بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر غازی آباد میں جائیداد کی تقسیم کے تنازع پر ایک 32 سالہ شخص نے مبینہ طور پر اپنے والد کو گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق ملزم واردات کے بعد اسلحہ سمیت فرار ہوگیا جبکہ اس کی گرفتاری کے لیے مختلف ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزم نکھل مبینہ طور پر نشے کی حالت میں گھر پہنچا۔ اس دوران اس کی اپنے والد ہری اوم چودھری سے جائیداد کی تقسیم اور شراب نوشی کے معاملے پر تلخ کلامی ہوئی جو دیکھتے ہی دیکھتے خونریز تصادم میں تبدیل ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، سی سی ٹی وی کی مدد سے 3 ملزمان گرفتار
پولیس کا کہنا ہے کہ جھگڑے کے دوران نکھل نے پستول نکال کر اپنے والد پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ ہری اوم چودھری کے چہرے، سینے اور پیٹ پر متعدد گولیاں لگیں۔ انہیں تشویشناک حالت میں قریبی نجی اسپتال منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹرز نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔
رپورٹس کے مطابق مقتول ہری اوم چودھری بودانہ گاؤں کے ایک معروف اور خوشحال کسان تھے۔ ان کے پاس مودی نگر میں تقریباً 75 بیگھا زرعی زمین، دہلی-میرٹھ ایکسپریس وے کے قریب قیمتی اراضی، متعدد دکانیں اور دیگر کمرشل جائیداد موجود تھی۔ خاندان کی مجموعی جائیداد کی مالیت تقریباً 150 کروڑ بھارتی روپے (تقریباً ڈیڑھ ارب پاکستانی روپے) بتائی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سالگرہ کے دن موت کا تحفہ: پولیس اہلکار نے اہلیہ کو چوراہے پر قتل کر دیا
پولیس کے مطابق جائیداد کی تقسیم کا منصوبہ پہلے سے موجود تھا اور والد نے دونوں بیٹوں کے علاوہ اپنے اور اپنی اہلیہ کے لیے بھی حصے مختص کر رکھے تھے تاہم قانونی منتقلی کے کاغذات ابھی تک مکمل نہیں کیے گئے تھے۔
خاندانی ذرائع کے مطابق نکھل مسلسل اپنے حصے کی جائیداد فوری طور پر اپنے نام منتقل کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا لیکن ہری اوم نے مبینہ طور پر بیٹے کی شراب نوشی کی عادت کے باعث اس سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ شادی سے قبل جائیداد منتقل نہیں کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں شوہر کے ہاتھوں بھارتی نژاد گوگل انجینیئرقتل، بیٹا بھی زخمی
اطلاعات کے مطابق والد پہلے ہی نکھل کو تقریباً 25 بیگھا زمین اور بازار میں چند دکانیں دے چکے تھے تاہم ملزم باقی جائیداد بھی اپنے نام کروانا چاہتا تھا۔ پولیس نے بھارتیہ نیایا سنہیتا (BNS) کی دفعہ 103 کے تحت قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور ملزم کی تلاش جاری ہے۔
تفتیش کار 2018 کے ایک پرانے واقعے کا بھی جائزہ لے رہے ہیں جس میں الزام ہے کہ نکھل نے خاندانی تنازع کے دوران اپنے چھوٹے بھائی کو بھی گولی مار کر زخمی کر دیا تھا۔














