عالمی فٹبال کی تنظیم فیفا نے شدید عالمی مخالفت کے بعد اپنے کاروباری ڈھانچے کا ایک حصہ بیرونی سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کا متنازع منصوبہ واپس لینے کا اعلان کر دیا ہے۔
فیفا نے چند روز قبل ایک نئی تجارتی کمپنی قائم کرنے کی تجویز پیش کی تھی، جو ورلڈ کپ سمیت فیفا کے بڑے ٹورنامنٹس کے تجارتی اور کاروباری معاملات کی نگرانی کرتی۔
منصوبے کے تحت اس نئی کمپنی کے تقریباً 20 فیصد حصص فروخت کرکے 4.2 ارب ڈالر تک سرمایہ حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا تھا، جس سے کمپنی کی مجموعی مالیت تقریباً 20 ارب ڈالر بنتی۔
یہ بھی پڑھیں: فیفا صدر جیانی انفینٹینو کی مشکلات بڑھ گئیں، ورلڈ کپ نجی سرمایہ کاروں کو دینے کے منصوبے پر بغاوت کا سامنا
تاہم اس تجویز کو یورپی فٹبال کی تنظیم یوئیفا سمیت متعدد رکن ممالک کی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، یوئیفا نے نہ صرف اس منصوبے کو خفیہ طور پر تیار کرنے پر اعتراض کیا بلکہ اسے فٹبال کی ’روح فروخت‘ کرنے کے مترادف قرار دیا۔
یوئیفا نے جمعرات کو اس منصوبے کے خلاف فیفا کے مقابلوں کے بائیکاٹ کے حق میں بھی ووٹ دیا تھا۔
Fifa president Gianni Infantino scraps World Cup investment plan after backlash https://t.co/bfckeOquOh
— BBC Breaking News (@BBCBreaking) July 31, 2026
شدید ردعمل کے بعد فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے جمعہ کی شب جاری بیان میں کہا کہ مختلف آرا کو غور سے سننے کے بعد واضح ہو گیا ہے کہ اس منصوبے نے ایسی تقسیم پیدا کر دی ہے جو اس کے اصل مقصد کے منافی ہے۔
’ہمارا مقصد ہمیشہ اتحاد اور بہتری رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا، اسی لیے یہ تجویز اب آگے نہیں بڑھائی جائے گی۔‘
اس سے قبل جمعہ کو انفانٹینو کے سینئر مشیر کارلوس کورڈیرو نے بھی فوری طور پر استعفیٰ دیتے ہوئے اس منصوبے کو ’فٹبال کے لیے برا سودا‘ قرار دیا تھا۔
مزید پڑھیں: فیفا بحران تیز: ورلڈ کپ میں نجی سرمایہ کاری کے منصوبے پر اعلیٰ مشیر مستعفی
ادھر فیفا کے چیف آپریٹنگ آفیسر کیون لامور نے الزام عائد کیا کہ تنظیم کے عملے کو اس منصوبے کے بارے میں گمراہ کیا گیا اور اسے ’صرف ایک شخص کا منصوبہ‘ قرار دیا۔
برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے بھی انفانٹینو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ فیفا کی قیادت کے لیے موزوں شخصیت نہیں ہیں۔
انفانٹینو کی قیادت پر سوالات
اس تنازع کے بعد فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو کی قیادت بھی سوالات کی زد میں آ گئی ہے، وہ پہلے ہی 2026 کے ورلڈ کپ کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپنے قریبی تعلقات کے باعث تنقید کا سامنا کر رہے تھے۔
رپورٹس کے مطابق نجی سرمایہ کاری کے اس منصوبے میں امریکی سرمایہ کار جوشوا کشنر کی کمپنی تھرائیو کیپٹل کے سرمایہ کاری فنڈ تھرائیو ایٹرنل کی شمولیت متوقع تھی، جوشوا کشنر، صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے بھائی ہیں۔
تاہم صدر ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ انہوں نے بیرونی سرمایہ کاروں کو فیفا میں حصہ دینے کے معاملے پر انفانٹینو سے کوئی بات نہیں کی۔
آئندہ کیا ہوگا؟
جیانی انفانٹینو مارچ میں ہونے والے فیفا صدارتی انتخاب میں 2031 تک اپنی آخری مدت کے لیے دوبارہ امیدوار بننے والے ہیں۔
اگرچہ حالیہ ورلڈ کپ کی کامیاب میزبانی کے بعد انہیں مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا تھا، تاہم اس تنازع نے ان کی قیادت اور فیفا کے طرز حکمرانی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ایشین فٹبال کنفیڈریشن (AFC) نے، جو ماضی میں انفانٹینو کی اہم حامی رہی ہے، بھی اس معاملے پر فیفا کے مشاورتی اور فیصلہ سازی کے نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تنظیم فوری طور پر اپنے گورننس اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار کا ازسرنو جائزہ لے۔
مزید پڑھیں: نجی سرمایہ کاری کا منصوبہ واپس نہ لیا گیا تو ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کریں گے، یوئیفا کی فیفا کو وارننگ
بحرین سے تعلق رکھنے والے اے ایف سی کے صدر شیخ سلمان بن ابراہیم آل خلیفہ نے بھی فیفا کے منصوبے کو ’مکمل طور پر ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یکطرفہ فیصلے براعظمی فٹبال کے اتحاد، تعاون اور شفافیت جیسے بنیادی اصولوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
دوسری جانب شمالی و وسطی امریکا کی فٹبال تنظیم کے سربراہ وکٹر مونٹاگلیانی کا نام بھی آئندہ سال مارچ میں ہونے والے فیفا صدارتی انتخاب میں جیانی انفانٹینو کے ممکنہ حریف کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔











