شدید گرمی میں کیا کھانا اور پینا چاہیے؟ ماہرین نے ہیٹ ویو کے دوران بہترین خوراک بتا دی

جمعرات 9 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شدید گرمی کی لہر کے دوران اکثر لوگوں کی بھوک کم ہو جاتی ہے اور باورچی خانے میں کھڑے ہو کر کھانا پکانا بھی مشکل محسوس ہوتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہیٹ ویو کے دوران خوراک میں تبدیلی کرنی چاہیے اور کیا جسم کو زیادہ پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے؟

یہ بھی پڑھیں: شدید گرمی خواتین کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ کیوں متاثر کرتی ہے؟

غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید گرمی کے دوران جسم کو متوازن غذا، مناسب مقدار میں پانی اور ایسی غذاؤں کی ضرورت ہوتی ہے جو جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے ساتھ توانائی بھی فراہم کریں۔

ان کے مطابق ہیٹ ویو میں زیادہ پروٹین کھانے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ پانی سے بھرپور غذائیں اور ہلکی خوراک زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں۔

کیا گرمی میں زیادہ پروٹین ضروری ہے؟

آکسفورڈ بروکس یونیورسٹی کی سینیئر لیکچرر برائے غذائیت ڈاکٹر ایشلنگ ڈیلی کے مطابق شدید گرمی کے دوران اضافی پروٹین کھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔

انہوں نے بتایا کہ گوشت، مرغی اور مچھلی جیسے پروٹین سے بھرپور کھانے ہضم کرنے کے لیے جسم کو زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے جس کے نتیجے میں جسم مزید حرارت پیدا کرتا ہے اسی لیے شدید گرمی میں بھاری گوشت یا اسٹیک کھانے سے جسم میں گرمی کا احساس بڑھ سکتا ہے۔

اگرچہ پروٹین جسم کے لیے ضروری ہے تاہم گرمی میں اس کے لیے ہلکے ذرائع کا انتخاب بہتر رہتا ہے۔

مزید پڑھیے: ملک کے بیشتر حصوں میں گرمی اور حبس برقرار، بالائی علاقوں میں بارش کا امکان

ماہرین کے مطابق دالیں، لوبیا، چنے، خشک میوہ جات، دودھ، پنیر، دہی، انڈے، ٹوفو اور پہلے سے پکا ہوا چکن یا گوشت مناسب مقدار میں پروٹین فراہم کرتے ہیں جبکہ یہ نسبتاً ہلکے بھی ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر ڈیلی کا کہنا ہے کہ پھلیوں کے سلاد، دہی، انڈے، پہلے سے پکے ہوئے گوشت اور یونانی دہی کو فروزن فروٹ کے ساتھ استعمال کرنا گرمی کے موسم میں ایک متوازن اور صحت بخش انتخاب ہو سکتا ہے۔

اسی طرح پھل، سبزیاں، دہی اور مونگ پھلی کے مکھن سے تیار کی گئی اسموتھی بھی غذائیت، پروٹین اور پانی کی کمی پوری کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ اگر گوشت پکانا ہو تو روایتی اوون کے بجائے ایئر فرائر یا سلو ککر استعمال کیے جا سکتے ہیں کیونکہ یہ کم حرارت خارج کرتے ہیں اور باورچی خانے کو زیادہ گرم نہیں ہونے دیتے۔

صرف پانی نہ پئیں، پانی والی غذائیں بھی کھائیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید گرمی میں پسینے کے ذریعے جسم سے پانی اور نمکیات خارج ہوتے رہتے ہیں اس لیے پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) سے بچنا بے حد ضروری ہے۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ: گرمی کا توڑ کابلی آئس کریم کی خاص بات کیا ہے؟

این ایچ ایس کے مطابق عام حالات میں روزانہ 6 سے 8 گلاس پانی پینے کی سفارش کی جاتی ہے تاہم شدید گرمی میں جسم کو اس سے کہیں زیادہ پانی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

یونیورسٹی آف ریڈنگ کی فوڈ اینڈ نیوٹریشن سائنسدان ڈاکٹر شارلٹ ملز کے مطابق ہر شخص کی پانی کی ضرورت مختلف ہوتی ہے جو عمر، جسمانی وزن، صحت اور جسمانی سرگرمیوں پر منحصر ہوتی ہے۔

ان کے مطابق صرف پانی پینا ہی کافی نہیں بلکہ ایسی غذائیں بھی کھانی چاہییں جن میں پانی کی مقدار زیادہ ہو۔

غذائی ماہرین کے مطابق کھیرے، ٹماٹر، سلاد کے پتے، اجوائن، تربوز اور اسٹرابیری میں 90 فیصد سے زائد پانی موجود ہوتا ہے جبکہ سیب، ناشپاتی، انگور، مالٹے، انناس، گاجر اور پکی ہوئی بروکلی میں بھی پانی کی مقدار 80 سے 89 فیصد تک ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: شدید گرمی میں گھر اور خود کو ٹھنڈا رکھنے کے 6 مؤثر طریقے

اس کے برعکس بسکٹ، فاسٹ فوڈ اور زیادہ چکنائی والی غذاؤں میں پانی کی مقدار نہایت کم ہوتی ہے اس لیے شدید گرمی میں ان کے بجائے تازہ پھل اور سبزیاں زیادہ فائدہ مند سمجھی جاتی ہیں۔

پانی کی کمی کیسے پہچانیں؟

ماہرین کے مطابق جسم میں پانی کی مناسب مقدار جانچنے کا ایک آسان طریقہ پیشاب کے رنگ کا مشاہدہ کرنا ہے۔

اگر پیشاب ہلکے زرد رنگ کا ہو تو یہ مناسب ہائیڈریشن کی علامت ہے، جبکہ گہرا زرد، نارنجی یا بھورا رنگ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جسم میں پانی کی کمی ہو رہی ہے اور فوری طور پر زیادہ سیال مشروبات پینے کی ضرورت ہے۔

کیا گرم چائے یا کافی واقعی ٹھنڈک پہنچاتی ہے؟

یہ سن کر حیرت ہو سکتی ہے لیکن ماہرین کے مطابق گرم یا نیم گرم مشروبات بھی جسم کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

ڈاکٹر ایشلنگ ڈیلی کے مطابق گرم مشروب پینے سے جسم زیادہ پسینہ خارج کرتا ہے جس کے نتیجے میں جسم کی حرارت کم ہونے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے برعکس ٹھنڈے مشروبات کے بعد جسم نسبتاً کم پسینہ پیدا کرتا ہے کیونکہ وہ اندرونی درجہ حرارت کو متوازن رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: ہیٹ ویوز کے دوران پالتو جانوروں کو موسمی اثرات سے کیسے بچایا جائے؟

البتہ انہوں نے واضح کیا کہ اصل مقصد جسم میں پانی کی کمی پوری کرنا ہے اس لیے مشروب ٹھنڈا ہو یا گرم، دونوں فائدہ دے سکتے ہیں بشرطیکہ مناسب مقدار میں سیال استعمال کیے جائیں۔

کافی اور چائے کتنی پینی چاہیے؟

ماہرین کے مطابق معتدل مقدار میں چائے یا کافی پینے سے جسم میں پانی کی کمی نہیں ہوتی تاہم کیفین کی زیادہ مقدار پیشاب بڑھا سکتی ہے جس سے ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

ڈاکٹر ڈیلی کا کہنا ہے کہ روزانہ ایک یا 2 کپ کافی عام طور پر نقصان دہ نہیں لیکن 5 یا 6 کپ کافی پینے سے جسم میں پانی کی کمی پیدا ہو سکتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ الکحل جسم سے پانی خارج کرتی ہے اس لیے شدید گرمی میں اس سے حتیٰ الامکان پرہیز کرنا چاہیے۔

گرمی میں کھانے کا وقت بھی بدلیں

ماہرین کے مطابق شدید گرمی کے دوران کھانے کے اوقات میں معمولی تبدیلی بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جنوبی یورپی ممالک کی طرح صبح جلدی ناشتہ، دوپہر کے شدید گرم اوقات میں آرام، اور رات کو نسبتاً دیر سے ہلکا کھانا کھانے کی عادت جسم پر گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

مزید پڑھیے: شدید گرمی کی لہر، جگن کاظم کی عوام سے بے زبان جانوروں کی حفاظت کی اپیل

غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیٹ ویو کے دوران سب سے اہم چیز جسم کو پانی کی کمی سے محفوظ رکھنا، ہلکی اور متوازن غذا کھانا، اور تازہ پھلوں و سبزیوں کو روزمرہ خوراک کا حصہ بنانا ہے تاکہ جسم شدید گرمی کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp