ورلڈ کپ کے آخری مرحلے میں امریکا کے میزبان شہروں میں معاشی سرگرمیاں تیز، شائقین کی آمد سے کاروبار چمک اٹھا

منگل 14 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے آخری مرحلے میں داخل ہوتے ہی امریکا کے میزبان شہروں میں معاشی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جہاں دنیا بھر سے شائقین سیمی فائنلز اور فائنل مقابلوں کے لیے پہنچ رہے ہیں۔ ٹورنامنٹ کے ابتدائی مرحلے میں توقعات کے مقابلے میں کم رفتار سے آنے والا معاشی فائدہ اب ناک آؤٹ مرحلے میں واضح طور پر نظر آنے لگا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ورلڈ بینک کے صدر سے پاکستانی سفیر کی ملاقات، فیفا ورلڈ کپ 2026 کا آفیشل فٹبال ’ ٹرائی اونڈا‘ تحفے میں پیش

سی این بی سی کے مطابق ورلڈ کپ کے سیمی فائنلز میں منگل کو فرانس اور اسپین کا مقابلہ ڈلاس جبکہ بدھ کو انگلینڈ اور ارجنٹینا کا میچ اٹلانٹا میں کھیلا جائے گا، جس کے باعث ان شہروں میں سفری بکنگ، ہوٹلوں، ریستورانوں اور دیگر کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے۔

بینک آف امریکا انسٹی ٹیوٹ کے مطابق امریکا کے تمام میزبان شہروں نے فٹبال شائقین کی آمد سے معاشی فائدہ حاصل کیا ہے۔ ادارے کے ماہر اقتصادیات ڈیوڈ ٹنسلے کا کہنا ہے کہ میدان میں ورلڈ کپ کا اثر واضح نظر آ رہا ہے، ٹورنامنٹ شروع ہونے کے بعد اخراجات میں اضافہ ہوا، خاص طور پر ریستورانوں اور بارز میں کیونکہ لوگوں نے میچز کو سماجی تقریبات میں تبدیل کر دیا۔

بینک آف امریکا کے کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ ڈیٹا کے تجزیے کے مطابق 10 جون سے 5 جولائی تک امریکا کے میزبان شہروں میں بالمشافہ اخراجات گزشتہ سال کے مقابلے میں 5 فیصد بڑھے جبکہ کنساس سٹی میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق اصل معاشی اثر اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے کیونکہ یہ اعداد و شمار صرف بینک آف امریکا کے کارڈ استعمال کرنے والے صارفین کے اخراجات پر مبنی ہیں، جن میں نقد ادائیگیاں، چیک، بین الاقوامی سیاحوں اور کارپوریٹ کارڈز کے اخراجات شامل نہیں۔

ہوٹل انڈسٹری کو بھی ورلڈ کپ سے نمایاں فائدہ پہنچا ہے۔ مارکیٹ ریسرچ کمپنی کو اسٹار کے مطابق کنساس سٹی میں ہوٹلوں کی آمدنی میں دستیاب کمروں کے حساب سے تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا جبکہ فلاڈیلفیا میں ہفتہ وار اختتام پر ہوٹل آمدنی میں 74 فیصد سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔

مزید پڑھیے: ایک میچ کروڑوں مداح: ورلڈ کپ فٹبالرز کے لیے سوشل میڈیا کا گراؤنڈ، یہ شہرت دیرپا یا عارضی؟

یہ صورتحال ہوٹل مالکان کے لیے خاصی حوصلہ افزا ہے کیونکہ ورلڈ کپ شروع ہونے سے قبل کم بکنگ اور اضافی کمروں کی دستیابی کے باعث خدشات موجود تھے۔

تاہم ماہرین کے مطابق ورلڈ کپ کے ابتدائی مرحلے میں تمام میزبان شہروں میں ہوٹل مکمل طور پر بھر نہیں گئے تھے۔ گروپ مرحلے کے آخری ہفتے میں ہوٹلوں میں قیام گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 3 فیصد کم رہا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ کاروباری اور تفریحی مسافروں نے اپنے منصوبے تبدیل کیے۔

اس کے باوجود ناک آؤٹ مرحلے میں صورتحال تبدیل ہوئی۔ 28 جون سے 4 جولائی تک ہوٹلوں کی طلب میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 2.4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ دستیاب کمرے کی آمدنی میں 23 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا حالانکہ اس مرحلے میں میچز کی تعداد پہلے کے مقابلے میں نصف تھی۔

مختصر مدت کے لیے کرائے پر دستیاب گھروں کی طلب میں بھی اضافہ ہوا خاص طور پر ان میچز کے قریب جن میں زیادہ معروف ٹیمیں شامل تھیں۔

ٹریول اینالیٹکس کمپنی ایئر ڈی این اے کے ڈائریکٹر برہام گالاگر کا کہنا ہے کہ کئی شائقین نے اپنی ٹیم کے سیمی فائنل یا اگلے مرحلے تک پہنچنے کا انتظار کیا جس کے بعد انہوں نے سفر کی بکنگ شروع کی۔

ارجنٹینا کے شائقین اس رجحان کی بڑی مثال بن کر سامنے آئے ہیں۔ ٹریول ٹیکنالوجی کمپنی ریٹ گین کے مطابق ورلڈ کپ شروع ہونے کے بعد ارجنٹینا سے امریکا کے میزبان شہروں کے لیے پروازوں کی بکنگ گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 46 فیصد بڑھی جبکہ اٹلانٹا کے لیے بکنگ میں 108 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔

مزید پڑھیں: فیفا فٹبال ورلڈ کپ میں ٹیکنالوجی کے استعمال پر شدید تحفظات، وی اے آر فیصلوں نے نئی بحث چھیڑ دی

مجموعی طور پر ورلڈ کپ کے میزبان شہروں کے لیے سفری بکنگ گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 4 فیصد زیادہ ہے جبکہ افتتاحی میچ کے بعد پروازوں کی بکنگ میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں تقریباً 75 فیصد اضافہ ہوا۔

ماہرین کے مطابق آخری مرحلے میں پہنچنے والے شائقین زیادہ خرچ کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں کیونکہ انہیں مہنگی آخری وقت کی پروازیں، محدود ہوٹل کمرے، مختصر مدتی رہائش، کھانے پینے اور میچ ٹکٹوں پر زیادہ رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔

امریکا اور میکسیکو کے ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کے بعد بعض کوارٹر فائنل میچوں کے ٹکٹوں کی دوبارہ فروخت کی قیمتوں میں کمی آئی تاہم فائنل کے لیے اب بھی کئی ٹکٹ دستیاب رہے جن میں بعض درمیانے درجے کے ٹکٹوں کی قیمت 7 ہزار 380 ڈالر تک تھی۔

یہ بھی پڑھیے: فٹبال ورلڈ کپ فائنل کا پہلا ہاف ٹائم شو: جسٹن بیبر، میڈونا، شکیرا اور بی ٹی ایس بھی محفل گرمائیں گے

ماہرین کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کا سب سے بڑا معاشی فائدہ اب سامنے آ رہا ہے کیونکہ فیصلہ کن مقابلوں کے ساتھ شائقین کی نقل و حرکت، سفری اخراجات اور میزبان شہروں میں کاروباری سرگرمیاں مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلاول بھٹو زرداری انتخابی مہم کے سلسلے میں مظفرآباد پہنچ گئے، کوہالہ پل پر پرتپاک استقبال

راولاکوٹ میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح افراد کی فائرنگ، سیکیورٹی اہلکار شہید، ایک زخمی

ڈیپ سیک کی نئی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوشش، مصنوعی ذہانت کی صلاحیت بڑھانے کا منصوبہ

دہشتگرد عناصر کو کسی صورت اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا : سرفراز بگٹی

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ترکیہ میں اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں، عسکری اعزاز سے نواز دیا گیا

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم