وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پاکستان نے مختلف اقدامات کے ذریعے 47 کھرب 22 ارب روپے سے زائد کا سرکاری قرض مقررہ مدت سے پہلے واپس کر دیا ہے، جو ملکی تاریخ میں قرضوں کے بہتر انتظام کی سب سے بڑی کارروائی ہے۔
خرم شہزاد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں بتایا کہ حکومت نے حالیہ مرحلے میں پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کی 279 ارب روپے مالیت کی قبل از وقت واپسی کی، جس کے بعد اب تک مجموعی طور پر 4.722 کھرب روپے کا قرض مدت مکمل ہونے سے پہلے ادا کیا جاچکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
انہوں نے اس اقدام کو پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑا اور مسلسل قرض انتظامی آپریشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معمول کی قرض ادائیگی نہیں بلکہ حکومت کی فعال حکمت عملی کا حصہ ہے۔
تفصیلات کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران 29 کھرب روپے کا قرض مقررہ وقت سے پہلے واپس کیا گیا، جو مالی سال 2024-25 کے 18 کھرب روپے کے مقابلے میں 62 فیصد زیادہ ہے۔ مالی سال 2025-26 میں واپس کیے گئے قرض میں 51 فیصد مرکزی بینک کا قرض جبکہ 49 فیصد مارکیٹ سے حاصل کردہ قرض شامل تھا۔
خرم شہزاد کے مطابق قبل از وقت قرض ادائیگی کی حکمت عملی کا مقصد قرضوں کی دوبارہ فنانسنگ اور ادائیگی کے خطرات کم کرنا، قرضوں پر آنے والے اخراجات میں کمی، نقدی کے بہتر انتظام اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان معاشی استحکام سے ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے، مشیر خزانہ خرم شہزاد
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے قرضوں کے ڈھانچے میں بھی بہتری آئی ہے اور قرض کی اوسط مدت مالی سال 2023-24 میں 2.7 سال سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں 3.8 سال سے زائد ہوگئی ہے۔
وزیر خزانہ کے مشیر کے مطابق مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں قرضوں کا تناسب مالی سال 2022-23 کے 75 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 2025-26 میں تقریباً 68.5 فیصد رہ گیا ہے، جبکہ مرکزی بینک سے قرض لینے پر انحصار میں بھی نمایاں کمی ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ قرض واپس کرنے کا یہ عمل مختلف مراحل میں مکمل کیا گیا، جس کا آغاز اکتوبر 2024 میں 826 ارب روپے کے قرض کی قبل از وقت واپسی سے ہوا۔ اس کے بعد نومبر 2024، مارچ 2025، جون 2025، اگست 2025، نومبر 2025، دسمبر 2025، جنوری 2026، اپریل 2026 اور مئی 2026 میں مزید اقدامات کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: علاقائی غیر یقینی کے باوجود پاکستان کی معیشت سنبھلنے لگی، مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد
خرم شہزاد نے کہا کہ قرضوں کے انتظام کی یہ حکمت عملی ملکی مالیاتی اصلاحات کا حصہ ہے، جس کا مقصد مہنگائی میں کمی، مالیاتی اور بیرونی توازن میں بہتری، معاشی استحکام اور طویل مدتی مالی پائیداری کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت قلیل مدتی قرض لینے کے بجائے مالیاتی خطرات کم کرنے، قرضوں کی لاگت گھٹانے اور مضبوط مالیاتی نظام کے قیام کے لیے متحرک حکمت عملی اختیار کررہی ہے۔














