ایس اینڈ پی کا پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں اضافہ، پاکستان اب کس کیٹیگری میں آگیا ہے اور اس کا فائدہ کیا ہوگا؟

پیر 27 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل نے پاکستان کی طویل المیعاد ساویرن کریڈٹ ریٹنگ کو ‘B-‘ سے اپ گریڈ کر کے ‘B’ کر دیا ہے۔ ادارے کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ریٹنگ میں یہ بہتری ملک میں استحکام، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کے تحت معاشی اصلاحات کے پائیدار نفاذ اور مالیاتی نظم و ضبط کے نتیجے میں ممکن ہوئی ہے۔

ریٹنگ میں بہتری کی بنیادی وجوہات

ایس اینڈ پی گلوبل کی تجزیاتی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان نے مالیاتی طور پر استحکام حاصل کیا ہے، حکومت کی جانب سے مالیاتی خسارے میں کمی اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر سختی سے عملدرآمد کیا ہے۔ بیرونی کھاتوں میں بہتری آئی ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پانے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں جبکہ اصلاحاتی ایجنڈے کو مسلسل آگے بڑھانے کے لیے حکومت اور ادارے پرعزم نظر آتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’ایس اینڈ پی‘ کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری، معاشی ماہرین کی رائے کیا ہے؟

وزیراعظم شہباز شریف کا ردعمل

وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی ایجنسی کی اس رپورٹ کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی ریٹنگ ایجنسی کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری حکومت کی اقتصادی اصلاحات پر عالمی برادری اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔ حکومت معاشی استحکام، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور مہنگائی کو کم کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔

قومی معیشت پر مثبت اثرات

معاشی ماہر ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ کریڈٹ ریٹنگ میں اس اپ گریڈیشن سے پاکستان کے لیے کئی مالیاتی فوائد حاصل ہوں گے جیسے کہ بین الاقوامی مارکیٹ سے سستے قرضے، ریٹنگ بہتر ہونے سے عالمی منڈی میں پاکستان کے لیے بانڈز جاری کرنا اور مناسب شرح سود پر مالی وسائل حاصل کرنا آسان ہو جائےگا۔

انہوں نے کہاکہ اس سے غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے، عالمی سرمایہ کاروں کا پاکستان کے مالیاتی نظام پر اعتماد بحال ہوگا جس سے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا جبکہ غیر ملکی سرمائے کی آمد اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری سے روپے پر دباؤ کم ہوگا۔

یہ معیشت کی بہتری کا اشارہ ہے، جبران احمد

معاشی ماہر جبران احمد کے مطابق یہ پیشرفت اس بات کی عکاس ہے کہ پاکستان کے معاشی اشاریے مثبت سمت میں گامزن ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کی معاشی کاوشوں کے نتیجے میں پاکستان کی ایس اینڈ پی ریٹنگ میں بہتری آئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ عام الفاظ میں بین الاقوامی مالیاتی ادارے اور غیر ملکی سرمایہ کار کسی بھی ملک میں سرمایہ کاری سے قبل ایسی کریڈٹ ریٹنگز کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں، جس سے یہ فیصلہ کرنے میں آسانی ہوتی ہے کہ سرمایہ کاری کے لیے کون سا ملک زیادہ موزوں ہے۔

جبران احمد نے کہاکہ انہیں یقین ہے کہ اس مثبت پیشرفت کے بعد پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات مزید روشن ہوں گے۔

ایس اینڈ پی کیا ہے؟

ایس اینڈ پی دنیا کے تین سب سے بڑے اور معتبر کریڈٹ ریٹنگ اداروں میں سے ایک ہے دیگر دو ادارے ’موڈیز‘ اور ’فچ ریٹنگز‘ ہیں، یہ ادارہ دنیا بھر کی حکومتوں، کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کے مالی استحکام اور ان کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت کا جائزہ لیتا ہے۔

جب ایس اینڈ پی کسی ملک کو ریٹنگ دیتا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ ملک اپنے بین الاقوامی قرضے اور واجبات وقت پر ادا کرنے کی کتنی صلاحیت اور نیت رکھتا ہے۔

ایس اینڈ پی کا گریڈنگ سسٹم کیسے کام کرتا ہے؟

ایس اینڈ پی کا کریڈٹ ریٹنگ اسکیل مختلف درجات پر مشتمل ہوتا ہے، جو کسی ملک یا ادارے کی مالی مضبوطی اور قرض واپس کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ درجہ بندی اعلیٰ ترین مالی استحکام سے لے کر ڈیفالٹ تک کی صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس اسکیل میں سب سے بلند درجہ انویسٹمنٹ گریڈ کہلاتا ہے، جس کا اعلیٰ ترین لیول AAA ہے۔

یہ ریٹنگ ان ممالک یا کمپنیوں کو دی جاتی ہے جو مالی طور پر انتہائی مستحکم ہوں اور جن میں سرمایہ کاری کا خطرہ نہایت کم سمجھا جاتا ہو۔

اس کے بعد AA+، AA اور AA- کی درجہ بندیاں آتی ہیں، جو ایسے ممالک یا اداروں کی نمائندگی کرتی ہیں جن کی مالی پوزیشن انتہائی مضبوط، قرض کی ادائیگی کی صلاحیت بلند اور مجموعی مالی معیار بہت بہتر ہوتا ہے۔

پھر آتی ہے ان ممالک کی کٹیگری جو مضبوط مالی حالت تو رکھتے ہوں تاہم عالمی معاشی تبدیلیوں کے ہلکے اثرات بھی ان پر پڑ رہے ہوں انہیں A+, A اور A- میں رکھا جاتا ہے۔

اس کے بعد بی (B) کیٹیگری آتی ہے، جس میں ایسے ممالک شامل ہوتے ہیں جو ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شمار کیے جاتے ہیں اور اپنی معاشی بنیاد کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔

ان ممالک کی معیشت بیرونی یا اندرونی معاشی جھٹکوں سے متاثر ہو سکتی ہے، تاہم انہیں فوری طور پر ڈیفالٹ کا خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔ اگرچہ ان میں کچھ مالی اور معاشی کمزوریاں موجود ہو سکتی ہیں، لیکن یہ اپنے مالیاتی اور قرض سے متعلق واجبات پورے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

پاکستان نے حالیہ جائزے میں اسی B کیٹیگری کے اندر اپنی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری حاصل کی ہے، جو بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری، وزیراعظم شہباز شریف کا ’ایس اینڈ پی گلوبل‘ کے فیصلے کا خیرمقدم

ایس اینڈ پی کے ریٹنگ اسکیل میں سی (C) کیٹیگری نچلے ترین درجات میں شمار ہوتی ہے اور یہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ متعلقہ ملک یا ادارہ شدید مالی مشکلات سے دوچار ہے اور اس پر ڈیفالٹ کا انتہائی سنگین خطرہ منڈلا رہا ہے یا وہ ڈیفالٹ کے انتہائی قریب پہنچ چکا ہے۔

اس درجے میں شامل ممالک یا ادارے اپنے قرضوں اور دیگر مالی واجبات کی بروقت ادائیگی میں شدید مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، جبکہ بعض صورتوں میں وہ قرض کی ادائیگی میں ناکام بھی ہو چکے ہوتے ہیں۔ ایسی ریٹنگ سرمایہ کاروں کے لیے بلند مالی خطرے کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تربت: فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد عثمان سے والدہ کا اعلانِ لاتعلقی

امن کا پیغام ایک بار پھر ٹیکسلا سے بلند ہونا چاہیے، جاپانی راہب جونسی تیراساوا

کالعدم بی ایل ایف نے آوران میں خاتون کو اغوا کے بعد قتل کردیا، روبینہ کے والد کا انصاف کا مطالبہ

لاہور سمیت کئی علاقوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی

بدخشان میں طالبان مخالف کارروائیاں تیز، مختلف اضلاع میں جھڑپیں، سیکیورٹی صورتحال کشیدہ

ویڈیو

جمہوری عمل ہی مسائل کا حل، آزاد کشمیر کے شہری ووٹ ڈالنے کے لیے پُرعزم، بھرپور جوش و خروش

آزاد کشمیر میں الیکشن کا پہلا مرحلہ، میرپور ڈویژن میں پولنگ جاری، سخت سیکیورٹی انتظامات

پہلا ٹیسٹ: پہلی انگز میں ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم 311 رنز پر آؤٹ، محمد علی کے 4 شکار

کالم / تجزیہ

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں