یہ بھی پڑھیں: کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ 150 متحرک افراد شیڈول فورتھ میں شامل، فہرست اور نوٹیفکیشن جاری
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے بعض مطالبات جائز تھے، خصوصاً ترقیاتی کاموں کا مطالبہ، تاہم اس پر عملدرآمد کے لیے ٹائم فریم طے کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض مطالبات ایسے بھی تھے جنہیں کسی صورت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں بجلی پہلے ہی انتہائی سستی فراہم کی جا رہی ہے اور وفاقی حکومت کی بڑی گرانٹ اسی مد میں خرچ ہو رہی ہے، جبکہ پورا وفاقی بجٹ صرف آزاد کشمیر پر نہیں لگایا جا سکتا کیونکہ پورے ملک کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور کشمیر کا رشتہ مضبوط، تاریخی اور ناقابل تنسیخ، کسی صورت کمزور نہیں ہونے دیا جائےگا، سردار عتیق
مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ معاملات اس وقت مزید خراب ہوئے جب بعض مخصوص عناصر نے احتجاجی اسٹیج سے پاکستان مخالف گفتگو کی۔
انہوں نے واضح کیا کہ مہاجرینِ کشمیر کی کشمیر کاز کے لیے قربانیاں ناقابل فراموش ہیں اور ان کی مخصوص نشستوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ لاکھوں کشمیریوں کو نظر انداز کرنے کا بیانیہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں کشیدگی کے خاتمے کے حق میں ہیں، مولانا فضل الرحمان کی ثالثی کا خیرمقدم کریں گے، خواجہ آصف
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ مذاکرات کاروں نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ احتجاجی مطالبات میں الحاقِ پاکستان سے متعلق شق بھی شامل کی گئی، جو ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ 80 برسوں میں کشمیر کاز کے لیے ہر طرح کی قربانی دی اور مضبوط دفاعی صلاحیت اسی مقصد کے پیش نظر قائم رکھی تاکہ ضرورت پڑنے پر بھارت کا مقابلہ کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں تلخی بہت بڑھ چکی ہے اور دونوں جانب جانی نقصان ہو چکا ہے، اس لیے مسئلے کا واحد حل مذاکرات ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ دھرنے کے شرکاء اسٹیج سے واضح اعلان کریں کہ الحاقِ پاکستان کی شق پر کوئی اختلاف نہیں، جبکہ جن عناصر نے احتجاجی اسٹیج کا غلط استعمال کیا انہیں الگ کیا جائے تاکہ مذاکرات کا ماحول بہتر ہو سکے۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر کابینہ کا اجلاس، ’اسلام آباد ڈیکلریشن’ پر پاکستان کی قیادت کو خراج تحسین
آزاد کشمیر کے انتخابات کے حوالے سے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ 27 جولائی کو انتخابات متوقع ہیں اور ان کی اطلاعات کے مطابق انتخابی ماحول بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو آزادانہ طور پر ووٹ ڈالنے کا موقع ملنا چاہیے، نئی اسمبلی کے قیام کے بعد تمام مسائل پر بات چیت ہوگی اور ان کا حل نکالا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ پارٹی قیادت نے انہیں 11 نشستوں پر انتخابی ذمہ داریاں سونپی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات محض سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ نہیں بلکہ پاکستان اور کشمیریوں کے تعلق کی بھی عکاسی کریں گے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر بڑی تعداد میں ووٹ پڑے اور نظریۂ پاکستان کے حق میں عوامی تائید سامنے آئی تو پاکستان اور کشمیری عوام کے درمیان پیدا ہونے والی دراڑ ختم ہو جائے گی۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ ہوگا۔
انہوں نے زور دیا کہ انتخابات جیسے بھی ہوں، سیاسی جماعتوں کو انتخابی عمل کا حصہ رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کو بھی آزاد کشمیر کے انتخابات میں حصہ لینا چاہیے تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح گلگت بلتستان میں تمام سیاسی جماعتوں نے انتخابی نتائج کو تسلیم کیا، اسی طرح آزاد کشمیر میں بھی نتائج کو قبول کیا جانا چاہیے۔
ان کے بقول، مسلم لیگ (ن) نے گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے کا موقع دیا تھا، اور اگر آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کامیاب ہوتی ہے تو وہ توقع رکھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی بھی انہیں حکومت بنانے کا موقع دے گی۔














