مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی برتری حاصل کرنے کے لیے امریکا اور چین کے درمیان جاری ٹیکنالوجی کی دوڑ میں اب ‘ماڈل ڈسٹلیشن‘ ایک نیا تنازع بن کر سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کا چین کی ڈیپ سیک سمیت متعدد کمپنیوں کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے سے گریز، 100 سے زائد ادارے سیکیورٹی رسک قرار
امریکی حکومت اور بڑی اے آئی کمپنیوں کا الزام ہے کہ بعض چینی ادارے جدید اے آئی ماڈلز کی صلاحیتیں بغیر اجازت حاصل کرنے کے لیے اس تکنیک کا استعمال کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ماڈل ڈسٹلیشن ایک ایسی تکنیک ہے جس میں ایک بڑے اور طاقتور اے آئی ماڈل کی مدد سے نسبتاً چھوٹا، کم خرچ اور زیادہ مؤثر ماڈل تیار کیا جاتا ہے تاکہ وہ مخصوص کام کم کمپیوٹنگ وسائل کے ساتھ انجام دے سکے۔
ماڈل ڈسٹلیشن کیا ہے؟
جدید اور طاقتور اے آئی ماڈلز جنہیں ‘فرنٹیئر ماڈلز’ کہا جاتا ہے تیار کرنے کے لیے بہت زیادہ کمپیوٹنگ طاقت، وسیع ڈیٹا اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔
ماڈل ڈسٹلیشن کے عمل میں ایک بڑا ’ٹیچر‘ ماڈل سوالات کے جوابات، کمپیوٹر کوڈ یا دیگر مثالیں فراہم کرتا ہے جنہیں استعمال کرتے ہوئے ایک چھوٹا ‘اسٹوڈنٹ’ ماڈل تربیت حاصل کرتا ہے۔
یہ چھوٹا ماڈل بڑے ماڈل کی مکمل نقل نہیں ہوتا بلکہ وہ صرف مخصوص مہارتیں اور رویے سیکھتا ہے جس سے وہ بعض کام کم وسائل کے ساتھ انجام دینے کے قابل ہوجاتا ہے۔
یہ تکنیک کیوں اہم ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ماڈل ڈسٹلیشن مصنوعی ذہانت کو زیادہ سستا اور عام استعمال کے قابل بنانے میں مدد دیتی ہے۔
مزید پڑھیے: پینٹاگون کا ’قاتل اے آئی‘ منصوبہ، کیا دنیا کو تشویش ہونی چاہیے؟
جہاں بڑے اے آئی ماڈلز چلانے کے لیے مہنگے ڈیٹا سینٹرز اور جدید چپس درکار ہوتی ہیں وہیں ڈسٹلیشن کے ذریعے تیار کیے گئے ماڈلز نسبتاً کم طاقت والے کمپیوٹرز، موبائل ڈیوائسز، گاڑیوں، فیکٹریوں اور نجی نیٹ ورکس پر بھی مؤثر انداز میں کام کر سکتے ہیں۔
اسی وجہ سے حکومتیں اور ٹیکنالوجی کمپنیاں اس طریقہ کار میں خصوصی دلچسپی لے رہی ہیں۔
‘ریزننگ ٹریسز’ کیا ہوتے ہیں؟
حالیہ برسوں میں ماہرین نے صرف اے آئی کے حتمی جواب ہی نہیں بلکہ اس جواب تک پہنچنے کے پورے طریقہ کار، جسے ‘ریزننگ ٹریسز‘ کہا جاتا ہے کو بھی اہم قرار دینا شروع کیا ہے۔
ان ریزننگ ٹریسز کے ذریعے چھوٹا اے آئی ماڈل یہ بھی سیکھ سکتا ہے کہ پیچیدہ مسئلہ حل کرنے کا طریقہ کیا ہے، نہ کہ صرف اس کا آخری جواب۔
سوئٹزرلینڈ کی ای ٹی ایچ زیورخ یونیورسٹی کے مشین لرننگ سیکیورٹی کے ماہر فلوریان ٹریمر نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی طالب علم کو صرف ریاضی کے سوالات کے جواب دیے جائیں تو سیکھنا مشکل ہوگا لیکن اگر ہر سوال کے تمام مراحل بھی سمجھا دیے جائیں تو وہ زیادہ بہتر انداز میں سیکھ سکے گا۔
تنازع کیوں پیدا ہوا؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل اختلاف ماڈل ڈسٹلیشن پر نہیں بلکہ بغیر اجازت جدید اے آئی ماڈلز کی صلاحیتیں حاصل کرنے پر ہے۔
امریکی کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ تحقیق کے لیے ڈسٹلیشن کا استعمال اور تجارتی فائدے کے لیے بند اے آئی ماڈلز سے بڑے پیمانے پر معلومات حاصل کرنا دو الگ معاملات ہیں۔
امریکی کمپنی اینتھروپک نے الزام عائد کیا ہے کہ چینی اداروں ڈیپ سیک، مون شاٹ اور منی میکس نے اس کے کلاڈ ماڈلز کی جدید صلاحیتیں حاصل کرنے کی کوشش کی۔ کمپنی کے مطابق ان کوششوں کا مقصد سافٹ ویئر انجینیئرنگ اور پیچیدہ منطقی صلاحیتوں تک رسائی حاصل کرنا تھا۔
اسی طرح اوپن اے آئی کا بھی کہنا ہے کہ اس نے بعض چینی عناصر کی جانب سے اپنے ماڈلز کو ماڈل ڈسٹلیشن کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں کا سراغ لگایا ہے۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
ماہرین کے مطابق ماڈل ڈسٹلیشن بذات خود کوئی غیر قانونی یا غیر اخلاقی طریقہ نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کی تحقیق میں کئی برسوں سے استعمال ہونے والی ایک معروف تکنیک ہے۔
مزید پڑھیں: چینی چیٹ بوٹ ڈیپ سیک کس مسئلے سے دوچار ہے؟
امریکی جامعات اور کمپنیاں بھی ماضی میں اس طریقے کو استعمال کرتی رہی ہیں تاہم موجودہ تنازع اس بات پر ہے کہ آیا کسی کمپنی کے ملکیتی اے آئی ماڈل سے اس کی اجازت کے بغیر صلاحیتیں حاصل کرنا درست ہے یا نہیں۔
امریکا کو اعتراض کیوں ہے؟
امریکا اور اس کی بڑی اے آئی کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ اگر چینی کمپنیاں ماڈل ڈسٹلیشن کے ذریعے اوپن اے آئی، اینتھروپک یا دیگر امریکی کمپنیوں کے جدید اے آئی ماڈلز کی صلاحیتیں حاصل کر لیں تو وہ اربوں ڈالر کی تحقیق، مہنگے کمپیوٹنگ وسائل اور کئی برس کی محنت کے بغیر کم لاگت میں طاقتور اے آئی سسٹمز تیار کر سکتی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اس سے امریکی کمپنیوں کی مسابقتی برتری اور دانشورانہ ملکیت (انٹیلیکچوئل پراپرٹی) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
امریکا کو یہ خدشہ بھی ہے کہ اگر جدید امریکی اے آئی ماڈلز کی صلاحیتیں ڈسٹلیشن کے ذریعے چینی کمپنیوں یا سرکاری اداروں تک منتقل ہو گئیں تو انہیں دفاعی، سائبر سیکیورٹی اور دیگر حساس شعبوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسی لیے امریکا اس معاملے کو صرف تجارتی نہیں بلکہ قومی سلامتی اور ٹیکنالوجی کی عالمی برتری سے بھی جوڑ کر دیکھ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکی سینیٹر کا اے آئی کمپنیوں پر نگرانی محدود کرنے کی کوشش کا الزام
اب تک کسی چینی کمپنی نے امریکی کمپنیوں پر بند نوعیت کے اے آئی ماڈلز کی ڈسٹلیشن کا الزام عائد نہیں کیا تاہم ماہرین کے مطابق یہ معاملہ مستقبل میں امریکا اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی کی مسابقت کا ایک اہم محاذ بن سکتا ہے۔














