پشاور کے اندرون شہر کے صرافہ بازار کے ساتھ واقع کشمیری گلی میں گہماگہمی ہے اور نوجوان و بزرگ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے لیے پُرجوش دکھائی دے رہے ہیں۔
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں خیبر پختونخوا میں آباد ساڑھے 7 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے، جس کے لیے امیدواروں نے بھی خیبر پختونخوا کا رخ کر لیا ہے۔ مہاجرین کے علاقوں میں بینرز اور پوسٹرز بھی لگنا شروع ہو گئے ہیں، جبکہ الیکشن دفاتر بھی قائم کیے گئے ہیں، جہاں ووٹرز کو سہولت فراہم کی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر: انتخابات 3 مرحلوں میں کرانے کے فیصلے سے سیاسی منظر نامہ تبدیل، کس جماعت کو فائدہ ہوگا؟
خواجہ شکیل انور پشاور میں آباد ہیں اور قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں ہر بار ووٹ ڈالتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس بار حالات مختلف ہیں۔ “ہم اپنا سب کچھ، مال، زمین، جائیداد، دولت اور کاروبار چھوڑ کر یہاں آ کر آباد ہوئے تھے، لیکن اب ان سے قانون ساز اسمبلی کے لیے حقِ رائے دہی ختم کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔”
انہوں نے بتایا کہ 2 اگست سازش کرنے والوں کو جواب دینے کا دن ہے اور پاکستان میں آباد مہاجرین اس کا بھرپور جواب دیں گے۔
افتخار حسین نے بتایا کہ وہ کشمیری مہاجر ہیں اور 1947 سے یہاں آ کر آباد ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ پشاور میں وادی نشست کے 1200 ووٹر ہیں، جبکہ جموں کے 10 ہزار۔ انہوں نے بتایا کہ انتخابات کے اعلان کے بعد ہی ان کے علاقے میں گہماگہمی شروع ہو گئی ہے۔ “ہم سب مل کر بیٹھتے ہیں، ایک دوسرے کو سنتے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کے لوگ یہاں موجود ہیں۔ سب ایک دوسرے کو سنتے ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ الیکشن دفاتر کھلے ہیں اور رات کے وقت گہماگہمی زیادہ ہوتی ہے، جبکہ سپورٹرز اپنے اپنے امیدواروں کے لیے گھر گھر مہم بھی چلا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہر گاؤں میں سیاست، ہر گھر میں الیکشن کا ماحول، آزاد کشمیر کے انتخابات ملک کے دیگر حصوں سے مختلف کیسے؟
قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے وقت مہاجر علاقوں میں ہر بار گہماگہمی ہوتی ہے، لیکن اس بار کچھ زیادہ جوش و خروش دکھائی دے رہا ہے، جس کی وجہ یہاں کے مقیم مہاجرین اپنی نشستوں کے خلاف سازش کو قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی ان کی نشستوں کو ختم کرنے کے لیے احتجاج کر رہی ہے، جو مہاجرین کے ساتھ زیادتی ہے۔
خواجہ شکیل کے مطابق مہاجرین کا دل کشمیر کے ساتھ دھڑکتا ہے اور انہیں حقِ رائے دہی سے محروم کرنا مہاجرین کے زخموں پر نمک پاشی کے برابر ہے، جو اپنا سب کچھ چھوڑ کر یہاں آئے تھے۔
محمد شہزاد ایک سیاسی جماعت کے کارکن ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ الیکشن کے دن قریب آتے ہی انہوں نے تیاری بھی شروع کر دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام ووٹرز کی فہرست نکالتے ہیں، پھر گھر گھر جا کر ان سے ووٹ مانگتے ہیں اور ساتھ انہیں پولنگ اسٹیشن کے بارے میں بھی بتا دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس بار جوش و خروش زیادہ ہے اور ٹرن آؤٹ بھی زیادہ آئے گا۔
الیکشن کے دن قریب آتے ہی الیکشن لڑنے والے امیدوار بھی پشاور کا رخ کرنا شروع ہو گئے ہیں اور گھر گھر جا کر ووٹرز سے مل رہے ہیں۔ خان عبدالمجید خان ایل اے 45 ویلی 6 سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں اور چار بار رکن اسمبلی بھی رہ چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی نے 35 حلقوں میں امیدواروں کو ٹکٹ جاری کردیے
انہوں نے پشاور میں باقاعدہ انتخابی مہم کا آغاز کیا ہے۔ وی نیوز سے بات کرتے ہوئے مجید خان نے بتایا کہ 2 اگست مہاجرین کے خلاف سازش کرنے والوں کو جواب دینے کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کئی سالوں سے مہاجرین کی نشستوں کے خلاف سازش کر رہی ہے۔ “یہ ان لوگوں کا بنیادی حق ہے اور کوئی ان سے یہ حق نہیں چھین سکتا۔”
انہوں نے بتایا کہ مہاجرین نے قربانیاں دی ہیں، سب کچھ چھوڑ کر یہاں آئے تھے، اور آج ان کے خلاف سازش ہو رہی ہے، جو شرمناک بات ہے۔ وہ پُرامید ہیں کہ 2 اگست کو ویلی نشست کے انتخاب کے لیے مہاجرین بڑی تعداد میں نکلیں گے اور کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی مبینہ سازش کا بھرپور جواب دیں گے۔












