چینی کمپنی ڈیپ سیک کی اپنی اے آئی چِپ بنانے کی تیاری، امریکی کمپنیوں میں ہلچل

منگل 7 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین کی ٹیکنالوجی کمپنی ڈیپ سیک نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اپنی صلاحیتیں بڑھانے اور امریکی کمپنی این ویڈیا اور چینی کمپنی ہواوے پر انحصار کم کرنے کے لیے اپنی مقامی اے آئی چِپ تیار کرنے کا منصوبہ شروع کر دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈیپ سیک کی جانب سے تیار کی جانے والی چِپ خاص طور پر انٹرفیس مرحلے کے لیے بنائی جا رہی ہے، جس میں پہلے سے تربیت یافتہ اے آئی ماڈل صارفین کے سوالات کے جوابات تیار کرتا ہے۔ یہ چِپ نئے ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال نہیں کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: چینی چیٹ بوٹ ڈیپ سیک کس مسئلے سے دوچار ہے؟

اگر ڈیپ سیک اپنی مقامی اے آئی چِپ تیار کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو اسے سیمی کنڈکٹر صنعت میں اپنی موجودگی مزید مضبوط بنانے کا موقع ملے گا، جس سے چین کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے کو بھی نئے مقابلے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

اس اعلان کے بعد امریکی ٹیکنالوجی کمپنی این ویڈیا کے حصص کی قیمتوں میں ابتدائی کاروبار کے دوران تقریباً 2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

ڈیپ سیک پہلے ہی کم وسائل میں مؤثر مصنوعی ذہانت ماڈلز متعارف کرا کے عالمی ٹیکنالوجی منظرنامے میں نمایاں مقام حاصل کرچکی ہے اور اس کے ماڈلز نے سلیکون ویلی کی بڑی کمپنیوں کے مصنوعی ذہانت نظاموں کو سخت مقابلہ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چین دفاعی مقاصد کے لیے مصنوعی ذہانت اور ڈیپ سیک کا استعمال کیسے کر رہا ہے؟

رپورٹ کے مطابق ہواوے جدید ترین چِپس کے معاملے میں این ویڈیا سے پیچھے ہونے کے باوجود چین کی 50 ارب ڈالر مالیت کی اے آئی چِپ مارکیٹ کا تقریباً نصف حصہ حاصل کرچکی ہے۔ امریکا کی برآمدی پابندیوں کے باعث ہواوے چین کی کئی مقامی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے اہم چِپ فراہم کنندہ بن گئی ہے، جن میں ڈیپ سیک بھی شامل ہے۔

ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اب صرف ماڈلز کی تربیت ہی نہیں بلکہ انہیں چلانے اور صارفین تک نتائج پہنچانے کے لیے کمپیوٹنگ صلاحیت کی طلب بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس کے باعث ایسی چِپس کی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

تاہم مصنوعی ذہانت کے لیے جدید چِپس تیار کرنا ایک مشکل اور مہنگا عمل ہے، کیونکہ مقابلے کی صلاحیت رکھنے والی چِپ ڈیزائن کرنے میں کئی سال اور بھاری سرمایہ درکار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی پابندیوں کے باعث چینی ڈیزائنرز کو جدید ٹیکنالوجی آلات تک رسائی میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈیپ سیک نے اے پی آئی سروس ٹاپ اپس کیوں معطل کی؟

رپورٹس کے مطابق ڈیپ سیک اپنی پہلی بڑی سرمایہ کاری کے مرحلے میں 7 ارب ڈالر جمع کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جس کے بعد کمپنی کی مالیت 52 سے 59 ارب ڈالر کے درمیان لگائی جارہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بھارت میں عیسائی برادری ایک بار پھر نشانے پر، چرچ پر حملہ اور توڑ پھوڑ

خواتین کو وراثت سے محروم کرنے والی قبائلی روایات غیر قانونی قرار، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پاکستان کا عالمی مالیاتی منڈیوں کا رخ، یورو بانڈ اور سکوک بانڈز جاری کرنے کا عمل شروع

گھریلو کام، اسپتال اور کارخانوں کے لیے اب روبوٹس کرائے پر بھی دستیاب، جانیے اضافی فوائد

ویڈیو

خیبرپختونخوا حکومت کی اپنے لیے مراعات، نئے قانون میں خاص کیا ہے؟

خیبر پختونخوا اسمبلی ایک دہائی بعد بھی مکمل پیپر لیس کیوں نہ بن سکی؟

سرگودھا میں لاہور کی طرز پر شاندار ترقیاتی کام، شہری وزیراعلیٰ مریم نواز کی خدمات کے معترف

کالم / تجزیہ

سندھ طاس: بھارت کی اسٹریٹیجک مس کیلکولیشن

فیفا فٹبال میں چھپی صدی کی کہانی

ریڈیو کا روشن باب: بھائی لال اور اوم پرکاش