بی آئی ایس پی کے ادائیگیوں کے نظام میں بڑی تبدیلی، اب خواتین کسی بھی پارٹنر بینک یا ڈیجیٹل والیٹ سے رقم حاصل کر سکیں گی

جمعہ 10 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں مالیاتی شمولیت کے حوالے سے ایک تاریخی اقدام کے تحت، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) نے ایک انٹرآپریبل ڈیجیٹل والیٹ پیمنٹ سسٹم کا آغاز کر دیا ہے۔

اس نئے نظام کے تحت 1 کروڑ سے زیادہ مستحق خاندانوں کی خواتین اب ملک بھر میں کسی بھی پارٹنر بینک کے ریٹیلر یا ایجنٹ سے اپنے وظائف کی رقم نکلوا سکیں گی اور اب وہ کسی ایک مخصوص بینک کی محتاج نہیں رہیں گی۔

جمعہ کو بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اس اہم پیش رفت کو قانونی شکل دینے کے لیے 18 جون 2026 کو بی آئی ایس پی ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطح کی تقریبِ دستخط کا انعقاد کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:وفاقی کابینہ نے 2027 تا 2030 حج پالیسی کی منظوری دیدی، نظام مکمل ڈیجیٹل بنانے کا فیصلہ

تقریب کی صدارت بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے کی، جبکہ اس موقع پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان، 1LINK، ورلڈ بینک اور معروف مالیاتی اداروں بشمول حبیب بینک لمیٹڈ  (ایچ بی ایل)، بینک الفلاح، بینک آف پنجاب، ایچ بی ایل مائیکرو فنانس بینک، ایزی پیسہ اور جاز کیش کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

باوقار ادائیگیوں کے لیے انقلابی قدم

1LINK اور پارٹنر بینکوں کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کے تحت اب بی آئی ایس پی کے وظائف براہِ راست مستحق خواتین کے ڈیجیٹل والیٹس میں منتقل کیے جائیں گے۔

اس سے قبل مستحقین کو اپنی رقم کے حصول کے لیے شدید سفری اور لاجسٹک مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جن میں طویل قطاریں، رش اور مخصوص ادائیگی مراکز تک پہنچنے کے لیے لمبا سفر شامل تھا۔

اعلامیے کے مطابق نیا انٹرآپریبل نظام اس عمل کو مکمل طور پر آسان بنا دے گا، اب کوئی بھی مستحق خاتون اپنے قریبی پارٹنر ایجنٹ یا دکان دار کے پاس جا کر رقم نکلوا سکے گی، قطع نظر اس کے کہ رقم کس بینک کی طرف سے جاری کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں:بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام سے ایک کروڑ لوگوں کی مدد کی جارہی ہے، ڈاکٹر امجد ثاقب

سینیٹر روبینہ خالد نے زور دے کر کہا کہ اس اصلاحات کا بنیادی مقصد مستحقین کی عزتِ نفس اور وقار کو برقرار رکھنا ہے، جو کہ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے اس وژن کے عین مطابق ہے جس کا مقصد عوام تک بلا تعطل اور باوقار طریقے سے امداد پہنچانا ہے۔

سینیٹر روبینہ خالد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ اقدام محض ایک تکنیکی اپ گریڈ نہیں ہے، بلکہ یہ مالیاتی شمولیت اور خواتین کو بااختیار بنانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔

رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی فراہم کر کے ہم لاکھوں خواتین کو زیادہ مالیاتی خود مختاری دے رہے ہیں تاکہ وہ معیشت میں اپنا فعال کردار ادا کر سکیں۔

مرحلہ وار نفاذ اور حکمتِ عملی

ڈیجیٹل والیٹ کا یہ نظام مرحلہ وار پورے ملک میں بی آئی ایس پی کی ادائیگیوں کا بنیادی ذریعہ بن جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے استعمال سے سیکیورٹی کے خطرات کم ہوں گے، شفافیت کے مسائل حل ہوں گے اور مستحقین کو یہ آزادی ہوگی کہ وہ اپنی مرضی کے وقت اور جگہ سے رقم حاصل کر سکیں۔

بنیادی سطح پر اس اقدام کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے، چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے تمام پارٹنر بینکوں اور ٹیلی کام کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر عوامی آگاہی مہم شروع کریں۔

 اس کے ساتھ ہی اکاؤنٹس کی بروقت ایکٹیویشن اور فیلڈ اسٹاف سمیت بینکنگ ایجنٹس کی جامع تربیت کو بھی یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں تاریخی اضافہ، وجوہات کیا ہیں؟

پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں پہلی جوڈیشل کمیٹی قائم، یہ کیسے کام کرے گی اور اس کے اختیارات کیا ہوں گے؟

پیپلز پارٹی کا 40 برس بعد مینار پاکستان پر جلسے کا اعلان، بلاول بھٹو کے لیے یہ سیاسی امتحان کتنا اہم؟

ایرانی حکومت ہوش مندی سے کام لے ورنہ پورا خطہ پہلے سے زیادہ امریکی گرفت میں چلا جائےگا، منصور جعفر

پاکستان اور کشمیر کو دنیا کی کوئی طاقت الگ نہیں کر سکتی، فرزانہ یعقوب

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!