کراچی کے علاقے کشمیر کالونی میں ان دنوں آزاد جموں و کشمیر کے 27 جولائی کو ہونے والے انتخابات اور مہاجرین کے لیے مختص نشستوں پر خاصی بحث جاری ہے۔ برسوں سے کراچی میں آباد ہزاروں کشمیری خاندان اپنے آبائی علاقوں سے جذباتی تعلق رکھتے ہیں اور انتخابات کے دوران ان نشستوں کو انتہائی اہم سمجھتے ہیں۔
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی یہ نشستیں ان کشمیری مہاجرین کے لیے مختص ہیں جو تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں، خصوصاً کراچی، لاہور اور راولپنڈی میں آباد ہوئے۔ یہی نشستیں کئی بار حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں، جس کی وجہ سے ان پر سیاسی اور عوامی بحث شدت اختیار کر جاتی ہے۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات: ن لیگ کی مہم جاری، نواز شریف کے دورہ میرپور کا اعلان
کشمیر کالونی میں ’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے متعدد شہریوں نے کہاکہ وہ کئی برسوں سے اپنے آبائی علاقوں کا رخ کررہے ہیں، جبکہ وہاں ترقیاتی کاموں اور بنیادی سہولیات کے حوالے سے بھی لوگوں میں سوالات موجود ہیں۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ پاکستان میں رہتے، کام کرتے اور یہاں کی معیشت کا حصہ ہیں، تاہم آزاد کشمیر کے معاملات سے ان کا تعلق آج بھی قائم ہے۔
مقامی افراد کے مطابق آزاد کشمیر کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے انہیں خود وہاں جانا پڑتا ہے، کیونکہ اب تک ایسا کوئی نظام متعارف نہیں کرایا گیا جس کے ذریعے کراچی یا پاکستان کے دیگر شہروں میں مقیم کشمیری آسانی سے اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔
بعض شہریوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ مہاجرین کی نشستیں اہم ضرور ہیں، لیکن ان نشستوں کے نمائندوں کو عوام سے رابطہ مزید مضبوط بنانے اور اپنے حلقوں کے مسائل کے حل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کا اعتماد بحال ہو سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں جاری احتجاجی تحریک اور سیاسی کشیدگی نے انتخابی سرگرمیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ بعض کشمیریوں کا کہنا ہے کہ اس وقت خطے میں صرف انتخابی مہم نہیں، بلکہ نمائندگی، اختیارات اور عوامی مسائل پر بھی بحث جاری ہے۔
تاہم کشمیر کالونی کے رہائشی اس بات پر متفق نظر آئے کہ اختلافات اور تحفظات کے باوجود جمہوری عمل کا تسلسل ضروری ہے۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات: ڈیوٹی پر مامور سرکاری ملازمین کب ووٹ ڈالیں گے؟
ان کا کہنا تھا کہ عوام کے مسائل کا حل مذاکرات، آئینی طریقہ کار اور مضبوط جمہوری اداروں کے ذریعے ہی ممکن ہے، تاکہ آزاد کشمیر کے عوام اور پاکستان کے درمیان موجود تاریخی اور جذباتی رشتہ مزید مضبوط ہو سکے۔













