بھارت کے شہر ایودھیا میں قائم رام مندر کے انتظامی ٹرسٹ نے عطیات میں مبینہ کروڑوں روپے کی چوری کے اسکینڈل کے بعد اپنی قیادت میں اہم تبدیلیاں کر دی ہیں، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم نریندر مودی سے اس معاملے پر عوام کے سامنے وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔
رام مندر ٹرسٹ کے اجلاس میں جنرل سیکریٹری چمپت رائے اور ٹرسٹی انیل مشرا کے استعفے منظور کرلیے گئے،جبکہ عبوری سیکریٹری مقرر کرنے کے ساتھ ایک نئے چیف ایگزیکٹو کے تقرر کے لیے کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ایودھیا میں متنازع رام مندر کے افتتاح پر بھارتی مورخ کا انتباہ
بھارتی حکام کے مطابق گزشتہ ماہ اس مقدمے میں 8 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، جن میں سے 7 کے قبضے سے تقریباً 80 لاکھ بھارتی روپے برآمد کیے گئے۔
ٹرسٹ نے مبینہ طور پر چوری ہونے والی مجموعی رقم ظاہر نہیں کی، تاہم سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال 31 مارچ تک رام مندر کو 5 ارب 82 کروڑ بھارتی روپے سے زائد کے عطیات موصول ہو چکے تھے۔
ٹرسٹ کے خزانچی گووند دیو گری نے اس واقعے کو انتہائی شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے تمام متعلقہ افراد کو شدید دکھ پہنچا ہے۔
ادھر ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے ہندو برادری سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کو ہندو دھرم اور معاشرے کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: رام مندر کرپشن اسکینڈل، آئندہ انتخابات سے قبل بی جے پی نئی آزمائش سے دوچار
دوسری جانب کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں نے رام مندر ٹرسٹ کو تحلیل کرنے اور سپریم کورٹ کی نگرانی میں آزادانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے کہا کہ صرف استعفے کافی نہیں، بلکہ پورے ٹرسٹ کی ازسرِ نو تشکیل اور غیر جانبدار تحقیقات ضروری ہیں۔
رام مندر کی تعمیر بھارتیہ جنتا پارٹی کے اہم انتخابی وعدوں میں شامل تھی اور جنوری 2024 میں وزیراعظم نریندر مودی نے اس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی تھی۔
ایودھیا کا یہ مقام کئی دہائیوں تک تنازع کا مرکز رہا۔ 1992 میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد ملک بھر میں ہونے والے فسادات میں تقریباً 2 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔
بعد ازاں 2019 میں بھارتی سپریم کورٹ نے متنازع زمین رام مندر کی تعمیر کے لیے دینے اور مسلمانوں کو مسجد کی تعمیر کے لیے متبادل اراضی فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔














