پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما اور پارلیمانی سیکریٹری برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ ڈاکٹر شائستہ جدون نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور ترقی کے بجائے احتجاجی سیاست میں الجھا دیا تاہم اب صوبے کے عوام اور نوجوان ان کی سیاست کو سمجھ چکے ہیں اور آئندہ انتخابات میں مختلف نتائج سامنے آئیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: عوام کی امیدوں پر پورا اترنے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں، مریم نواز
وی نیوز کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں ڈاکٹر شائستہ جدون نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل عمران خان کی رہائی کے نعروں سے نہیں بلکہ معیاری تعلیم، جدید یونیورسٹیوں، روزگار، ٹیکنیکل تربیت اور بنیادی سہولیات سے وابستہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں تعلیمی اداروں، بنیادی انفراسٹرکچر اور ٹرانسپورٹ کی صورتحال اب بھی تشویشناک ہے۔
خیبر پختونخوا میں مسلم لیگ کو تعمیر نو کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو خیبرپختونخوا میں مشکل سیاسی حالات کا سامنا ضرور رہا خصوصاً اس دور میں جب نواز شریف اور مریم نواز کو سیاسی پابندیوں اور مقدمات کا سامنا تھا جس کے باعث پارٹی میں اختلافات بھی پیدا ہوئے تاہم اب تنظیم نو کی ضرورت ہے اور نوجوانوں کو پارٹی میں زیادہ سے زیادہ متحرک کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر شائستہ جدون نے کہا کہ مریم نواز ان کی سیاسی رول ماڈل ہیں۔ ان کے بقول سنہ 2021 میں مریم نواز سے پہلی تفصیلی ملاقات کے بعد انہیں عوامی انداز میں مؤثر گفتگو کا اعتماد ملا اور وہ سمجھتی ہیں کہ مسلم لیگ (ن) خواتین کو عزت اور سیاسی مواقع فراہم کرتی ہے۔
مزید پڑھیے: خیبرپختونخوا کو گزشتہ 5 برسوں میں کتنے فنڈز ملے؟ اعداد و شمار اسمبلی میں جمع
انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں گزشتہ 14 برس کے دوران عوام سے کیے گئے متعدد وعدے پورے نہیں ہوئے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ صحت، تعلیم، مقامی حکومتوں اور ترقیاتی منصوبوں میں عوام کو توقعات کے مطابق نتائج نہیں مل سکے جبکہ نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے گمراہ کیا گیا۔
’شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے‘
مولانا فضل الرحمان کے شہدا کے بارے میں دیے گئے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے شائستہ جدون جذباتی ہو گئیں اور انہوں نے گلو گیر آواز میں کہا کہ شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد نیول آفیسر اور وہ جب بھی آبدوز میں ڈیوٹی پر ہوتے ان کا تمام وقت دعاوں میں گزرتا تھا۔
مزید پڑھیں: فوج سے متعلق مولانا فضل الرحمان کا متنازع بیان اسلام آباد کے شہریوں نے مسترد کردیا
ان کا کہنا تھا کہ فوج کے کچھ لوگوں کے ساتھ اختلاف ہونا ایک بات ہے لیکن اس کی وجہ سے شہدا پر منفی تبصرے نہیں کیے جانے چاہییں۔ مولانا فضل الرحمان نے اس معاملے پر دل دکھایا ہے۔
’ہزارہ ڈویژن کو ترقی کے ثمرات نہیں ملے‘
ڈاکٹر شائستہ جدون نے صحت کارڈ منصوبے پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بعض طبی مراکز میں ناقص معیار کی طبی سہولیات اور آلات استعمال کیے گئے جس کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ ہزارہ ڈویژن کے لیے بڑے ترقیاتی فنڈز کے اعلانات کیے گئے تاہم عملی طور پر عوام کو ان کے ثمرات نہیں ملے۔ ان کے مطابق آج بھی ہزارہ میں برن یونٹ سمیت کئی بنیادی طبی سہولیات موجود نہیں ہیں۔
دہشتگردی کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر شائستہ جدون نے کہا کہ خیبرپختونخوا دہشتگردی اور پراکسی جنگ کا شکار رہا ہے لہٰذا ایسے حالات میں ریاستی اداروں اور پاک فوج کے خلاف مہم چلانے کے بجائے ان کی حمایت کی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز قومی سلامتی کے لیے ضروری ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پی ٹی آئی کی اندرونی رسہ کشی، خیبرپختونخوا کے عوام پریشان
وفاقی حکومت کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت نوجوانوں اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
ڈاکٹر شائستہ جدون کا کہنا تھا کہ وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت طلبہ کو لیپ ٹاپ، وظائف، ہنر مندی کی تربیت اور دیگر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ خیبرپختونخوا کے طلبہ بھی ان پروگراموں سے مستفید ہو رہے ہیں۔
’خواتین کو ہنر سکھانے پر توجہ دی جائے‘
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شائستہ جدون نے کہا کہ مالی امداد کے ساتھ ساتھ خواتین کو ہنر سکھانے اور مستقل روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر بھی توجہ دینی چاہیے تاکہ وہ معاشی طور پر خودمختار بن سکیں۔
ڈاکٹر شائستہ جدون کے مطابق شہد کی مکھیوں کی افزائش، کچن گارڈننگ اور دیگر ہنر مندی کے منصوبے خواتین کو مستقل آمدن کا ذریعہ فراہم کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام: کھربوں روپے کے اخراجات اور غربت میں اضافہ، جامع اصلاحات اور عارضی بریک کی ضرورت
انہوں نے اظہار امید کیا کہ آئندہ انتخابات میں خیبرپختونخوا کے ووٹرز گزشتہ برسوں کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتر فیصلہ کریں گے اور مسلم لیگ (ن) سمیت دیگر جماعتوں کو بھی صوبے میں بہتر سیاسی مواقع حاصل ہوں گے۔













