ورلڈ کپ کوارٹر فائنل میں فرانس اور مراکش آمنے سامنے، 2022 کے سیمی فائنل کا بدلہ لینے کا موقع

بدھ 8 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے کوارٹر فائنل میں دفاعی چیمپئن فرانس اور افریقی فٹبال کی ابھرتی ہوئی طاقت مراکش ایک بار پھر آمنے سامنے ہوں گے۔ دونوں ٹیموں کا یہ مقابلہ 2022 کے عالمی کپ سیمی فائنل کی یادیں تازہ کر دے گا، جہاں فرانس نے مراکش کو شکست دے کر فائنل میں جگہ بنائی تھی۔ اس بار مراکش بدلہ لینے اور تاریخ رقم کرنے کے عزم کے ساتھ میدان میں اترے گا، جبکہ فرانس کی نظریں ایک بار پھر ٹائٹل کے حصول پر ہیں۔

فرانس اور مراکش کا ورلڈ کپ کوارٹر فائنل: اہم نکات، جو جاننا ضروری ہیں

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے کوارٹر فائنل میں فرانس کا مقابلہ مراکش سے ہوگا۔ دونوں ٹیمیں جمعرات کو امریکا کے شہر بوسٹن کے قریب فاکسبورو اسٹیڈیم میں مدمقابل ہوں گی۔

یہ مقابلہ 2022 کے عالمی کپ سیمی فائنل کی یاد دلائے گا، جہاں فرانس نے مراکش کو 2-0 سے شکست دے کر فائنل میں جگہ بنائی تھی۔

فرانس اس ٹورنامنٹ میں اب تک سب سے متاثر کن ٹیموں میں شامل رہا ہے اور شاندار جارحانہ کھیل کے ذریعے ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچا۔ تاہم دوسرے ناک آؤٹ مرحلے میں اسے پیراگوئے کے خلاف سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، جہاں کپتان کیلین مبابے کی پنالٹی کے ذریعے فرانس نے 1-0 سے کامیابی حاصل کی۔

دوسری جانب مراکش نے آخری 16 کے میچ میں کینیڈا کو 3-0 سے شکست دے کر اپنی طاقت کا بھرپور اظہار کیا۔ مراکش نے گروپ مرحلے میں بھی شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے برازیل کے خلاف ڈرا کھیلا جبکہ ہیٹی اور اسکاٹ لینڈ کو آسانی سے شکست دی۔

یہ صورتحال فرانس اور مراکش کے درمیان ایک سنسنی خیز کوارٹر فائنل کی بنیاد بن چکی ہے۔

فرانس اور مراکش کی کشیدہ تاریخ

فرانس نے 2022 کے قطر ورلڈ کپ میں مراکش کے تاریخی سفر کو سیمی فائنل میں 2-0 سے شکست دے کر روکا تھا، تاہم بعد میں فائنل میں ارجنٹائن کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

4 سال بعد بھی فرانس کو اس مقابلے میں فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے، لیکن مراکش اب عالمی فٹبال میں ایک مضبوط قوت کے طور پر اپنی شناخت بنا چکا ہے۔

مراکش کے کوچ محمد اوہبی نے کینیڈا کے خلاف فتح کے بعد کہا ’آج ہم محض حیران کن کارکردگی دکھانے والی ٹیم نہیں رہے، بلکہ یہ ہمارے لیے باعثِ فخر ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ صرف آغاز ہے اور امید ہے کہ مراکش آنے والے برسوں میں بھی اسی طرح کامیابیاں حاصل کرتا رہے گا۔

تاہم مراکش کے کوچ کا کہنا ہے کہ فرانس سے 2022 کی شکست کا بدلہ لینا ان کی ٹیم کی واحد ترجیح نہیں۔ ان کے مطابق مقصد زیادہ سے زیادہ آگے بڑھنا اور اپنے عوام کو فخر کا موقع دینا ہے۔

اس کے باوجود مراکش کے لیے فرانس کو شکست دینا ایک اضافی خوشی کا باعث ہوگا، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ فرانس ماضی میں مراکش پر نوآبادیاتی حکمرانی کر چکا ہے۔ دونوں ممالک کی تاریخ پیچیدہ تعلقات کی حامل ہے، جبکہ فرانس میں مراکشی نژاد افراد کی تعداد 7 لاکھ سے زیادہ ہے۔

مبابے کو روکنا مراکش کے لیے بڑا چیلنج

فرانس کے پاس حملہ آور کھلاڑیوں کی ایک شاندار کھیپ موجود ہے۔ کیلین مبابے 2026 ورلڈ کپ میں اب تک 7 گول کر چکے ہیں اور گولڈن بوٹ کی دوڑ میں ارجنٹائن کے لیونل میسی اور ناروے کے ارلنگ ہالینڈ کے ساتھ مشترکہ طور پر سرفہرست ہیں۔

فرانس کے پاس موجودہ بیلن ڈی اور فاتح عثمان دمبیلے بھی موجود ہیں، جنہوں نے گروپ مرحلے میں ناروے کے خلاف ہیٹ ٹرک کی تھی، جبکہ ٹیم میں دیگر عالمی معیار کے حملہ آور کھلاڑی بھی شامل ہیں۔

تاہم مراکش ایک منظم، مضبوط دفاعی اور نظم و ضبط رکھنے والی ٹیم ہے، جو فرانس کے حملوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

مراکش کو گول کیپر یاسین بونو پر اعتماد ہے، جو عالمی کپ میں اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے مشہور ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کے بہترین رائٹ بیکس میں شمار ہونے والے اشرف حکیمی اور مضبوط دفاعی لائن بھی مراکش کی طاقت ہیں۔

فرانس نے ثابت کیا کہ وہ صرف حملہ کرنا نہیں جانتا

عالمی کپ کے پہلے 4 میچوں میں فرانس نے اپنے جارحانہ کھیل سے شائقین کو متاثر کیا، تاہم پیراگوئے کے خلاف میچ میں ٹیم نے ثابت کیا کہ وہ سخت مقابلوں میں بھی کامیابی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

فرانس نے پیراگوئے کے سخت اور جسمانی کھیل کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور 90 منٹ میں کامیابی حاصل کی۔

فرانس کے کھلاڑی ریان شرکی نے کہا ’ ہم نے سب کو یاد دلا دیا کہ فرانس صرف خوبصورت فٹبال کھیلنے والی ٹیم نہیں ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ جو بھی ٹیم ہمارے خلاف سخت مقابلہ چاہتی ہے، اسے اسی مزاحمت کا سامنا کرنا ہوگا۔

مراکش کے نئے کوچ کی حکمت عملی کامیاب

2022 کے ورلڈ کپ میں مراکش نے کوچ کی تبدیلی کے باوجود سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی تھی، اور 2026 کے عالمی کپ سے قبل بھی ٹیم نے کوچ تبدیل کیا۔

نئے کوچ محمد اوہبی نے سابق کوچ ولید رگراگی کی جگہ سنبھالی اور فوری طور پر مثبت نتائج دینا شروع کر دیے۔

انہوں نے ٹیم میں کئی تبدیلیاں کیں، جن میں روایتی سینٹر فارورڈ کے بجائے اسماعیل صیباری کو ’فالس نائن‘ کے طور پر استعمال کرنا اور مڈفیلڈر عزالدین اوناحی کو زیادہ جارحانہ کردار دینا شامل ہے۔

یہ حکمت عملی فوری طور پر کامیاب ہوئی اور اوناحی نے کینیڈا کے خلاف 2 گول کیے، جس کے بعد مراکش کوارٹر فائنل میں پہنچنے والی پہلی ٹیم بن گئی۔

فرانس کو معطلی کا خدشہ

فرانس کے لیے ایک تشویش یہ بھی ہے کہ بریڈلی بارکولا، مانو کونے اور مائیکل اولیز کو گزشتہ میچ میں ییلو کارڈ دکھائے گئے، اور اگر وہ مراکش کے خلاف بھی کارڈ حاصل کرتے ہیں تو ممکنہ سیمی فائنل سے محروم ہو سکتے ہیں۔

فرانس کے کوچ دیدیے دیشاں بارکولا کی جگہ دوسرے کھلاڑیوں کو شامل کر سکتے ہیں، لیکن مڈفیلڈ میں کونے کی غیر موجودگی ٹیم کے لیے مسئلہ بن سکتی ہے۔

مائیکل اولیز کی معطلی فرانس کے لیے سب سے بڑا نقصان ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ وہ اس ٹورنامنٹ میں ٹیم کے بہترین کھلاڑیوں میں شامل رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں تاریخی اضافہ، وجوہات کیا ہیں؟

پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں پہلی جوڈیشل کمیٹی قائم، یہ کیسے کام کرے گی اور اس کے اختیارات کیا ہوں گے؟

پیپلز پارٹی کا 40 برس بعد مینار پاکستان پر جلسے کا اعلان، بلاول بھٹو کے لیے یہ سیاسی امتحان کتنا اہم؟

ایرانی حکومت ہوش مندی سے کام لے ورنہ پورا خطہ پہلے سے زیادہ امریکی گرفت میں چلا جائےگا، منصور جعفر

پاکستان اور کشمیر کو دنیا کی کوئی طاقت الگ نہیں کر سکتی، فرزانہ یعقوب

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!