ارجنٹینا کی مصر کیخلاف جیت پر سوالات، متنازع وی اے آر فیصلے پر شدید تنقید

بدھ 8 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ورلڈ کپ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو سے متعلق حالیہ تنازع ابھی ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ دفاعی چیمپئن ارجنٹینا کی مصر کے خلاف 2-3 کی متنازع فتح نے ایک نئے تنازع کو جنم دے دیا۔

اٹلانٹا میں منگل کو کھیلے گئے پری کوارٹر فائنل میں ارجنٹینا نے 2 گول کے خسارے سے شاندار واپسی کرتے ہوئے مصر کو شکست دی، تاہم میچ کے دوران ویڈیو اسسٹنٹ ریفری یعنی وی اے آر کے ایک غیر معمولی طور پر تاخیر سے آنے والے فیصلے نے سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ارجنٹینا کو جتوانے کے لیے مصر سے ناانصافی کی گئی، کوچ حسام حسن

اس فیصلے کے تحت مصر کا دوسرا گول منسوخ کر دیا گیا، جس کے بعد میچ کا رخ تبدیل ہوا اور ارجنٹینا کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔

یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایک روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے فیفا سے درخواست کی تھی کہ امریکی فارورڈ فولارین بالوگن کی ریڈ کارڈ کے باعث ایک میچ کی معطلی ختم کی جائے، جسے فیفا نے قبول کر لیا تھا۔

تاہم بالوگن کی واپسی بھی امریکا کو فائدہ نہ دے سکی اور بیلجیم نے میزبان ٹیم کو 1-4 سے شکست دے کر ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا۔

بالوگن معاملے میں تنقید کا رخ ٹرمپ اور فیفا دونوں کی جانب تھا، لیکن مصر کی ناراضی مکمل طور پر فیفا پر مرکوز رہی، مصر کے ہیڈ کوچ حسام حسن نے الزام عائد کیا کہ فیفا ’عالمی چیمپئن کو ہر قیمت پر ٹورنامنٹ میں برقرار رکھنا چاہتی تھی۔‘

مزید پڑھیں:فٹبال ورلڈ کپ: 2 گول کے خسارے کے باوجود ارجنٹینا کا آخری لمحات میں کم بیک، مصر کو ہراکر کوارٹر فائنل میں داخل

میچ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حسام حسن نے کہا کہ ممکن ہے میچ حکام پر دباؤ ڈالا گیا ہو تاکہ ارجنٹینا کے اسٹار فٹبالر لیونل میسی ٹورنامنٹ میں برقرار رہیں۔

’شاید وہ چاہتے تھے کہ میسی ٹائٹل کی دوڑ میں شامل رہیں، فٹبال میں بعض اوقات تکنیکی معاملات سے ہٹ کر بھی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں اور عالمی چیمپیئنز کو ہر سطح پر حمایت حاصل رہی۔‘

کھیل اور سیاست کے تعلق پر تبصرہ کرتے ہوئے شنگھائی کی ایملیون بزنس اسکول کے پروفیسر اور کھیلوں کے ماہر سائمن چیڈوک نے کہا کہ بالوگن تنازع کے بعد اب یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ کون سے فیصلے واقعی غیر جانبدار ہیں اور کن پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ارجنٹینا کے صدر حاویئر میلی امریکی صدر ٹرمپ کے قریبی اتحادی اور حامی سمجھے جاتے ہیں، جبکہ حسام حسن کی فلسطین، خصوصاً غزہ کے عوام کے حق میں کھلی حمایت بھی بعض حلقوں میں تعصب کا باعث بن سکتی تھی۔

مزید پڑھیں: ’دھاندلی کے باوجود امریکا ہار گیا‘، فیفا ورلڈ کپ میں بیلجیئم کی جیت پر سوشل میڈیا میمز سے بھر گیا

حسام حسن نے میچ سے قبل اپنی پریس کانفرنس میں فلسطینی عوام، خاص طور پر غزہ کے محصور شہریوں کے حق میں جذباتی اپیل بھی کی تھی۔

سائمن چیڈوک کے مطابق مصر کے دوسرے گول کی منسوخی اور اس کے بعد ہونے والے فیصلوں نے کئی سوالات کو جنم دیا۔

ان کے بقول اگر واقعی فاؤل ہوا تھا تو ریفری نے اسے کھیل کے دوران فوری طور پر کیوں نہیں دیکھا اور وی اے آر نے صرف گول ہونے کے بعد ہی اس کا جائزہ کیوں لیا؟

انہوں نے مزید کہا کہ ارجنٹینا کے ایک گول سے قبل بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا جسے فاؤل قرار دیا جا سکتا تھا، لیکن وہاں ریفری اور وی اے آر نے مداخلت نہیں کی، جس سے ریفرینگ کے معیار میں عدم یکسانیت کا تاثر پیدا ہوا۔

دوسری جانب فٹبال تجزیہ کار علی الغرنی نے کہا کہ مصر کے ساتھ ’ڈکیتی‘ ہونے کی بات شاید مبالغہ آرائی ہو، تاہم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ تمام متنازع فیصلے ارجنٹینا کے حق میں گئے۔

ان کے مطابق مصر کا منسوخ کیا گیا گول فاؤل کی بنیاد پر کالعدم قرار دینا قوانین کے مطابق تھا، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ وی اے آر کو کسی گول کی جانچ کے لیے کھیل میں کتنی دیر پیچھے تک جانا چاہیے۔

مزید پڑھیں: ریڈ کارڈ سے صدارتی فون کال تک، فیفا ورلڈ کپ کا انوکھا تنازع

انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر یہی گول ارجنٹینا نے کیا ہوتا تو کیا وی اے آر اسی طرح مداخلت کرتا، ان کے بقول اس کا امکان بہت کم دکھائی دیتا ہے۔

علی الغرنی نے مزید کہا کہ ارجنٹینا کے تیسرے گول سے قبل مصری اسٹار محمد صلاح پر بھی بظاہر فاؤل ہوا تھا، لیکن اس موقع پر وی اے آر نے کوئی مداخلت نہیں کی، جس سے مصری شائقین کی ناراضی مزید بڑھ گئی۔

سائمن چیڈوک کا کہنا تھا کہ وی اے آر نظام پر عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ شائقین اور ناظرین کو ریفری اور وی اے آر حکام کی سوچ اور فیصلہ سازی کا طریقہ بھی سننے کا موقع دیا جائے تاکہ ہر فیصلے کی بنیاد واضح ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ مصری کھلاڑیوں کو جذبات پر قابو رکھنا چاہیے تھا، لیکن وی اے آر کے فیصلے نے ان میں ناانصافی کا احساس پیدا کیا۔

مزید پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ 2026 سے متعلق سمپسنز کی پیشگوئی غلط ثابت ہوگئی

ان کے مطابق یہ ٹیکنالوجی شکوک کم کرنے اور یکساں فیصلے یقینی بنانے کے لیے متعارف کرائی گئی تھی، مگر اس میچ میں اس کے استعمال نے مزید تنازعات کو جنم دیا۔

تاہم سائمن چیڈوک نے ان افواہوں کو مسترد کیا کہ میچ میں دانستہ دھاندلی کر کے ارجنٹینا یا لیونل میسی کو فائدہ پہنچایا گیا۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ میسی کی عالمی مقبولیت غیر معمولی ہے اور وہ ایسے اسٹار ہیں جن کی موجودگی ٹورنامنٹ کے لیے تجارتی اور عوامی دلچسپی کے اعتبار سے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp