90 سالہ جرمن کار ساز ادارہ مشکل میں، ووکس ویگن کو ایک لاکھ ملازمتیں کم کرنے کا سامنا

پیر 13 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جرمن آٹو ساز کمپنی ووکس ویگن (فوکس ویگن) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اولیور بلوم نے عندیہ دیا ہے کہ کمپنی کو عالمی مسابقت میں اپنا مقام مضبوط بنانے کے لیے مزید 50 ہزار ملازمتیں ختم کرنا پڑ سکتی ہیں جس کے بعد مجموعی طور پر نوکریوں میں کٹوتی کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ووکس ویگن کا 90 سالہ تاریخ کا بڑا فیصلہ: گاڑیوں کے ماڈلز آدھے، پیداوار میں لاکھوں یونٹس کی کمی

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کمپنی کے ملازمین کے نام ایک داخلی پیغام میں اولیور بلوم نے کہا کہ یورپ کی سب سے بڑی کار ساز کمپنی کو بڑھتے ہوئے اخراجات امریکا کی جانب سے عائد ٹیرف، چین میں سخت مسابقت اور جرمنی میں اپنی پیداواری صلاحیت کو زیادہ مؤثر بنانے جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کمپنی پہلے ہی اپنی ذیلی کمپنیوں پورشے اور آوڈی سمیت مختلف شعبوں میں تقریباً 50 ہزار ملازمتیں ختم کرنے پر اتفاق کر چکی ہے، تاہم لاگت میں مزید کمی کے لیے اضافی اقدامات ناگزیر ہو سکتے ہیں۔

اولیور بلوم کے مطابق کمپنی کے جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ ووکس ویگن کو اپنے ہم پلہ حریفوں کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد لاگتی خسارے کا سامنا ہے جس کی بنیاد پر نظریاتی طور پر مزید 50 ہزار ملازمتوں میں کمی کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت کمپنی کے تمام برانڈز، ذیلی اداروں اور مختلف خطوں میں اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ عملی طور پر کتنی مزید افرادی قوت میں کمی ضروری اور ممکن ہے۔

مزید پڑھیے: جرمن آٹو موبائل کمپنی ووکس ویگن کی گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں کمی، وجہ کیا ہے؟

اس سے قبل ووکس ویگن انتظامیہ ان اطلاعات پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتی رہی تھی کہ کمپنی ایک لاکھ تک ملازمتیں ختم کرنے پر غور کر رہی ہے تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ کمپنی کے سربراہ نے اس امکان کا کھل کر ذکر کیا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملازمین نے انتظامیہ سے تنظیم نو کے منصوبوں پر وضاحت کا مطالبہ کیا تھا۔ اولیور بلوم نے گزشتہ ہفتے کمپنی کے سپروائزری بورڈ کے اجلاس میں اپنے منصوبے پیش کیے تاہم ذرائع کے مطابق بورڈ میں موجود مزدور نمائندوں نے مجوزہ منصوبوں کی مخالفت کرتے ہوئے انہیں روک دیا۔

رپورٹس کے مطابق ان تجاویز میں ملازمتوں میں بڑے پیمانے پر کمی کے ساتھ ساتھ جرمنی میں واقع چار فیکٹریاں بند کرنے کا امکان بھی شامل تھا۔

اولیور بلوم نے داخلی پیغام میں کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایمڈن، ہینوور، زوِکاؤ اور نیکارسُلم میں قائم پلانٹس کے لیے سنہ 2030 کی دہائی میں مسابقتی بنیادوں پر واضح کاروباری امکانات نظر نہیں آ رہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ وہ فیکٹریاں بند کرنے کے بجائے ذہانت پر مبنی حل تلاش کرنے کے حامی ہیں۔ ان کے مطابق کم استعمال ہونے والے پلانٹس کو دفاعی صنعت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے یا پھر یورپ میں چینی مارکیٹ کے لیے ووکس ویگن کی گاڑیاں تیار کرنے جیسے متبادل آپشنز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: جون ایلیا کے خاندان کی ووکس ویگن گاڑی راولپنڈی میں شاندار انداز میں بحال

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کمپنی مزید 50 ہزار ملازمتیں ختم کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو یہ فوکس ویگن کی تقریباً 9 دہائیوں پر محیط تاریخ کی سب سے بڑی تنظیم نو ثابت ہو سکتی ہے جس کے جرمنی سمیت عالمی آٹو انڈسٹری پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp