اڈیالہ جیل کے باہر ہونے والے حالیہ واقعات نے ایک مرتبہ پھر پاکستان تحریک انصاف کے سیاسی طرزِ عمل اور تنظیمی نظم و ضبط پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
احتجاج کے دوران کارکنوں کے درمیان دھکم پیل، تلخ کلامی، ہاتھا پائی، کپڑے پھاڑنے اور ہنگامہ آرائی جیسے مناظر اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ جماعت کے اندر اختلافات اور انتشار اب کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
جو جماعت اپنے کارکنوں کو ایک صف میں کھڑا رکھنے میں کامیاب نہ ہو، اس کے سیاسی استحکام کے دعوؤں پر سوال اٹھنا فطری امر ہے۔
اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کارکنان کی وقفے وقفے سے لڑائی جاری 😊 pic.twitter.com/iblJq1wosp
— Shabbir Dar (@ShabbirDar5) July 7, 2026
اڈیالہ جیل کے باہر ہر ہفتے پیش آنے والے واقعات اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ احتجاج کے بجائے اندرونی کشیدگی اور بدنظمی زیادہ نمایاں ہو رہی ہے۔
بار بار سامنے آنے والی گالم گلوچ، دھکم پیل، ہنگامہ آرائی اور اپنے ہی کارکنوں کے درمیان تصادم کو ناقدین پی ٹی آئی کے سیاسی کلچر کا تسلسل قرار دے رہے ہیں۔
ان کے مطابق جب سیاسی تربیت برداشت، نظم و ضبط، مکالمے اور دلیل کے بجائے اشتعال انگیزی، تصادم اور ہجوم کی سیاست پر استوار ہو تو ایسے ہی مناظر جنم لیتے ہیں، جہاں کارکن مخالفین سے پہلے آپس میں دست و گریباں نظر آتے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ کوئی ایک وقتی واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسے سیاسی رویے کی عکاسی ہے جس میں اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کے بجائے ہنگامہ آرائی اور بدتمیزی کو فوقیت دی جاتی ہے۔
ان کے مطابق اڈیالہ جیل کے باہر ہر ہفتے سامنے آنے والے مناظر اب عوام کے لیے ایک معمول بنتے جا رہے ہیں، جہاں سنجیدہ سیاسی سرگرمی کے بجائے نیا تنازع، نئی لڑائی اور نئی ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملتی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر کسی جماعت میں شائستگی، برداشت اور نظم و ضبط کے بجائے بدتمیزی، تضحیک، دھونس اور تصادم کو سیاسی رویے کا حصہ بنا دیا جائے تو اس کے اثرات کارکنوں کے طرزِ عمل میں بھی نمایاں ہوتے ہیں۔
ناقدین کے مطابق جب قیادت واضح حدود متعین نہ کرے تو کارکن بھی ان حدود سے تجاوز کرتے ہیں اور یہی رویہ بار بار عوام کے سامنے آتا ہے۔
پی ٹی آئی نے بدتمیزی اور ہنگامہ آرائی کو سیاسی سرگرمی کا حصہ بنا دیا ہے، جس کے باعث روزانہ یا ہفتہ وار احتجاج سنجیدہ سیاسی جدوجہد کے بجائے ایک تماشے کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
ناقدین کی جانب سے علیمہ خان کے کردار پر بھی تنقید کی گئی اور کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کو صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے مناسب قانونی اور سیاسی اقدامات کرنے چاہییں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہی سیاسی معیار برقرار رہا تو یہ سوال مزید شدت اختیار کرے گا کہ کارکنوں کے طرزِ عمل کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ محض چند کارکنوں کا رویہ نہیں بلکہ ایک ایسی سیاسی سوچ کی عکاسی ہے جس میں کردار کشی، تصادم اور ہنگامہ آرائی کو سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔














