وفاقی مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ پنجاب کے علاوہ باقی صوبوں نے مایوس کیا ہے اور پہلے کراچی رو رہا تھا اب گلگت بلتستان بھی روئے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سابق ارکانِ پارلیمنٹ کے بچوں کو بلیو پاسپورٹ دینے کے بل پر تنقید، طلال چوہدری کی وضاحت
نجی ٹی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا 18ویں ترمیم کے بعد جو نتائج آنے چاہیے تھے وہ نہیں آئے کیوں کہ صوبے اس طرح کام نہیں کرسکے جیسا کہ ترمیم کے بعد ان سے توقع تھی۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور امن و امان سنبھالنا اسی کا کام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا فیصلہ بیلٹ سے ہونا چاہیے اور بیلٹ کا فیصلہ کارکردگی پر منحصر ہونا چاہیے اور جہاں تک پیپلز پارٹی کا تعلق ہے تو اس کو پہلے ہی کارکردگی سے بہت زیادہ ووٹ مل رہے ہیں۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں انتخابات کے دوران قرارداد لانا ایک سیاسی حربہ تھا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انتظامی لحاظ سے جہاں سب سے زیادہ ضرورت ہے وہاں صوبے بننے چاہییں۔
مزید پڑھیے: بشریٰ بی بی کی صحت سے متعلق پروپیگنڈا حقائق کے منافی، سہولیات کی فراہمی قانون کے مطابق ہے، طلال چوہدری
کشمیر کی صورتحال اور کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ 38 میں سے 37 مطالبات مان لیے جائیں پھر بھی لاشیں گرادی جائیں۔














