اگر کوئی شخص آپ کی زبان نہ سمجھتا ہو یا سماعت سے محروم ہو تو گفتگو کرنا مشکل ہو سکتا ہے لیکن برطانیہ کی ایک طالبہ نے ایسا کم قیمت آلہ تیار کیا ہے جو بولے جانے والے الفاظ کا فوری ترجمہ اور تحریری نقل (ٹرانسکرپشن) صارف کی آنکھوں کے سامنے ہی دکھا دیتا ہے۔
برطانیہ کی یونیورسٹی آف پلائمتھ میں الیکٹریکل اینڈ الیکٹرانک انجینیئرنگ کی طالبہ ملیا محمد اسراف نے اپنے ڈگری پروجیکٹ کے طور پر یہ ڈیوائس تیار کی جسے بنانے میں تقریباً 6 ماہ لگے۔
طالبہ کے مطابق اس آلے کی تیاری پر تقریباً 30 برطانوی پاؤنڈ لاگت آئی جو مارکیٹ میں دستیاب اسی نوعیت کی کئی ڈیوائسز کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔
آلہ کیسے کام کرتا ہے؟
یہ ڈیوائس چشمے کے ساتھ لگائی جاتی ہے اور ایک چھوٹے الیکٹرانک باکس پر مشتمل ہوتی ہے۔
اس میں موجود مائیکروفون بولے جانے والے الفاظ کو وصول کرتا ہے، جس کے بعد مصنوعی ذہانت یا اے آئی کی مدد سے انہیں فوری طور پر تحریر یا مطلوبہ زبان میں ترجمہ کیا جاتا ہے۔
بعد ازاں یہ متن وائی فائی کے ذریعے ایک مائیکرو کنٹرولر تک پہنچایا جاتا ہے جو اسے آئینے، لینز اور ریفلیکٹر کی مدد سے صارف کے سامنے اس انداز میں ظاہر کرتا ہے جیسے فلم کے سب ٹائٹلز نظر آتے ہیں۔
زبان ہی نہیں سماعت سے محروم افراد کے لیے بھی مفید
ملیا محمد اسراف کا کہنا ہے کہ یہ آلہ صرف مختلف زبانوں کا ترجمہ کرنے تک محدود نہیں بلکہ سماعت سے محروم افراد کے لیے بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ یہ بولے گئے الفاظ کو فوری طور پر تحریری شکل میں دکھا دیتا ہے۔
ان کے مطابق اگر ڈیوائس کو کسی مخصوص زبان کے لیے ترتیب دیا جائے تو اس کی درستگی مزید بہتر ہو جاتی ہے۔
مہنگے اسمارٹ چشموں کا متبادل
طالبہ کا کہنا ہے کہ موجودہ ترجمہ کرنے والی زیادہ تر ٹیکنالوجی یا تو موبائل فون پر انحصار کرتی ہے یا مہنگے اسمارٹ چشموں پر جو نہ صرف گفتگو میں خلل ڈالتے ہیں بلکہ عام صارف کی پہنچ سے بھی باہر ہوتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان کا تیار کردہ آلہ صرف ضروری فیچرز پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے اس کی قیمت کم رکھی جا سکی۔
ذاتی تجربے سے ملا خیال
ملیا محمد اسراف نے بتایا کہ وہ ایک ایسے ماحول میں پلی بڑھی ہیں جہاں مختلف زبانیں بولی جاتی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ بچپن میں اکثر ایسا ہوتا تھا کہ اردگرد موجود لوگ مختلف زبانوں میں گفتگو کرتے تھے مگر وہ ان کی بات سمجھ نہیں پاتی تھیں۔
ان کے مطابق یہی تجربہ اس ڈیوائس کی تیاری کی بنیادی وجہ بنا تاکہ زبان یا لہجے کا فرق لوگوں کے درمیان رابطے میں رکاوٹ نہ بنے۔
ری سائیکل مواد کا استعمال
طالبہ نے بتایا کہ اس آلے کی تیاری میں کم قیمت اور ری سائیکل کیے گئے مواد کا استعمال کیا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ مستقبل میں بھی ایسی ٹیکنالوجی تیار کرنا چاہتی ہیں جو لوگوں کی حقیقی ضروریات پوری کرے اور صارفین کا ذاتی ڈیٹا جمع کیے بغیر ان کے لیے مفید ثابت ہو۔
نوجوانوں کے لیے پیغام
اپنی ایجاد کے بارے میں بات کرتے ہوئے ملیا محمد اسراف نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ اگر ان کے ذہن میں کوئی نیا خیال آئے تو اس پر فوراً کام شروع کر دیں۔
ان کا کہنا ہے کہ چاہے آپ کو ابتدا میں کچھ بھی معلوم نہ ہو صرف ایک کاغذ پر اپنا خیال لکھ دیں پھر آہستہ آہستہ سب کچھ اپنی جگہ بنتا چلا جائے گا۔














