تربت میں ایک پریس کانفرنس کے دوران فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد عثمان کی والدہ نے اپنے بیٹے سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خاندان کا عثمان کی سرگرمیوں یا فیصلوں سے کوئی تعلق نہیں۔
مزید پڑھیں:بلوچستان: فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے 2 افراد کو اغوا کرلیا، ڈھائی کروڑ روپے تاوان طلب
انہوں نے تربت پریس کلب میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل عثمان اپنی مرضی سے گھر اور خاندان سے الگ ہو گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعد میں اس نے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش بھی کی، تاہم انہوں نے اس سے کوئی بات نہیں کی۔
بلوچستان: تربت میں ایک پریس کانفرنس کے دوران فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد عثمان کی والدہ نے اپنے بیٹے سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خاندان کا عثمان کی سرگرمیوں یا فیصلوں سے کوئی تعلق نہیں۔@AmirSaeedAbbasi @awaisReporter pic.twitter.com/EUFGbDXeQg
— Media Talk (@mediatalk922) July 27, 2026
عثمان کی والدہ نے کہا کہ ان کا، ان کے شوہر اور دیگر اہلِخانہ کا عثمان کے ساتھ کسی بھی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کے بقول، عثمان اپنے تمام ذاتی فیصلوں اور سرگرمیوں کا خود ذمہ دار ہے اور خاندان اس کے کسی بھی عمل کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔
مزید پڑھیں:فتنہ الہندوستان کی جانب سے خاران اور کیچ میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑیوں پر حملے کی خبریں من گھڑت
انہوں نے واضح کیا کہ ان کے خاندان کا عثمان کی مبینہ سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں اور وہ اپنے مؤقف کا اظہار عوام کے سامنے کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں سے اہلخانہ کا اظہار لاتعلقی ظاہر کرتا ہے کہ عوام دہشتگردی کے ناسور کا خاتمہ چاہتے ہیں۔














