چین نے باضابطہ طور پر پاکستانی مکئی (مکئی کے دانے) کی درآمدات کے لیے اپنی منڈی کھول دی ہے جس سے پاکستان کی زرعی برآمدات میں نمایاں اضافے اور دونوں ممالک کے درمیان زرعی تعاون کو مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پاکستان زیتون کی کاشت سے خوردنی تیل میں خود کفیل ہو سکتا ہے؟
چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے مطابق پاکستان سے مکئی کی درآمد کے لیے نئے قرنطینہ اور نباتاتی صحت (فائٹو سینیٹری) سے متعلق ضوابط 7 جولائی سے نافذ ہو چکے ہیں۔ ان شرائط پر عمل درآمد کے بعد پاکستان کو چین کو مکئی برآمد کرنے کی باضابطہ اجازت مل گئی ہے۔
اس فیصلے سے پاکستان کو دنیا کی سب سے بڑی مکئی درآمد کرنے والی منڈیوں میں سے ایک تک رسائی حاصل ہوگی۔ چین نے سنہ 2023 کے دوران تقریباً 2 کروڑ 60 لاکھ ٹن مکئی درآمد کی تھی جس کی مالیت لگ بھگ 9 ارب ڈالر رہی۔ یہ درآمدات بنیادی طور پر مویشیوں اور جانوروں کی خوراک کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے کی جاتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق چینی منڈی تک رسائی سے پاکستانی برآمدکنندگان کو ویتنام سمیت روایتی منڈیوں سے آگے نئی تجارتی منڈیاں ملیں گی جبکہ ملک کی زرعی برآمدات اور زرمبادلہ میں بھی اضافہ ہوگا۔
تاہم تجارتی برآمدات شروع ہونے سے پہلے پاکستانی کاشتکاروں اور برآمدکنندگان کو چینی حکام کی مقرر کردہ تمام شرائط پوری کرنا ہوں گی۔
مزید پڑھیے: لاکھوں روپے فی کلو آم، پاکستان میں یہ خاص فصل کہاں کاشت ہورہی ہے؟
ان شرائط کے تحت فارم، پروسیسنگ پلانٹس اور ذخیرہ کرنے کی سہولتوں کی چینی کسٹمز کے ساتھ رجسٹریشن لازمی ہوگی جبکہ برآمدکنندگان کو سخت فائٹو سینیٹری معیار، کیڑوں پر قابو پانے، جراثیم کش عمل (فومیگیشن) اور فوڈ سیفٹی و قرنطینہ سے متعلق سرٹیفکیشن کے تقاضے بھی پورے کرنا ہوں گے۔
یہ منظوری دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے زرعی تعاون کا تسلسل ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران چین پاکستانی زرعی مصنوعات جن میں خشک میوہ جات، گریاں اور ادویاتی پودے شامل ہیں کے لیے بھی اپنی منڈی تک رسائی میں توسیع کر چکا ہے جو دونوں ممالک کے دیرینہ اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
مکئی، گندم اور چاول کے بعد پاکستان کی تیسری بڑی اجناس کی فصل ہے اور ملکی زرعی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
مزید پڑھیں: کیا پاکستان میں پام آئل کی کاشت سے لاکھوں روپے کمائے جا سکتے ہیں؟
زرعی شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی وسیع منڈی تک رسائی سے پاکستان میں مکئی کی پیداوار میں اضافہ، جدید زرعی طریقوں میں سرمایہ کاری، فصل کی کٹائی کے بعد ذخیرہ اور پروسیسنگ کے نظام میں بہتری اور برآمدی آمدنی میں نمایاں اضافہ ممکن ہوگا۔
حکام اور برآمدکنندگان آئندہ دنوں میں باقی ماندہ ریگولیٹری تقاضے مکمل کرنے کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں گے تاکہ چین کو مکئی کی تجارتی برآمدات کا باقاعدہ آغاز کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق برآمدات شروع ہونے کے بعد مکئی بھی پاکستان اور چین کے درمیان زرعی تجارت کا ایک اہم حصہ بن سکتی ہے جس سے نہ صرف پاکستانی کسانوں کو نئی کاروباری مواقع میسر آئیں گے بلکہ دونوں ہمسایہ ممالک کے اقتصادی تعلقات بھی مزید مستحکم ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب میں گندم کی قلت ہے نہ ہی درآمد کرنے کی ضرورت، صوبائی وزیر زراعت
دریں اثنا ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ چین کی منڈی کھلنے سے پاکستانی کسانوں اور برآمدکنندگان کو فائدہ ہوگا لیکن حکومت کو اس بات کو بھی یقینی بنانا ہوگا کہ مقامی ضروریات پوری رہیں تاکہ مکئی اور اس سے وابستہ غذائی اشیا کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ نہ ہو۔














