قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں واقع دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں شامل براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے بعد لاپتا ہونے والے بین الاقوامی کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے، جبکہ امدادی ٹیموں نے لاپتا 10 کوہ پیماؤں میں سے 4 کی لاشیں برآمد کر لی ہیں۔
حکام کے مطابق گزشتہ روز براڈ پیک سر کرنے کی کوشش کے دوران کوہ پیماؤں کا ایک بین الاقوامی گروپ اچانک برفانی تودے کی زد میں آ گیا، جس کے بعد ٹیم کے تمام ارکان سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے سے معروف کوہ پیما نرمل پرجا سمیت 10 کوہ پیما لاپتا، ریسکیو آپریشن جاری
لاپتا کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے جاری سرچ اینڈ ریسکیو مشن کی قیادت معروف پاکستانی کوہ پیما سرباز خان کر رہے ہیں۔ امدادی ٹیمیں دشوار گزار پہاڑی علاقے میں خراب موسمی حالات کے باوجود لاپتا کوہ پیماؤں تک پہنچنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
حکام کے مطابق لاپتا ٹیم میں امریکا، نیپال اور عمان سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما شامل ہیں، جبکہ ہنزہ سے تعلق رکھنے والے پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی بھی اس مہم کا حصہ تھے۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں برفانی تودے اور دشوار گزار جغرافیائی حالات کے باعث امدادی کارروائیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، تاہم ہیلی کاپٹروں اور زمینی ٹیموں کی مدد سے سرچ آپریشن بلا تعطل جاری رکھا گیا ہے۔
براڈ پیک 8,047 میٹر (26,401 فٹ) بلند چوٹی ہے اور دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی شمار ہوتی ہے۔ ہر سال دنیا بھر سے درجنوں کوہ پیما اس چوٹی کو سر کرنے کے لیے پاکستان کا رخ کرتے ہیں، تاہم سخت موسمی حالات اور برفانی تودوں کے باعث یہ چوٹی خطرناک ترین کوہ پیمائی مقامات میں شمار کی جاتی ہے۔














