بھارت میں پابندی کے باوجود دلجیت دوسانجھ کی فلم ’ستلج‘ نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کر دیے

منگل 7 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی پنجابی سپر اسٹار دلجیت دوسانجھ کی متنازع فلم ’ستلج‘ کو بھارت میں ریلیز کے صرف دو روز بعد ZEE5 سے ہٹا دیا گیا، تاہم اس مختصر مدت میں بھی فلم نے بین الاقوامی سطح پر غیرمعمولی مقبولیت حاصل کرتے ہوئے اسٹریمنگ پلیٹ فارم کی بیرونِ ملک ڈاؤن لوڈز میں ریکارڈ اضافہ کر دیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلم کی ریلیز کے بعد بھارت سے باہر ZEE5 ایپ کی ماہانہ ڈاؤن لوڈز میں تقریباً 374 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اگرچہ پلیٹ فارم نے اس حوالے سے باضابطہ اعداد و شمار جاری نہیں کیے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ’ستلج‘ کی ریلیز نے امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں ZEE5 کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت سرکار دلجیت دو سانجھ کی فلم ’ستلج‘ سے کیوں خوفزدہ ہے؟

یہ فلم سکھ انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ خالڑا کی زندگی سے متاثر ہو کر بنائی گئی ہے۔ تقریباً چار برس تک تعطل کا شکار رہنے کے بعد فلم 3 جولائی کو ZEE5 پر ریلیز ہوئی، مگر 5 جولائی کو ’موجودہ حالات‘ کا حوالہ دیتے ہوئے اسے بھارت میں پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا۔ تاہم بیرونِ ملک ناظرین اب بھی فلم دیکھ سکتے ہیں جبکہ اس کی غیرقانونی کاپیاں بھی انٹرنیٹ پر گردش کر رہی ہیں۔

فلم کے شریک مصنف نیرن بھٹ نے فیصلے میں شفافیت نہ ہونے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ فلم سازوں کو آج تک سرکاری سطح پر یہ نہیں بتایا گیا کہ فلم پر اصل اعتراضات کیا ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پروڈیوسرز اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کریں گے اور امید ہے کہ قانونی کارروائی کے بعد فلم دوبارہ ZEE5 پر دستیاب ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: دلجیت دوسانجھ نے انڈیا چھوڑ کر امریکی شہریت حاصل کر لی؟

دوسری جانب فلم کے شریک پروڈیوسر رونی اسکریووالا کی پروڈکشن کمپنی RSVP Movies نے بھی تصدیق کی ہے کہ حکومت کی ہدایت پر فلم کو پلیٹ فارم سے ہٹایا گیا۔

اداکار دلجیت دوسانجھ نے بھی انسٹاگرام لائیو کے دوران اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں پہلے ہی اندازہ تھا کہ فلم کو جلد ہٹا دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ پہلے ہی فلم ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں، اب اسے انٹرنیٹ سے مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کینیڈا کنسرٹ تنازع: دلجیت دوسانجھ نے ‘خالصتان جھنڈوں’ اور مداحوں کو ہراساں کرنے پر خاموشی توڑ دی

واضح رہے کہ فلم کی ریلیز گزشتہ چار برس سے اس وقت تعطل کا شکار تھی جب سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (CBFC) نے فلم میں 127 ترامیم تجویز کی تھیں، جنہیں فلم سازوں نے یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے مسترد کر دیا تھا کہ ان تبدیلیوں سے فلم کا بنیادی پیغام متاثر ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp