راول جھیل خطرے میں؟ کیا اسلام آباد کا یہ اہم آبی ذخیرہ بھی آلودہ نالے میں تبدیل ہو رہا ہے؟

ہفتہ 25 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد کی خوبصورت پہاڑیوں کے درمیان واقع راول جھیل صرف پانی کا ذخیرہ نہیں بلکہ ایک مکمل ماحولیاتی نظام کی علامت رہی ہے۔

واضح رہے کہ یہ جھیل دہائیوں سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے لیے پانی کے اہم ذرائع میں شامل ہے، جبکہ اس سے وابستہ آبی حیات، پرندے اور قدرتی ماحول اس کی ماحولیاتی اہمیت کو مزید بڑھاتے ہیں۔

تاہم حالیہ دنوں میں راول جھیل میں بڑی تعداد میں مچھلیوں کی ہلاکت نے ایک بار پھر اس کے مستقبل پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

جولائی 2026 سمیت 2024 اور 2025 میں بھی مچھلیوں کی بڑی تعداد میں اموات رپورٹ ہوئیں۔ مچھلیوں کی اموات نے پانی کے معیار، جھیل میں بڑھتی آلودگی اور متعلقہ اداروں کی نگرانی کے نظام پر سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:راول جھیل میں نایاب فلیمنگوز کا شکار، جنگلی حیات کے تحفظ پر سوالات

ماہرینِ ماحولیات کے مطابق اگر جھیل میں داخل ہونے والی آلودگی کو بروقت نہ روکا گیا اور پانی کے معیار کی مسلسل نگرانی نہ کی گئی، تو یہ خطرہ موجود ہے کہ راول جھیل بھی ان آبی گزرگاہوں کی طرح اپنی قدرتی شناخت کھو دے جو انسانی سرگرمیوں اور ناقص منصوبہ بندی کے باعث آلودگی کا شکار ہو چکی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا راول جھیل بھی ‘کورنگ نالہ’ اور ‘نالہ لئی’ کی طرح ایک آلودہ آبی گزرگاہ بننے کے راستے پر ہے؟

مچھلیوں کی ہلاکت، پانی کے معیار پر سوالات

راول جھیل میں مچھلیوں کی ہلاکت کو ماہرین صرف ایک وقتی واقعہ قرار نہیں دے رہے، بلکہ اسے جھیل کے ماحولیاتی نظام میں پیدا ہونے والی خرابی کی ممکنہ علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

آبی ماہرین کے مطابق پانی میں تحلیل شدہ آکسیجن کی کمی، غیر علاج شدہ سیوریج کے اخراج، کیمیائی مادوں کی موجودگی، درجہ حرارت میں تبدیلی اور پانی میں غذائی اجزا کی غیر معمولی مقدار آبی حیات کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ مچھلیاں پانی کے معیار کی ایک اہم حیاتیاتی نشاندہی سمجھی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق جب کسی آبی ذخیرے میں آلودگی بڑھتی ہے یا پانی کا قدرتی توازن متاثر ہوتا ہے، تو اس کے اثرات سب سے پہلے مچھلیوں اور دیگر آبی جانداروں پر ظاہر ہوتے ہیں۔

ماہرِ ماحولیات حسنین رضا کے مطابق کسی بھی جھیل کا ماحولیاتی نظام صرف پانی پر مشتمل نہیں ہوتا، بلکہ اس میں مچھلیاں، پرندے، پودے، پانی میں موجود جرثومے اور اردگرد کا قدرتی ماحول بھی شامل ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی ایک حصے میں خلل پیدا ہو تو اس کے اثرات پورے نظام پر مرتب ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں:ہیٹ ویو اور گلیشیائی جھیلیں پھٹنے کا خطرہ، آئندہ دنوں میں موسم سے متعلق الرٹ جاری کردیا گیا

حسنین رضا کے مطابق راول جھیل جیسے حساس ماحولیاتی مقام کے لیے ضروری ہے کہ پانی کے معیار کی باقاعدہ جانچ کی جائے، آلودگی کے ذرائع کی نشاندہی کی جائے اور مسئلے کو صرف صفائی تک محدود رکھنے کے بجائے اس کی بنیادی وجوہات کو ختم کیا جائے۔

سائنسی شواہد اور تحقیق

ماہرین کے مطابق راول جھیل کے پانی کے معیار پر کیے گئے متعدد سائنسی مطالعے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ 2011 میں Ghumman et al. کے طویل مدتی مطالعے میں بتایا گیا کہ جھیل کے اوپر والے علاقوں سے آنے والا پانی شدید آلودہ ہے، جس سے pH، turbidity، alkalinity اور دیگر پیرامیٹرز متاثر ہو رہے ہیں۔

 2022 کے Lashari et al. کے تحقیقاتی مطالعے میں بھی جھیل اور اس کے معاون نالوں کے پانی کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا، جس میں  ڈبلیو ایچ او کے معیار سے زیادہ آلودگی پائی گئی۔

کبھی پرندوں اور آبی حیات کا مسکن رہنے والی جھیل

راول جھیل ماضی میں اپنی قدرتی خوبصورتی اور حیاتیاتی تنوع کے لیے مشہور تھی۔ یہ جھیل مختلف اقسام کی مچھلیوں، پرندوں اور دیگر آبی جانداروں (جیسے اوڈبلاؤ اور میٹھے پانی کے کچھوے) کا مسکن رہی ہے۔

مختلف تحقیقات کے مطابق سردیوں کے موسم میں یہاں ہجرت کرنے والے پرندے بھی آتے تھے، جن میں بعض اقسام سائبیریا سمیت دیگر علاقوں سے ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کر کے پہنچتی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:گرین جرنلزم ماحولیاتی شعور اور کلائمیٹ جسٹس کے فروغ کا مؤثر ذریعہ ہے، عطا تارڑ

تاہم وقت کے ساتھ بڑھتی شہری آبادی، انسانی مداخلت، آلودگی اور پانی کے قدرتی بہاؤ میں تبدیلیوں نے اس ماحول کو متاثر کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق آبی ذخائر میں آلودگی کا اثر صرف پانی کے معیار تک محدود نہیں رہتا، بلکہ یہ وہاں موجود مکمل حیاتیاتی نظام کو متاثر کرتا ہے۔

کورنگ نالہ اور نالہ لئی سے ملتا جلتا خطرہ؟

ماہرین کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی میں ‘کورنگ نالہ’ اور ‘نالہ لئی’ ایسی مثالیں ہیں جہاں کبھی قدرتی پانی کے بہاؤ کا حصہ رہنے والی گزرگاہیں وقت کے ساتھ شدید آلودگی کا شکار ہوئیں۔

بڑھتی آبادی، غیر منصوبہ بند تعمیرات، سیوریج کے اخراج اور مؤثر نگرانی کے فقدان نے ان آبی گزرگاہوں کو متاثر کیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ راول جھیل کو بھی اسی طرح کے خطرات کا سامنا ہے، کیونکہ اگر آلودگی کے ذرائع کو مستقل بنیادوں پر نہ روکا گیا، تو جھیل کے قدرتی نظام پر دباؤ بڑھتا جائے گا۔

آبی وسائل کے ماہر ڈاکٹر آصف خان کے مطابق جھیلوں کا تحفظ صرف پانی کی صفائی کا معاملہ نہیں، بلکہ پورے واٹر مینجمنٹ نظام سے جڑا ہوا ہے۔

ان کے مطابق کسی بھی آبی ذخیرے میں آنے والے پانی کے ذرائع، اردگرد کی سرگرمیاں اور نکاسیِ آب کا نظام اس کے معیار پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔

سیوریج کا مسئلہ، سب سے بڑا چیلنج

ڈاکٹر آصف کے مطابق راول جھیل کے لیے سب سے بڑا خطرہ اردگرد کے علاقوں سے آنے والا غیر علاج شدہ سیوریج سمجھا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ یہاں ‘لیک ویو’ اور ‘جناح’ نالوں کے ذریعے آلودہ پانی کے جھیل میں شامل ہونے کے خدشات سامنے آتے رہے ہیں۔ یہی آلودہ پانی جھیل کے کیمیائی توازن اور آبی حیات کو متاثر کر سکتا ہے۔

اگر سیوریج میں موجود نامیاتی مادے پانی میں شامل ہوں، تو اس سے پانی میں آکسیجن کی مقدار کم ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں مچھلیوں اور دیگر جانداروں کے لیے زندہ رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس’ کے قیام کے منصوبے مختلف اوقات میں زیرِ بحث رہے، تاہم ان منصوبوں پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے مسئلہ برقرار ہے۔

مزید پڑھیں:عالمی یومِ ماحولیات: پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کا خواہاں، نائب وزیراعظم

دوسری جانب حسنین رضا کے مطابق جھیل کو بچانے کے لیے صرف صفائی مہمات کافی نہیں، بلکہ ضروری ہے کہ آلودگی پیدا کرنے والے ذرائع کو کنٹرول کیا جائے۔

پانی کے بحران کے درمیان راول جھیل کی اہمیت

راول جھیل کی اہمیت صرف ماحولیات تک محدود نہیں، بلکہ یہ دونوں جڑواں شہروں کی پانی کی ضروریات سے بھی جڑی ہوئی ہے۔

اسلام آباد اور راولپنڈی پہلے ہی پانی کے بڑھتے ہوئے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں ایک اہم آبی ذخیرے کے پانی کے معیار میں خرابی مستقبل میں شہری ضروریات کے لیے بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔

ڈاکٹر آصف خان کے مطابق پانی کے ذخائر کا تحفظ مستقبل کی آبی سلامتی سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ ان کے مطابق پانی کے معیار کو بہتر رکھنے کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی، جدید مانیٹرنگ نظام اور اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ ضروری ہے۔

اداروں کی ذمہ داری اور مستقبل کا سوال

راول جھیل کا تحفظ صرف ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ماحولیاتی تحفظ، شہری منصوبہ بندی، واٹر مینجمنٹ اور صفائی کے اداروں کے درمیان مربوط حکمتِ عملی کا تقاضا کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے، تو نقصان صرف جھیل کی خوبصورتی تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ آبی حیات، ماحول اور پانی کی دستیابی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ راول جھیل آج ایک اہم ماحولیاتی موڑ پر کھڑی ہے۔ آنے والے برسوں میں کیے جانے والے فیصلے طے کریں گے کہ یہ جھیل ایک زندہ قدرتی ذخیرے کے طور پر برقرار رہتی ہے یا پھر ان آبی گزرگاہوں کی فہرست میں شامل ہو جاتی ہے جو انسانی غفلت کے باعث اپنی اصل شناخت کھو بیٹھیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حکومت کا 2 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، خطے کی صورتحال اور پاک سعودی تعلقات پر تبادلہ خیال

جنوبی وزیرستان:سیکیورٹی فورسز نے خودکش حملہ ناکام بنا دیا، 4 فتنہ الخوارج دہشتگرد ہلاک

مون سون بارشیں جاری، چناب میں درمیانے درجے کے سیلاب اور کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ

ویڈیو

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

آزاد کشمیر الیکشن: گہما گہمی عروج پر پہنچ گئی، کس کا پلڑا بھاری؟

پہلا ٹیسٹ: برائن لارا اسٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری

کالم / تجزیہ

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار