فٹبال ورلڈ کپ میں بعض اوقات صرف ایک میچ کسی کھلاڑی کی زندگی بدلنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ کیپ وردے کے 40 سالہ گول کیپر ووزینہ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا جنہوں نے اسپین کے خلاف شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو 0-0 سے ڈرا دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس حیران کن کارکردگی کے بعد وہ سوشل میڈیا پر راتوں رات عالمی شہرت حاصل کر گئے۔
یہ بھی پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ 2026: کیپ ورڈے کے گول کیپر کے چند گھنٹوں میں لاکھوں فالوورز بڑھ گئے
ووزینہ کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد محض 50 ہزار سے بڑھ کر ایک کروڑ 74 لاکھ تک جا پہنچی جو کئی عالمی کھلاڑیوں سے بھی زیادہ ہے۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کی اچانک ملنے والی مقبولیت کھلاڑیوں کے لیے مالی مواقع کے نئے دروازے کھول سکتی ہے تاہم اس شہرت کو برقرار رکھنا آسان نہیں ہوتا۔
میڈیا اور کھیلوں کے امور کے ماہر مائیک سیرازیو کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی شہرت عموماً عارضی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وائرل شہرت بہت تیزی سے عروج پر پہنچتی ہے لیکن اکثر اسی رفتار سے ختم بھی ہو جاتی ہے۔
مزید پڑھیے: ورلڈ کپ 2026 کے ہیرو گول کیپر ووزینا کی والدہ کو امریکا لانے کی کوششیں، محکمہ خارجہ متحرک
کارنیل یونیورسٹی کی ڈیجیٹل میڈیا ماہر بروک ڈفی کے مطابق لاکھوں فالوورز رکھنے والے سوشل میڈیا انفلوئنسرز ایک پوسٹ کے عوض لاکھوں ڈالر تک معاوضہ حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق آج کے دور میں فالوورز ایک کرنسی کی حیثیت رکھتے ہیں اور زیادہ فالوورز عموماً زیادہ آمدنی کا ذریعہ بنتے ہیں۔
سوشل میڈیا نے شہرت کا نیا راستہ کھول دیا
ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کے دفاعی کھلاڑی ٹِم پین کی مثال بھی اس رجحان کو واضح کرتی ہے۔ ایک ارجنٹائنی سوشل میڈیا انفلوئنسر نے انہیں ٹورنامنٹ کا سب سے کم معروف کھلاڑی قرار دیتے ہوئے اپنے فالوورز سے ان کی مقبولیت بڑھانے کی اپیل کی۔ ٹِم پین نے بھی اس موقعے سے فائدہ اٹھایا اور سوشل میڈیا پر اپنی سرگرمیاں بڑھا دیں۔
مزید پڑھیں: ڈیبیو میچ، 2 گول اور یادگار جیت: ایرلنگ ہالینڈ نے ورلڈ کپ میں دھاک بٹھا دی
چند ہی دنوں میں ان کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد تقریباً 5 ہزار سے بڑھ کر 60 لاکھ کے قریب پہنچ گئی جو ان کے آبائی ملک نیوزی لینڈ کی کل آبادی سے بھی زیادہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں کھیلوں کی دنیا میں ایسے کھلاڑیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جن کی شہرت صرف میدان میں کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ سوشل میڈیا کی مقبولیت کی وجہ سے قائم ہوتی ہے۔
کیا ورلڈ کپ کے بعد بھی یہ شہرت برقرار رہے گی؟
ماہرین کے مطابق کھیلوں کی دنیا میں وائرل لمحات کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اب پورے میچ کی کارکردگی کے مقابلے میں ایک یادگار لمحہ سوشل میڈیا پر زیادہ مقبولیت حاصل کر سکتا ہے۔
تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا ورلڈ کپ کے دوران اچانک ملنے والی شہرت کو کھلاڑی طویل مدتی کیریئر اور مالی مواقع میں تبدیل کر سکتے ہیں؟
یہ بھی پڑھیے: ایک خاموش مداح کی کہانی، جس کا انداز فٹبال ورلڈ کپ میں مرکز توجہ بن گیا
مائیک سیرازیو کے مطابق کھلاڑیوں کے پاس ایک محدود وقت ہوتا ہے جس میں انہیں اپنی نئی شہرت کو مستحکم کرنا پڑتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ عالمی شہرت یافتہ ستاروں کے برعکس ایسے کھلاڑی جنہیں صرف ایک بڑے ٹورنامنٹ کے دوران شہرت ملتی ہے ان کے لیے اس مقبولیت کو طویل عرصے تک برقرار رکھنا مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔
اس کی ایک کامیاب مثال امریکی رگبی کھلاڑی ایلونا ماہر ہیں جنہوں نے 2024 پیرس اولمپکس کے دوران حاصل ہونے والی مقبولیت کو مختلف شعبوں میں کامیابی سے استعمال کیا۔ وہ اب پوڈکاسٹ، برانڈ اشتہارات، ماڈلنگ اور ٹیلی ویژن پروگراموں میں بھی نمایاں مقام حاصل کر چکی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کی دنیا میں نئے ستاروں کے لیے طویل مدتی مواقع موجود ہیں لیکن ان کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ ٹورنامنٹ کے بعد بھی اپنے مداحوں کی دلچسپی کو کس حد تک برقرار رکھ پاتے ہیں۔
مزید پڑھیں: فٹبالر رونالڈو نے نئی تاریخ رقم کردی، سوشل میڈیا پر 1 ارب فالوورز ہوگئے
ورلڈ کپ کے یہ وائرل ستارے اس وقت اپنی مقبولیت کے عروج پر ہیں تاہم ان کا مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ وہ اس شہرت کو کس طرح مستقل کامیابی میں تبدیل کرتے ہیں۔














