورسٹی آف گرین وچ کی پی ایچ ڈی طالبہ جیسمین بسرا نے بتایا کہ تحقیق کے دوران انہیں اپنے پردادا اور ان کے بھائی کے نام بھی ملے، جو پہلی جنگِ عظیم میں برطانوی ہند کی فوج کے ساتھ لڑے تھے۔

’یہ میرے لیے انتہائی جذباتی لمحہ تھا۔ برطانیہ میں پیدا ہونے والی دوسری نسل کی پنجابی ہونے کے ناطے میرا پنجاب سے بھی ایک فاصلہ تھا اور برطانوی تاریخ سے بھی مکمل تعلق محسوس نہیں ہوتا تھا، لیکن اس تحقیق نے مجھے دونوں سے جوڑ دیا۔‘

مزید پڑھیں: فلوریڈا: کھدائی کے دوران دوسری جنگ عظیم کا 450 کلو وزنی بم برآمد

رضاکاروں کی اس کاوش کو کامن ویلتھ وار گریوز کمیشن نے سراہتے ہوئے اپنے ریکارڈ میں دوسری جنگِ عظیم کے بعد کی سب سے بڑی تبدیلی کی ہے۔

کمیشن کے مؤرخین کے مطابق ان 9 ہزار 909 فوجیوں میں سے زیادہ تر ایسے تھے جو محاذِ جنگ سے دور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے تھے۔

اس وقت کی برطانوی ہند حکومت کے قواعد کے باعث انہیں جنگی شہداء کا درجہ نہیں دیا گیا تھا، تاہم اب اس فیصلے کو واپس لے لیا گیا ہے۔

نئے شامل کیے گئے فوجیوں میں تقریباً 25 فیصد سکھ، 25 فیصد ہندو اور 40 فیصد مسلمان شامل ہیں، جبکہ باقی دیگر مذاہب سے تعلق رکھتے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp