خبر کی تلاش میں موت کے سائے تک

جمعہ 10 جولائی 2026
author image

ذاکر بلتستانی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چند لمحوں کے لیے محمد حسین آزاد کو لگا کہ شاید وہ زندہ واپس نہیں لوٹ سکیں گے۔ سیاچن کے قریب گیاری سیکٹر میں برفانی تودے کے سانحے کی کوریج کے دوران وہ دیگر صحافیوں کے ساتھ متاثرہ علاقے میں موجود تھے کہ اچانک ایک برفانی ریلا ان کی سمت بڑھنے لگا۔ شدید برفانی گرد و غبار نے فضا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور تقریباً دس منٹ تک کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

“اس لمحے لگا کہ شاید اب بچنا ممکن نہیں،” دنیا نیوز سکردو کے رپورٹر محمد حسین آزاد اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

خوش قسمتی سے برفانی تودہ ان تک پہنچنے سے پہلے ایک گہری کھائی میں جا گرا اور وہ محفوظ رہے، لیکن اس واقعے نے انہیں ایک حقیقت کا احساس دلایا۔ گلگت بلتستان میں قدرتی آفات کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی اکثر اپنی جان خطرے میں ڈال کر عوام تک معلومات پہنچاتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اِن کی اپنی جان محفوظ ہے ؟

موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتے خطرات

پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ، گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (جی بی ڈی ایم اے) اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی 2022 اور 2023 کی رپورٹس کے مطابق گلگت بلتستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔

خطے میں سات ہزار سے زائد گلیشیئرز اور تین ہزار سے زیادہ گلیشیئر جھیلیں موجود ہیں، جن میں سے متعدد کو گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈ  کے لیے خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ (گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈ) اس صورتحال کو کہا جاتا ہے جب گلیشیئر کے کنارے بننے والی جھیل اچانک پھٹ جائے اور پانی کا طاقتور ریلا آبادیوں، سڑکوں، پلوں اور زرعی زمینوں کو شدید نقصان پہنچائے۔

2022 کے تباہ کن سیلابوں کے دوران گلگت بلتستان میں درجنوں گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے، جس سے بنیادی ڈھانچے اور مقامی آبادیوں کو شدید نقصان پہنچا۔ ماہرین کے مطابق درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے باعث ایسے واقعات مستقبل میں مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

“ہر لمحہ حادثے کا خطرہ رہتا ہے”

محمد حسین آزاد کے مطابق قدرتی آفات کی رپورٹنگ صحافت کے سب سے مشکل شعبوں میں سے ایک ہے۔ “قدرتی آفات اچانک آتی ہیں اور کسی کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیتیں۔ رپورٹنگ کے دوران ہر لمحہ یہ خوف رہتا ہے کہ کہیں کوئی بڑا حادثہ نہ ہو جائے۔”

وہ بتاتے ہیں کہ اپریل 2012 میں گیاری سانحے کی کوریج کے دوران ان کے پاس کوئی ذاتی حفاظتی سامان تھا اور نہ ہی ان کے ادارے کی جانب سے کوئی خصوصی انتظام کیا گیا تھا۔

“ہمارے قیام، نقل و حرکت اور بنیادی تحفظ کا انتظام پاک فوج نے کیا تھا۔ میڈیا اداروں کی جانب سے حفاظتی سہولیات تقریباً نہ ہونے کے برابر تھیں۔”

بریکنگ نیوز کی دوڑ اور محدود وسائل

قدرتی آفات کے دوران صحافیوں کو صرف قدرتی خطرات ہی نہیں بلکہ مواصلاتی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

محمد حسین آزاد کہتے ہیں کہ شغر تھنگ، شگر، خپلو اور دیگر بالائی علاقوں میں کئی مقامات ایسے ہیں جہاں موبائل اور انٹرنیٹ سروس دستیاب نہیں ہوتی۔

“اداروں کو فوری فوٹیجز اور بریکنگ نیوز چاہیے ہوتی ہے، مگر اکثر ایسی جگہوں پر نیٹ ورک ہی موجود نہیں ہوتا۔ اگر کوئی حادثہ پیش آ جائے تو فوری مدد حاصل کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔”

صحافیوں کے مطابق حادثے یا چوٹ کی صورت میں نہ کوئی واضح حفاظتی پروٹوکول موجود ہے اور نہ ہی انشورنس جیسی سہولیات دستیاب ہیں۔

“ہمیں تربیت سے زیادہ حوصلے کے سہارے کام کرنا پڑتا ہے”

محمد عمران نمائندہ پی ٹی وی آج بھی ضلع گانچھے کے غواڑی نالے کا وہ دن نہیں بھولتے جب سیلاب کی کوریج کے بعد واپسی کے دوران اچانک مٹی، پتھروں اور گرد و غبار کا تیز ریلا ان کی طرف بڑھنے لگا۔ چند لمحوں میں وہ اور ان کے ساتھی صحافی خود خبر کا حصہ بن گئے۔ مقامی لوگوں کی بروقت مدد نے ان کی جان بچائی، مگر اس واقعے نے انہیں یہ احساس دلایا کہ قدرتی آفات کی رپورٹنگ میں ایک لمحے کی تاخیر بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

غواڑی نالہ: جب صحافی خود خبر کا حصہ بن گئے

قدرتی آفات کی کوریج کے دوران صحافیوں کو درپیش خطرات کی ایک نمایاں مثال ضلع گانچھے کے غواڑی نالے میں پیش آنے والا واقعہ ہے۔

اگست 2016 میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی کوریج کے لیے جانے والے چار صحافی — قاسم بٹ (آج نیوز)، محمد عمران (پی ٹی وی نیوز)اور  وزیر مظفر (جی این این نیوز)  اچانک ایک خطرناک صورتحال میں پھنس گئے۔

صحافیوں کے مطابق واپسی کے دوران غواڑی نالے میں اچانک بڑے بڑے پتھر، مٹی اور گرد و غبار کا شدید ریلا ان کی جانب بڑھا۔ چند لمحوں میں صورتحال اتنی خراب ہو گئی کہ جان بچانا اولین ترجیح بن گئی۔ مقامی افراد کی مدد سے انہیں محفوظ مقام تک منتقل کیا گیا جبکہ بعض صحافی معمولی زخمی بھی ہوئے۔

اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے صحافی کہتے ہیں کہ قدرتی آفات کی رپورٹنگ میں بعض اوقات صحافی خود بھی انہی خطرات کی زد میں آ جاتے ہیں جن کی وہ کوریج کر رہے ہوتے ہیں۔

قدرتی آفات کی رپورٹنگ کے دوران پیش آنے والا ایک اور واقعہ سکردو کے سدپارہ ڈیم کے قریب پیش آیا۔ ایک گلیشیئر پھٹنے کے بعد آنے والے اچانک سیلاب کی کوریج کے لیے جانے والے ایکسپریس نیوز کے صحافی محمد افضل اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ڈیم کے کنارے موجود تھے کہ اچانک پہاڑ کے درمیان سے گلیشیئر کا پانی اور ملبہ تیزی سے نیچے آ گیا۔

محمد افضل نے بروقت محفوظ مقام کی جانب بھاگ کر اپنی جان تو بچا لی، تاہم بھاگتے ہوئے وہ بڑے پتھروں کے درمیان پھنس گئے اور شدید زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں مقامی افراد اور ریسکیو اہلکاروں نے انہیں وہاں سے نکال کر طبی امداد فراہم کی۔

محمد افضل کہتے ہیں کہ اس واقعے نے انہیں احساس دلایا کہ قدرتی آفات کی رپورٹنگ میں حالات چند سیکنڈ میں بدل سکتے ہیں اور اگر حفاظتی انتظامات اور تربیت موجود نہ ہو تو ایک معمولی غلطی بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ انٹرویو آپ کی اسٹوری میں ایک اہم توازن پیدا کرتا ہے کیونکہ اب صرف صحافیوں کا مؤقف ہی نہیں بلکہ میڈیا ادارے کا نقطۂ نظر بھی شامل ہو گیا ہے۔ اسے سوال و جواب کی صورت میں شامل کرنے کے بجائے فیچر اسٹوری کے انداز میں اس طرح لکھیں۔

میڈیا ادارے کیا کہتے ہیں؟

قدرتی آفات کے دوران متاثرہ علاقوں سے فوری فوٹیج اور مسلسل اپ ڈیٹس کی دوڑ میں اکثر سوال اٹھتا ہے کہ کیا میڈیا ادارے اپنے رپورٹرز کی حفاظت کے لیے بھی اتنی ہی سنجیدگی سے اقدامات کرتے ہیں؟

جی ٹی وی نیوز کے اسائنمنٹ ایڈیٹر محمد الیاس کہتے ہیں کہ کسی بھی رپورٹر کو قدرتی آفت سے متاثرہ علاقے میں بھیجنے سے پہلے وہاں کی مجموعی صورتحال، خطرات اور رپورٹر کے تجربے کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

ان کے مطابق اگرچہ قدرتی آفات کی رپورٹنگ میں خطرات موجود ہوتے ہیں، تاہم ادارہ ہمیشہ خبر اور انسانی جان کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ “ہم ہمیشہ رپورٹر کی جان کو خبر پر ترجیح دیتے ہیں۔ اگر حالات زیادہ خطرناک ہوں تو رپورٹنگ روک دیتے ہیں یا رپورٹر کو محفوظ مقام سے رپورٹ کرنے کی ہدایت دیتے ہیں۔”

محمد الیاس کا کہنا ہے کہ فیلڈ میں موجود رپورٹرز سے مسلسل رابطہ رکھا جاتا ہے اور انہیں حفاظتی ہدایات دی جاتی ہیں، جبکہ جہاں ممکن ہو حفاظتی سامان، تربیت اور انشورنس کی سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق ماضی میں پیش آنے والے مختلف واقعات سے سیکھتے ہوئے ادارے نے اپنی حفاظتی پالیسی اور احتیاطی اقدامات کو مزید بہتر بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان جیسے دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کو خراب راستوں، سخت موسم اور مواصلاتی مسائل جیسے اضافی چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے، اس لیے ادارہ اپنی استطاعت کے مطابق ان کی ہر ممکن معاونت کی کوشش کرتا ہے۔

محمد الیاس کے مطابق اگر کوئی رپورٹر حفاظتی خدشات کی وجہ سے اسائنمنٹ مکمل نہ کر سکے تو ادارہ اس فیصلے کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ ان کے خیال میں پاکستان کے تمام میڈیا اداروں کو قدرتی آفات کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے لیے باقاعدہ حفاظتی تربیت، ضروری حفاظتی سامان، انشورنس اور واضح سیفٹی پروٹوکول فراہم کرنے چاہییں تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں زیادہ محفوظ ماحول میں انجام دے سکیں۔

“خطرات بڑھ رہے ہیں، تحفظ نہیں”

سکردو پریس کلب کے صدر وزیر مظفر کہتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث صحافیوں کو پہلے سے کہیں زیادہ خطرات کا سامنا ہے۔

“سیلاب، گلیشیئر بلاسٹ اور لینڈ سلائیڈنگ کے دوران صحافی دشوار گزار علاقوں میں جاتے ہیں، مگر ان کے پاس بنیادی حفاظتی سامان بھی موجود نہیں ہوتا۔”

ان کے مطابق گزشتہ برسوں میں متعدد صحافی دورانِ کوریج حادثات، گاڑیوں کے واقعات اور دیگر خطرناک حالات کا سامنا کر چکے ہیں۔

وزیر مظفر کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے کوئی جامع اور تحریری سیفٹی پالیسی موجود نہیں۔

وزیر مظفر کے مطابق سکردو پریس کلب نے گزشتہ سال گلگت بلتستان حکومت اور متعلقہ اداروں کو باضابطہ درخواست دے کر صحافیوں کے لیے سیفٹی کٹس، ہیلمٹس، حفاظتی جیکٹس اور انشورنس سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کیا تھا، تاہم تاحال اس حوالے سے کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

ان کے مطابق فری لانس صحافی سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں کیونکہ ان کے پاس ادارہ جاتی سہارا بھی موجود نہیں ہوتا۔

دنیا میں کیا ہوتا ہے؟

بین الاقوامی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے)، انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (آئی ایف جے) اور یونیسکو قدرتی آفات اور تنازعات کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے لیے باقاعدہ حفاظتی رہنما اصول جاری کرتی ہیں۔ ان ہدایات کے مطابق فیلڈ میں جانے والے صحافیوں کو خطرات کا پیشگی جائزہ (رسک اسیسمنٹ)، حفاظتی ہیلمٹ، ریفلیکٹو جیکٹ، فرسٹ ایڈ کٹ، سیٹلائٹ یا متبادل مواصلاتی ذرائع، ہنگامی انخلاء کا منصوبہ اور مناسب انشورنس فراہم کی جانی چاہیے۔ کئی ممالک میں میڈیا ادارے اپنے نمائندوں کو ایسی رپورٹنگ سے قبل خصوصی ڈیزاسٹر سیفٹی ٹریننگ بھی کرواتے ہیں۔

اس کے برعکس گلگت بلتستان میں بیشتر صحافی محدود وسائل، ذاتی تجربے اور مقامی لوگوں کی مدد پر انحصار کرتے ہوئے خطرناک علاقوں میں رپورٹنگ کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ماحولیاتی رپورٹنگ صرف کسی حادثے کی خبر دینا نہیں بلکہ بروقت معلومات کے ذریعے انسانی جانیں بچانے کا بھی ذریعہ ہے۔ سیلاب، گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے یا لینڈ سلائیڈنگ جیسے واقعات کی بروقت اور درست رپورٹنگ متاثرہ علاقوں تک امدادی کارروائیوں کو تیز کرنے، عوام کو پیشگی آگاہ کرنے اور پالیسی سازوں کی توجہ مسئلے کی جانب مبذول کرانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحافی تمام خطرات کے باوجود دشوار گزار علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔

حکومت کیا کہتی ہے؟

گلگت بلتستان کے وزیر اطلاعات غلام عباس کہتے ہیں کہ قدرتی آفات کے دوران مستند معلومات کی فراہمی محکمہ اطلاعات کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ رکھا جاتا ہے۔

ان کے مطابق گلگت، سکردو اور ہنزہ میں گلاف منصوبے کے تحت ڈیزاسٹر رپورٹنگ سے متعلق تربیتی پروگرام منعقد کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید پروگرام بھی زیر غور ہیں۔

تاہم وہ تسلیم کرتے ہیں کہ موجودہ مالی سال کے بجٹ میں حفاظتی سامان کی فراہمی کے لیے کوئی مخصوص فنڈ مختص نہیں کیا گیا۔

غلام عباس کے مطابق آئندہ مالی سال میں حفاظتی آلات کے لیے فنڈز کی درخواست دی جائے گی جبکہ صحافیوں کے لیے ہیلتھ کوریج اور دیگر فلاحی اقدامات پر بھی کام جاری ہے۔

سوال اب بھی باقی ہے

گلگت بلتستان میں قدرتی آفات کی شدت بڑھ رہی ہے۔ سیلاب، گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودوں کے واقعات اب معمول بنتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں صحافی نہ صرف عوام تک معلومات پہنچانے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں بلکہ کئی بار اپنی جان کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

مگر سوال یہ ہے کہ جب یہ صحافی دوسروں کی مشکلات دنیا تک پہنچانے کے لیے خطرات مول لیتے ہیں تو ان کی اپنی حفاظت کی ذمہ داری کون اٹھائے گا؟

مقامی صحافیوں، پریس کلب نمائندوں اور میڈیا تنظیموں کے مطابق اس سوال کا جواب واضح ہے: ڈیزاسٹر رپورٹنگ کی باقاعدہ تربیت، حفاظتی سامان، ہیلتھ اور لائف انشورنس، واضح سیفٹی پالیسی اور فری لانس صحافیوں کے تحفظ کے بغیر اس خلا کو پُر کرنا ممکن نہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کوہاٹ میں طوفانی بارش کے باعث مکان کی چھت گرنے سے 9 افراد جاں بحق، 3 زخمی

پاکستان جنوبی افریقہ انڈر 19 ویمنز ٹی 20 سیریز: تمام میچز میں مفت داخلے کا اعلان

او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین اختتام پذیر، پاکستان نے آئندہ 2 سال کے لیے سربراہی سنبھال لی

19 سالہ چینی طالب علم نے 28 کروڑ روپے کی جائیداد بچپن کے دوست کے نام کر دی

وزیراعظم سے مسلم ورلڈ لیگ کے سیکریٹری جنرل کی ملاقات، عالم اسلام کو درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال

ویڈیو

’چاہتا ہوں یہ چیزیں نہ ہوں، پارٹی کارکنان سکون کا سانس لیں‘، وسیم اختر کا خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی لفظی جنگ پر ردعمل

وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ، کون سے نئے چہرے شامل ہونے جا رہے ہیں؟

سولر پینلز کی قیمتوں میں کمی، کیا صارفین کو واقعی ریلیف ملا ؟

کالم / تجزیہ

برداشت کی بھی حد ہوتی ہے

میسی کے گول سے 45 برس بعد کھلنے والا سفارتخانہ

اونٹ کے جسم پر گل کاری کا آرٹ