امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات کے لیے پاکستانی وفد نے 9 اور 10 جولائی کو امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں اہم ملاقاتیں کیں جن میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف تجارتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان مذاکرات کا ایک اہم مقصد پاکستانی برآمدات پر عائد امریکی ٹیرف میں ممکنہ ریلیف حاصل کرنا اور دوطرفہ تجارتی و اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی مذاکرات واشنگٹن میں جاری
گزشتہ برس جولائی میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے مختلف ممالک پر ٹیرف عائد کیے تو پاکستانی وفد پاکستان کے لیے ٹیرف کی شرح 19 فیصد کروانے میں کامیاب رہا تھا جبکہ بھارت پر 53 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا تھا۔ اس بار بھی پاکستانی وفد کی کوشش ہے کہ ٹیرف میں مزید کمی کی جا سکے جس سے پاکستانی تجارت کو فائدہ ہو۔
پاک امریکا تجارت کیوں اہم ہے؟
گزشتہ سال امریکی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار دیکھے جائیں تو پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارت کا حجم 8.55 ارب ڈالر رہا۔ اس میں امریکا کی جانب سے پاکستان کو برآمدات 3.13 ارب ڈالر جبکہ پاکستان کی جانب سے امریکا کو 5.42 ارب ڈالر کی برآمدات کی گئیں۔ امریکا کے ساتھ پاکستان کا تجارتی توازن 2.29 ارب ڈالر پاکستان کے حق میں ہے۔
امریکا کئی برسوں سے پاکستان کی سب سے بڑی واحد برآمدی منڈی ہے۔ پاکستان اپنی کل برآمدات کا 17 سے 18 فیصد امریکہ بھیجتا ہے جن میں ٹیکسٹائل، گارمنٹس، ہوم ٹیکسٹائل، آلاتِ جراحی، کھیلوں کا سامان شامل ہیں۔
گزشتہ برس 30 جولائی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ تجارتی معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے پاکستان کے ساتھ ایک شاندار تجارتی معاہدہ کیا ہے اور ہم پاکستان کے آئل ریزرو بلڈ کریں گے۔
ٹیرف ریلیف: پاک امریکا تجارتی مذاکرات کا ایک اہم مقصد
9 اور 10 جولائی پاکستان اور امریکا کے درمیان باہمی تجارت معاہدے کے تحت مذاکرات ہوئے جو اس وقت دونوں ممالک کے تعلقات کا اہم ترین اقتصادی مرحلہ سمجھے جا رہے ہیں۔
ان 2 روزہ اعلیٰ سطحی مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت سیکریٹری تجارت جواد پال نے کی جبکہ وفد میں وزارت تجارت، ٹیرف پالیسی اور دیگر متعلقہ اداروں کے سینیئر حکام شامل تھے۔ مذاکرات کا بنیادی مقصد ایسی تجارتی مفاہمت تک پہنچنا تھا جس سے پاکستانی برآمدات پر امریکی ٹیرف کا بوجھ کم ہو اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا نیا فریم ورک تشکیل پا سکے۔ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے جب امریکا اپنی عالمی تجارتی پالیسی پر نظرثانی کر رہا ہے اور متعدد ممالک کے ساتھ باہمی ٹیرف اور مارکیٹ رسائی کے معاملات پر نئے معاہدے طے کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان اور ترکیہ کا دوستی مضبوط بنانے، 5 ارب ڈالر کا تجارتی حجم حاصل کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق
پاکستان بھی انہی ممالک میں شامل ہے جو امریکی منڈی تک بہتر رسائی اور کم محصولات کے حصول کے لیے سرگرم سفارت کاری کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کی پہلی ترجیح یہ ہے کہ پاکستانی برآمدات، بالخصوص ٹیکسٹائل، ملبوسات، کھیلوں کا سامان، چمڑے کی مصنوعات، سرجیکل آلات اور زرعی مصنوعات پر امریکی محصولات میں کمی لائی جائے۔
امریکا پاکستان کی سب سے بڑی سنگل کنٹری ایکسپورٹ مارکیٹ ہے اس لیے معمولی ٹیرف کمی بھی پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے اربوں روپے کے اضافی کاروبار کا باعث بن سکتی ہے۔
امریکی ٹیرف کی قانونی صورتحال کیا ہے؟
20 فروری کو امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاور ایکٹ کے تحت بین الاقوامی ٹیرف کے نفاذ کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔
اس کے بعد امریکی صدر نے ایک دوسرے قانون ٹریڈ ایک آف 1974 کی دفعہ 122 کے تحت عارضی طور پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیے تھے جو 150 دن کے لیے ویلڈ اور 24 جولائی کو ایکسپائر ہو جائیں گے۔
صرف ٹیرف نہیں، سرمایہ کاری بھی زیر بحث
ان مذاکرات کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اب گفتگو صرف درآمدی و برآمدی محصولات تک محدود نہیں رہی بلکہ دونوں ممالک سرمایہ کاری کے نئے امکانات پر بھی غور کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد مفاہمتی یادداشت: ایران کا پاکستان کے کردار کا باضابطہ اعتراف، صدر مسعود پزشکیان کا دورہ نہایت اہم
پاکستان امریکا کو معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی، بنیادی ڈھانچے اور زراعت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دے رہا ہے۔ خاص طور پر پاکستان کے معدنی وسائل اور توانائی کے شعبے میں امریکی دلچسپی کو دونوں ممالک مستقبل کی اقتصادی شراکت داری کا اہم جزو قرار دے رہے ہیں۔














