پاکستان کے ابھرتے ہوئے نوجوان اوپنر عبداللہ فضل نے ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ سے قبل شاندار فارم کا مظاہرہ کرتے ہوئے میزبان ٹیم کے بولرز کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور ویسٹ انڈیز کا 4 روزہ پریکٹس میچ بے نتیجہ ختم، پہلا ٹیسٹ 25 جولائی سے شروع ہوگا
23 سالہ بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے بیٹر نے وارم اپ میچ میں دونوں اننگز میں ناقابل شکست رہتے ہوئے پہلی اننگز میں 50 اور دوسری اننگز میں جارحانہ انداز سے 48 رنز بنا کر واضح پیغام دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لیے تیار ہیں۔
ناکامیوں سے کامیابی تک کا سفر
عبداللہ فضل کا قومی ٹیم تک پہنچنے کا سفر آسان نہیں رہا۔ صرف 3 برس قبل وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنی جگہ برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔ ستمبر 2023 میں حنیف محمد ٹرافی کے دوران وہ 4 اننگز میں صرف 27 رنز بنا سکے تھے جس کے بعد 2 میچوں کے بعد ہی انہیں ٹیم سے باہر کر دیا گیا۔
🚨🇵🇰 INSIDE NEWS 🚨
Abdullah Fazal is set to bat in the middle order, with Saud Shakeel expected to make way in Pakistan’s lineup. 🏏
If confirmed, it would be a significant selection call as Pakistan look to reshape their batting order ahead of the upcoming Test series.
— Iru Iqbal 🇵🇰 (@IrtazaIqbal167) July 22, 2026
تاہم کراچی بلیوز کے کوچ اقبال امام نے نوجوان بیٹر میں غیرمعمولی صلاحیت دیکھی۔ ان کے مطابق اگرچہ فضل آف اسٹمپ سے باہر گیندوں پر غیر ضروری شاٹس کھیل رہے تھے لیکن ان کے بنیادی کھیل اور شاٹس میں موجود قدرتی طاقت نے انہیں متاثر کیا۔
مزید پڑھیے: 3 سال بعد بیرون ملک ٹیسٹ: ویسٹ انڈیز کے خلاف پاکستان کرکٹ ٹیم کے امتحان کا 25 جولائی سے آغاز
اقبال امام کے مطابق عبداللہ فضل کی سب سے نمایاں خوبی ان کی سیکھنے کی لگن تھی۔ وہ خود کم معیار کے میدانوں میں ٹرائل میچ کھیلنے پر اصرار کرتے تھے تاکہ اپنی خامیوں کو دور کر سکیں۔ کوچ کا کہنا ہے کہ یہی جذبہ انہیں دوسرے نوجوان کرکٹرز سے ممتاز بناتا ہے۔
ڈومیسٹک کرکٹ میں دھماکا خیز واپسی
سال2024-25 کا ڈومیسٹک سیزن عبداللہ فضل کے لیے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ قومی ٹیم میں صائم ایوب کی شمولیت کے بعد انہیں کراچی بلیوز کی نمائندگی کا موقع ملا جس سے انہوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔
انہوں نے قائداعظم ٹرافی کے فائنل میں سیالکوٹ کے مضبوط بولنگ اٹیک جس میں حسن علی، محمد علی اور محمد حسنین جیسے تجربہ کار بولرز شامل تھے کے خلاف 88 اور 114 رنز کی شاندار اننگز کھیلیں۔ ان کی عمدہ کارکردگی پر انہیں پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا جبکہ کراچی بلیوز نے ٹائٹل اپنے نام کیا۔
ٹیسٹ ڈیبیو میں بھی متاثر کن آغاز
ڈومیسٹک کرکٹ میں مسلسل عمدہ کارکردگی کے بعد عبداللہ فضل کو پاکستان کے بنگلہ دیش کے دورے کے لیے قومی ٹیم میں شامل کیا گیا۔
مزید پڑھیں: ویسٹ انڈیز کیخلاف ٹیسٹ سیریز، قومی کرکٹ ٹیم ٹرینیڈاڈ پہنچ گئی
پہلے ٹیسٹ سے قبل بابر اعظم انجری کے باعث باہر ہوئے تو عبداللہ فضل کو مرپور ٹیسٹ میں ڈیبیو کا موقع ملا۔ انہوں نے دباؤ کے باوجود پہلی اننگز میں 60 اور دوسری اننگز میں 66 رنز بنا کر پاکستان کے سب سے کامیاب بیٹر ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔
وارم اپ میچ میں ناقابل شکست کارکردگی
ویسٹ انڈیز سلیکٹ الیون کے خلاف پورٹ آف اسپین میں کھیلے گئے چار روزہ وارم اپ میچ میں عبداللہ فضل نے ایک مرتبہ پھر اپنی کلاس دکھائی۔
Babar tried his best to accommodate imam as an opener but he failed in both innings
Imam 10,14
Abdullah 50 & 48 (RO)
Now Abdullah must open ahead of Imam pic.twitter.com/bOPqKkOx82— Huzaifa khan (@HuzaifaKhan021) July 22, 2026
انہوں نے پہلی اننگز میں 97 گیندوں پر ناقابل شکست 50 رنز بنائے، جبکہ دوسری اننگز میں صرف 48 گیندوں پر 48 ناٹ آؤٹ رنز اسکور کیے جس میں تین شاندار چھکے بھی شامل تھے۔
دونوں اننگز میں آؤٹ نہ ہونے سے انہوں نے ثابت کیا کہ وہ نہ صرف لمبی اننگز کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر جارحانہ انداز بھی اختیار کر سکتے ہیں۔
عبداللہ فضل کو منفرد بنانے والی خصوصیت
اقبال امام کے مطابق عبداللہ فضل کی ایک منفرد خوبی یہ ہے کہ وہ دائیں ہاتھ سے تھرو کرتے ہیں لیکن بیٹنگ بائیں ہاتھ سے کرتے ہیں۔
کوچ کا کہنا ہے کہ اس انداز سے ان کا اوپری ہاتھ زیادہ مضبوط رہتا ہے جس سے انہیں طاقتور شاٹس کھیلنے میں مدد ملتی ہے۔ ان کے مطابق یہی خوبی ماضی میں سر گیری سوبرز، انضمام الحق، کرس گیل اور برائن لارا جیسے عظیم بیٹرز میں بھی دیکھی گئی تھی اگرچہ وہ عبداللہ فضل کا ان سے موازنہ نہیں کر رہے۔
یہ بھی پڑھیے: ٹیسٹ کپتانی دوبارہ ملنے پر بابر اعظم کا پیغام، ویسٹ انڈیز دورے سے قبل ذمہ داری پر فخر کا اظہار
انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان بیٹر کی دفاعی تکنیک مضبوط ہے، وہ فاسٹ بولرز کو دیر سے کھیلتے ہیں اور اسپنرز کے خلاف بہترین فٹ ورک رکھتے ہیں جو ان کو ایک مکمل بیٹر بناتا ہے۔
ویسٹ انڈیز کی کنڈیشنز سے نمٹنے کا مشورہ
اقبال امام نے عبداللہ فضل کو ویسٹ انڈیز کی باؤنس والی وکٹوں پر محتاط شاٹ سلیکشن اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
ان کے مطابق اگر نوجوان اوپنر اپنا قدرتی کھیل برقرار رکھیں تو وہ کیریبین کنڈیشنز میں بھی کامیاب رہ سکتے ہیں کیونکہ وہ سیمنگ وکٹوں پر اچھی بیٹنگ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ویسٹ انڈیز کے بولرز کے لیے خطرے کی گھنٹی
وارم اپ میچ میں دونوں اننگز میں ناقابلِ شکست رہنے کے بعد عبداللہ فضل نے میزبان بولرز کو واضح پیغام دیا ہے کہ انہیں تر نوالہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
ان کی تحمل مزاجی، شاٹ سلیکشن اور ضرورت کے مطابق رفتار تبدیل کرنے کی صلاحیت پاکستان کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوئی ہے جبکہ ویسٹ انڈیز کے بولرز کو پہلے ٹیسٹ میں ان کے خلاف خصوصی منصوبہ بندی کرنا پڑے گی۔
پہلے ٹیسٹ سے قبل پاکستان کے لیے خوش آئند اشارہ
25 جولائی سے شروع ہونے والے پہلے ٹیسٹ سے قبل عبداللہ فضل کی فارم پاکستان کے لیے بڑی خوشخبری سمجھی جا رہی ہے۔
1st Test: Pakistan feasibly playing 11 🆚 West Indies
1.Imam ul Haq
2.Azan Awais
3.Shan Masood
4. Babar Azam
5. Abdullah Fazal
6. Mohammad Rizwan
7. Salman Ali Agha
8. Aamer Jamal
9. Mohammad Ali
10. Mohammad Abbas
11. Ali Usman#PAKvWI pic.twitter.com/zezmx9I5YV— Action Replay (@actionreplay25) July 21, 2026
ڈومیسٹک کرکٹ میں مشکلات سے گزر کر قومی ٹیم تک پہنچنے والے اس نوجوان بیٹر نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ صرف ٹیم کا حصہ بننے نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کرنے آئے ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان ویمنز ٹیم کا سری لنکا ٹور: ٹی20 سیریز نئے مقام پر منتقل، کس کا پلڑا بھاری؟
اب تمام نظریں اس بات پر مرکوز ہوں گی کہ آیا عبداللہ فضل وارم اپ میچ کی شاندار فارم کو پہلے ٹیسٹ میں بھی برقرار رکھتے ہوئے پاکستان کو 3 برس بعد بیرونِ ملک ٹیسٹ فتح دلانے میں اہم کردار ادا کر پاتے ہیں۔













