پاکستان میں مالیاتی شمولیت کے حوالے سے ایک تاریخی اقدام کے تحت، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) نے ایک انٹرآپریبل ڈیجیٹل والیٹ پیمنٹ سسٹم کا آغاز کر دیا ہے۔
اس نئے نظام کے تحت 1 کروڑ سے زیادہ مستحق خاندانوں کی خواتین اب ملک بھر میں کسی بھی پارٹنر بینک کے ریٹیلر یا ایجنٹ سے اپنے وظائف کی رقم نکلوا سکیں گی اور اب وہ کسی ایک مخصوص بینک کی محتاج نہیں رہیں گی۔
جمعہ کو بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اس اہم پیش رفت کو قانونی شکل دینے کے لیے 18 جون 2026 کو بی آئی ایس پی ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطح کی تقریبِ دستخط کا انعقاد کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:وفاقی کابینہ نے 2027 تا 2030 حج پالیسی کی منظوری دیدی، نظام مکمل ڈیجیٹل بنانے کا فیصلہ
تقریب کی صدارت بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے کی، جبکہ اس موقع پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان، 1LINK، ورلڈ بینک اور معروف مالیاتی اداروں بشمول حبیب بینک لمیٹڈ (ایچ بی ایل)، بینک الفلاح، بینک آف پنجاب، ایچ بی ایل مائیکرو فنانس بینک، ایزی پیسہ اور جاز کیش کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
باوقار ادائیگیوں کے لیے انقلابی قدم
1LINK اور پارٹنر بینکوں کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کے تحت اب بی آئی ایس پی کے وظائف براہِ راست مستحق خواتین کے ڈیجیٹل والیٹس میں منتقل کیے جائیں گے۔
اس سے قبل مستحقین کو اپنی رقم کے حصول کے لیے شدید سفری اور لاجسٹک مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جن میں طویل قطاریں، رش اور مخصوص ادائیگی مراکز تک پہنچنے کے لیے لمبا سفر شامل تھا۔
اعلامیے کے مطابق نیا انٹرآپریبل نظام اس عمل کو مکمل طور پر آسان بنا دے گا، اب کوئی بھی مستحق خاتون اپنے قریبی پارٹنر ایجنٹ یا دکان دار کے پاس جا کر رقم نکلوا سکے گی، قطع نظر اس کے کہ رقم کس بینک کی طرف سے جاری کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں:بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام سے ایک کروڑ لوگوں کی مدد کی جارہی ہے، ڈاکٹر امجد ثاقب
سینیٹر روبینہ خالد نے زور دے کر کہا کہ اس اصلاحات کا بنیادی مقصد مستحقین کی عزتِ نفس اور وقار کو برقرار رکھنا ہے، جو کہ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے اس وژن کے عین مطابق ہے جس کا مقصد عوام تک بلا تعطل اور باوقار طریقے سے امداد پہنچانا ہے۔
سینیٹر روبینہ خالد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ اقدام محض ایک تکنیکی اپ گریڈ نہیں ہے، بلکہ یہ مالیاتی شمولیت اور خواتین کو بااختیار بنانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔
رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی فراہم کر کے ہم لاکھوں خواتین کو زیادہ مالیاتی خود مختاری دے رہے ہیں تاکہ وہ معیشت میں اپنا فعال کردار ادا کر سکیں۔
مرحلہ وار نفاذ اور حکمتِ عملی
ڈیجیٹل والیٹ کا یہ نظام مرحلہ وار پورے ملک میں بی آئی ایس پی کی ادائیگیوں کا بنیادی ذریعہ بن جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے استعمال سے سیکیورٹی کے خطرات کم ہوں گے، شفافیت کے مسائل حل ہوں گے اور مستحقین کو یہ آزادی ہوگی کہ وہ اپنی مرضی کے وقت اور جگہ سے رقم حاصل کر سکیں۔
بنیادی سطح پر اس اقدام کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے، چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے تمام پارٹنر بینکوں اور ٹیلی کام کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر عوامی آگاہی مہم شروع کریں۔
اس کے ساتھ ہی اکاؤنٹس کی بروقت ایکٹیویشن اور فیلڈ اسٹاف سمیت بینکنگ ایجنٹس کی جامع تربیت کو بھی یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔














