اسپیس ایکس کے سابق انجینیئروں کی ٹیکنالوجی کمپنی نے 11 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سرمایہ حاصل کرلیا

منگل 14 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی ریاست ٹیکساس میں قائم تعمیراتی ٹیکنالوجی کمپنی ٹیرا فرما نے سرمایہ کاری کے نئے مرحلے میں 11 کروڑ 50 لاکھ ڈالر حاصل کرلیے ہیں۔ یہ کمپنی اسپیس ایکس کے سابق انجیئروں نے قائم کی ہے اور اس کا مقصد مستقبل میں چاند اور مریخ پر تعمیراتی منصوبوں کے لیے ٹیکنالوجی تیار کرنا ہے۔

کمپنی نے بتایا کہ سرمایہ کاری کے اس مرحلے میں کلینر پرکنز، بین کیپیٹل وینچرز اور دفاعی ٹیکنالوجی سے وابستہ کمپنیوں اسپیس ایکس، اینڈرل اور ہیڈرین سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں نے حصہ لیا۔

یہ بھی پڑھیں: اسپیس ایکس زمین کی مجموعی مالیت سے بھی زیادہ قیمتی ہوسکتی ہے، ایلون مسک کا دعویٰ

ٹیرا فرما ایسی جدید مشینیں تیار کر رہی ہے جنہیں دور بیٹھ کر کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ کمپنی کے مطابق ان مشینوں کو چلانے کے لیے ایکس باکس کنٹرولر جیسے آلات استعمال کیے جاتے ہیں، جس سے تعمیراتی کام کی لاگت کم اور کارکنوں کی حفاظت بہتر بنائی جا سکتی ہے۔

کمپنی کے شریک بانی اور سربراہ نوح شوشے کا کہنا ہے کہ دنیا میں تقریباً ہر نئی صنعت کی ترقی کے لیے بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہے، لیکن تعمیراتی شعبہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں دیگر صنعتوں سے پیچھے ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسپیس ایکس میں راکٹ بنانے کے دوران بڑے پیمانے پر خودکار نظام اور تیز رفتار تیاری کے طریقے استعمال کیے گئے، مگر ایسے طریقے تعمیراتی صنعت تک نہیں پہنچ سکے، اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے ٹیرا فرما کام کررہی ہے۔

کمپنی اس سرمایہ کاری کو استعمال کرتے ہوئے آئندہ ایک سال میں تقریباً 300 نئے ملازمین بھرتی کرنے، ٹیکساس میں فیکٹری قائم کرنے اور مشن کنٹرول سینٹر بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسپیس ایکس کے اے آئی فون کی آمد، ایلون مسک کیا کہتے ہیں؟

ٹیرا فرما اسپیس ایکس سے نکلنے والی ان نئی کمپنیوں میں شامل ہے جو خلا سے متعلق بڑھتی ہوئی معیشت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اسپیس ایکس کے سابق ملازمین کی قائم کردہ دیگر کمپنیوں میں ہائپرسونک ہتھیار بنانے والی کاسٹیلیون اور خلائی راکٹ تیار کرنے والی ریلیٹیوٹی اسپیس بھی شامل ہیں۔

اسپیس ایکس کی حالیہ بڑی سرمایہ کاری اور ناسا کی جانب سے چاند پر مستقل اڈہ قائم کرنے کے منصوبوں نے خلائی صنعت سے وابستہ کمپنیوں میں نئی امید پیدا کی ہے۔ ماہرین کے مطابق مستقبل میں چاند اور مریخ پر شمسی توانائی کے مراکز اور دیگر صنعتی منصوبوں کے قیام کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

ٹیرا فرما کے بانی نوح شوشے اور نوح میک گینس نے تقریباً ایک دہائی قبل پرنسٹن یونیورسٹی میں انجینئرنگ کی تعلیم کے دوران ایک دوسرے سے ملاقات کی تھی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد دونوں نے اسپیس ایکس میں کام کیا، جہاں میک گینس نے سرکاری سیٹلائٹ پروگرام جبکہ شوشے نے اسٹار لنک اور اسٹارشپ منصوبوں پر کام کیا۔

اسپیس ایکس میں کام کے دوران دونوں نے تیز رفتار تعمیر اور بڑے منصوبوں کی تیاری کے تجربات حاصل کیے، جس نے انہیں تعمیراتی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا خیال دیا۔

یہ بھی پڑھیں: اسپیس ایکس کے ہزاروں شیئر ہولڈرز کی دولت میں غیرمعمولی اضافہ، ایلون مسک کھرب پتی بن گئے

کمپنی کی انجینئرنگ ٹیم کے تقریباً نصف ارکان پہلے اسپیس ایکس، ٹیسلا یا بورنگ کمپنی میں کام کر چکے ہیں۔

فی الحال ٹیرا فرما اپنی ٹیکنالوجی کو زمین پر آزما رہی ہے اور اس کے حالیہ منصوبوں میں ایک کھیلوں کا میدان اور معروف کافی کمپنی کا منصوبہ شامل ہے۔

تاہم کمپنی کا طویل مدتی ہدف خلا میں تعمیرات ہے اور وہ مستقبل میں چاند سے متعلق منصوبوں میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

نوح شوشے کے مطابق خلا میں نئی بستیاں قائم کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ ایسی معیشت اور بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جائے جو موجودہ دنیا کی حقیقی ضروریات سے جڑا ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ڈیجیٹل دور میں والدین اور بچوں کے تعلق کی نوعیت بدل چکی ہے، روبینہ اشرف

اے آئی کے پھیلاؤ کے دوران نیویارک کا بڑا فیصلہ، بڑے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر ایک سالہ پابندی

اسلام آباد میں شدید گرمی سے متاثرہ پرندوں کی جان بچانے کے لیے امدادی سرگرمیاں تیز

ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر 20 فیصد فیس لینے کا منصوبہ واپس لے لیا، تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی

ناروے کے تعلیمی نظام نے ایک شخص کی بچپن سے متعلق سوچ بدل دی، سوشل میڈیا پر بحث چھڑگئی

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟