ورلڈ کپ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو سے متعلق حالیہ تنازع ابھی ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ دفاعی چیمپئن ارجنٹینا کی مصر کے خلاف 2-3 کی متنازع فتح نے ایک نئے تنازع کو جنم دے دیا۔
اٹلانٹا میں منگل کو کھیلے گئے پری کوارٹر فائنل میں ارجنٹینا نے 2 گول کے خسارے سے شاندار واپسی کرتے ہوئے مصر کو شکست دی، تاہم میچ کے دوران ویڈیو اسسٹنٹ ریفری یعنی وی اے آر کے ایک غیر معمولی طور پر تاخیر سے آنے والے فیصلے نے سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ارجنٹینا کو جتوانے کے لیے مصر سے ناانصافی کی گئی، کوچ حسام حسن
اس فیصلے کے تحت مصر کا دوسرا گول منسوخ کر دیا گیا، جس کے بعد میچ کا رخ تبدیل ہوا اور ارجنٹینا کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایک روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے فیفا سے درخواست کی تھی کہ امریکی فارورڈ فولارین بالوگن کی ریڈ کارڈ کے باعث ایک میچ کی معطلی ختم کی جائے، جسے فیفا نے قبول کر لیا تھا۔
Egypt head coach Hossam Hassan speaking to beIN Sports, via France24:
“I told the referee that what was happening wasn’t fair. It’s an undeserved victory for Argentina.
“Once I’m back in my country and at home. I’ll never watch the World Cup again, because there’s no justice in… pic.twitter.com/TnptBARAzz
— The Athletic | Football (@TheAthleticFC) July 7, 2026
تاہم بالوگن کی واپسی بھی امریکا کو فائدہ نہ دے سکی اور بیلجیم نے میزبان ٹیم کو 1-4 سے شکست دے کر ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا۔
بالوگن معاملے میں تنقید کا رخ ٹرمپ اور فیفا دونوں کی جانب تھا، لیکن مصر کی ناراضی مکمل طور پر فیفا پر مرکوز رہی، مصر کے ہیڈ کوچ حسام حسن نے الزام عائد کیا کہ فیفا ’عالمی چیمپئن کو ہر قیمت پر ٹورنامنٹ میں برقرار رکھنا چاہتی تھی۔‘
میچ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حسام حسن نے کہا کہ ممکن ہے میچ حکام پر دباؤ ڈالا گیا ہو تاکہ ارجنٹینا کے اسٹار فٹبالر لیونل میسی ٹورنامنٹ میں برقرار رہیں۔
’شاید وہ چاہتے تھے کہ میسی ٹائٹل کی دوڑ میں شامل رہیں، فٹبال میں بعض اوقات تکنیکی معاملات سے ہٹ کر بھی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں اور عالمی چیمپیئنز کو ہر سطح پر حمایت حاصل رہی۔‘
🚨🇦🇷🇪🇬 — Egypt – Argentina:
Referee and VAR miss Foul by Argentina that led to their 3rd Goal. https://t.co/EGAZFHQj1E pic.twitter.com/JFGkktsvmw
— Pamphlets (@PamphletsY) July 7, 2026
کھیل اور سیاست کے تعلق پر تبصرہ کرتے ہوئے شنگھائی کی ایملیون بزنس اسکول کے پروفیسر اور کھیلوں کے ماہر سائمن چیڈوک نے کہا کہ بالوگن تنازع کے بعد اب یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ کون سے فیصلے واقعی غیر جانبدار ہیں اور کن پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ارجنٹینا کے صدر حاویئر میلی امریکی صدر ٹرمپ کے قریبی اتحادی اور حامی سمجھے جاتے ہیں، جبکہ حسام حسن کی فلسطین، خصوصاً غزہ کے عوام کے حق میں کھلی حمایت بھی بعض حلقوں میں تعصب کا باعث بن سکتی تھی۔
مزید پڑھیں: ’دھاندلی کے باوجود امریکا ہار گیا‘، فیفا ورلڈ کپ میں بیلجیئم کی جیت پر سوشل میڈیا میمز سے بھر گیا
حسام حسن نے میچ سے قبل اپنی پریس کانفرنس میں فلسطینی عوام، خاص طور پر غزہ کے محصور شہریوں کے حق میں جذباتی اپیل بھی کی تھی۔
سائمن چیڈوک کے مطابق مصر کے دوسرے گول کی منسوخی اور اس کے بعد ہونے والے فیصلوں نے کئی سوالات کو جنم دیا۔
You made us all proud team Egypt 🇪🇬.
Got clearly cheated out of a goal, and overrun by FIFA corruption.
But hold your heads high like Coach Hossam held the flag of Palestine 🇵🇸.
They can’t VAR this. pic.twitter.com/6fBU3EDfP8
— Dr. Omar Suleiman (@omarsuleiman) July 7, 2026
ان کے بقول اگر واقعی فاؤل ہوا تھا تو ریفری نے اسے کھیل کے دوران فوری طور پر کیوں نہیں دیکھا اور وی اے آر نے صرف گول ہونے کے بعد ہی اس کا جائزہ کیوں لیا؟
انہوں نے مزید کہا کہ ارجنٹینا کے ایک گول سے قبل بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا جسے فاؤل قرار دیا جا سکتا تھا، لیکن وہاں ریفری اور وی اے آر نے مداخلت نہیں کی، جس سے ریفرینگ کے معیار میں عدم یکسانیت کا تاثر پیدا ہوا۔
Referee Didn't Give Egypt a Penalty for this…
FIFA IS RIGGED!
pic.twitter.com/8WBt6u3LOa— Jackson Hinkle 🇺🇸 (@jacksonhinkle) July 7, 2026
دوسری جانب فٹبال تجزیہ کار علی الغرنی نے کہا کہ مصر کے ساتھ ’ڈکیتی‘ ہونے کی بات شاید مبالغہ آرائی ہو، تاہم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ تمام متنازع فیصلے ارجنٹینا کے حق میں گئے۔
ان کے مطابق مصر کا منسوخ کیا گیا گول فاؤل کی بنیاد پر کالعدم قرار دینا قوانین کے مطابق تھا، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ وی اے آر کو کسی گول کی جانچ کے لیے کھیل میں کتنی دیر پیچھے تک جانا چاہیے۔
مزید پڑھیں: ریڈ کارڈ سے صدارتی فون کال تک، فیفا ورلڈ کپ کا انوکھا تنازع
انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر یہی گول ارجنٹینا نے کیا ہوتا تو کیا وی اے آر اسی طرح مداخلت کرتا، ان کے بقول اس کا امکان بہت کم دکھائی دیتا ہے۔
علی الغرنی نے مزید کہا کہ ارجنٹینا کے تیسرے گول سے قبل مصری اسٹار محمد صلاح پر بھی بظاہر فاؤل ہوا تھا، لیکن اس موقع پر وی اے آر نے کوئی مداخلت نہیں کی، جس سے مصری شائقین کی ناراضی مزید بڑھ گئی۔
2 leg jumping tackle on Salah's shin, with clear intent to hurt him. Any other team that's a straight red, but for Argentina it wasn't even a yellow card.
Argentina recieved 0 yellow cards, whole Egypt 4 yellows and 1 red to the staffpic.twitter.com/QKalI4KWFU
— Preeti (@MadridPreeti) July 7, 2026
سائمن چیڈوک کا کہنا تھا کہ وی اے آر نظام پر عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ شائقین اور ناظرین کو ریفری اور وی اے آر حکام کی سوچ اور فیصلہ سازی کا طریقہ بھی سننے کا موقع دیا جائے تاکہ ہر فیصلے کی بنیاد واضح ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ مصری کھلاڑیوں کو جذبات پر قابو رکھنا چاہیے تھا، لیکن وی اے آر کے فیصلے نے ان میں ناانصافی کا احساس پیدا کیا۔
مزید پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ 2026 سے متعلق سمپسنز کی پیشگوئی غلط ثابت ہوگئی
ان کے مطابق یہ ٹیکنالوجی شکوک کم کرنے اور یکساں فیصلے یقینی بنانے کے لیے متعارف کرائی گئی تھی، مگر اس میچ میں اس کے استعمال نے مزید تنازعات کو جنم دیا۔
تاہم سائمن چیڈوک نے ان افواہوں کو مسترد کیا کہ میچ میں دانستہ دھاندلی کر کے ارجنٹینا یا لیونل میسی کو فائدہ پہنچایا گیا۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ میسی کی عالمی مقبولیت غیر معمولی ہے اور وہ ایسے اسٹار ہیں جن کی موجودگی ٹورنامنٹ کے لیے تجارتی اور عوامی دلچسپی کے اعتبار سے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔














