’دلہا بکتا ہے بولو خریدوگے‘: بھارت میں جہیز کے نام پر قتل کیوں عام ہیں؟ شرمناک وجوہات

جمعرات 9 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت میں جہیز پر قانونی پابندی کے باوجود جہیز کے تنازعات اور خواتین کے قتل کے واقعات آج بھی تشویشناک حد تک جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کے شہر پونا کی ملکہ حسن کی پراسرار موت، مزید تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے

ایک نئی تحقیق کے مطابق اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جہیز کا نظام ختم ہونے کے بجائے وقت کے ساتھ اپنی شکل بدل چکا ہے اور اب بھی ذات پات، سماجی حیثیت، مرد کی معاشی قدر اور خاندانی وقار سے جڑا ہوا ہے۔

بھارت میں سنہ 1961 میں جہیز پر پابندی عائد کر دی گئی تھی تاہم عملی طور پر دلہے کے خاندان کی جانب سے جہیز کے مطالبات اب بھی وسیع پیمانے پر کیے جاتے ہیں۔ اگر دلہن کا خاندان ان مطالبات کو پورا نہ کر سکے تو خواتین کو ہراسانی، تشدد، گھریلو بدسلوکی اور بعض اوقات قتل جیسے سنگین جرائم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کنگز کالج لندن کی محقق ڈاکٹر کرتی کپیلا کی نئی تحقیق کے مطابق گزشتہ چند دہائیوں میں جہیز کے باعث ہونے والی اموات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں سنہ 2022 میں جہیز سے متعلق 6,516 اموات ریکارڈ کی گئیں جبکہ 1988 میں یہ تعداد 1,841 تھی۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں جہیز کو ایک مذہبی یا سماجی رسم کے طور پر دیکھا جاتا تھا جس کا مقصد دلہے کے خاندان کو تحفہ دینا سمجھا جاتا تھا۔ تاہم قانونی پابندی کے بعد یہ روایت ایک باقاعدہ مالی مطالبے میں تبدیل ہوگئی جہاں دلہے کی تعلیم، آمدنی، پیشہ اور ذات پات کی بنیاد پر اس کی ’قیمت‘ مقرر کی جانے لگی۔

مزید پڑھیے: ’میں پھنس گئی ہوں، بس تم مت آنا‘، 24 سالہ دلہن کی موت نے بھارت کو ہلا دیا

جہیز نہ دے سکنے والی مائیں اکثر یہ دکھ جھیلتی ہیں۔

ڈاکٹر کرتی کپیلا کے مطابق موجودہ دور میں جہیز کا نظام دراصل ’مرد بچے کی معاشی اہمیت پر اضافی قیمت‘ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ان کے مطابق یہی سوچ بعض خاندانوں میں لڑکیوں کو معاشی بوجھ سمجھنے کا باعث بنتی ہے جس کے نتیجے میں جنس کی بنیاد پر اسقاط حمل جیسے مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جہیز کے باعث ہونے والی ہلاکتوں پر عوامی ردعمل پہلے کی نسبت بہت کم ہو گیا ہے۔ سنہ 1970 اور سنہ 1980 کی دہائی میں ایسے واقعات کے خلاف خواتین کے حقوق کی تنظیموں کی جانب سے بڑے پیمانے پر احتجاج دیکھنے میں آیا تھا خصوصاً ان واقعات پر جن میں خواتین کو منصوبہ بندی کے تحت باورچی خانے میں آگ لگا کر قتل کیا جاتا تھا۔

تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ایسے کئی واقعات میں خودکشی کا تاثر سامنے آنے لگا جہاں مسلسل ہراسانی اور تشدد کے بعد خواتین اپنی جان لے لیتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق اس تبدیلی نے اجتماعی غم و غصے کو گھریلو خاموشی اور سماجی شرمندگی میں بدل دیا۔

ڈاکٹر کرتی کپیلا کا کہنا ہے کہ اصل سوال صرف یہ نہیں کہ جہیز مخالف قوانین مؤثر کیوں ثابت نہ ہو سکے بلکہ یہ بھی ہے کہ ایسے ہولناک واقعات اب معاشرے میں پہلے جیسا اجتماعی ردعمل اور غم و غصہ کیوں پیدا نہیں کرتے۔

مزید پڑھیں: ’فورچیونر اور 51 لاکھ مانگ رہے تھے‘، جہیز کے مطالبات نے ایک اور جان لے لی

ان کے مطابق جب تک جہیز سے جڑی سماجی اور معاشی سوچ تبدیل نہیں ہوگی صرف قانون سازی اس مسئلے کا مکمل حل ثابت نہیں ہو سکتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کراچی رینجرز ہیڈکوارٹر حملہ: پولیس نے جُرم کی منصوبہ بندی اور سہولت کار نیٹ ورک کی تفصیلات جاری کر دیں

جج کے ڈیسک پر کالا جادو کرنے والی 65 سالہ خاتون کمرہ عدالت سے گرفتار

خوابوں کا تعاقب مہنگا پڑ گیا، سوئٹزرلینڈ میں کروڑوں کی نوکری چھوڑنے والا نوجوان پچھتانے لگا

’شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن‘ یہ راز تنخواہ داروں کی سمجھ سے بالاتر ہے، رانا ثنا اللہ خان

سالگرہ کے دن موت کا تحفہ: پولیس اہلکار نے اہلیہ کو چوراہے پر قتل کر دیا

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم