جاپان کی وزیرِ خزانہ ساتسوکی کاتایاما آج جاپانی کرنسی ین کی گزشتہ 40 برس کی کم ترین سطح تک گراوٹ روکنے کے لیے کرنسی مارکیٹ میں ٹوکیو اور واشنگٹن کی مشترکہ کارروائی کا اعلان کریں گی۔
کاتایاما اپنی گفتگو میں اس عزم کا اظہار کریں گی کہ جاپان اورامریکا ین کی غیر معمولی گراوٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ‘امریکا کی خوشامد بند کرو،’ جاپان میں امن پسند آئین کے تحفظ کے حق میں احتجاج
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے جب مارکیٹ ذرائع نے انکشاف کیا کہ جاپانی اور امریکی حکام نے حالیہ دنوں میں مارکیٹ سے بڑے پیمانے پر ین خرید کر اس کی قدر کو سہارا دینے کی کوشش کی۔
ین کی قدر ڈالر کے مقابلے میں 1986 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔
🚨 America and Japan Unite To Stop The Catastrophic Yen Carry Trade Unwind
Japan and the US to unveil a joint policy to address the yen's weakness as early as next week. The U.S. also sold Euros to buy Yen.
When America is forced to do something THIS rare… you know the… pic.twitter.com/0bsvNpgbuq
— Stellar Rippler🚀 (@Stellar_Rippler) August 1, 2026
دوسری جانب جاپان کے مرکزی بینک کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ین کی حمایت کے لیے تقریباً 58.97 ارب ڈالر مالیت کی مداخلت کی گئی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک مارکیٹ ذریعے نے بتایا کہ جاپانی حکومت نے جمعرات کو نیویارک کی تجارتی سرگرمیوں کے دوران ڈالر فروخت کرکے ین خریدا۔
جاپان کے اعلیٰ کرنسی سفارت کار اتسوشی میمورا نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بطور کرنسی پالیسی کے ذمہ دار وہ آئندہ بھی مالیاتی پالیسی کے ساتھ قریبی ہم آہنگی میں اقدامات جاری رکھیں گے۔
Japanese Finance Minister Satsuki Katayama is set to announce as early as Monday that Tokyo and Washington are coordinating on steps in the foreign exchange market to curb the yen’s weakness, a person familiar with the situation said https://t.co/Vp6XEhBHbQ
— Bloomberg (@business) August 2, 2026
ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپان کے لیے مسلسل کرنسی مداخلت برقرار رکھنا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ اس مقصد کے لیے بیرونی اثاثے فروخت کرنے سے امریکی حکومتی بانڈز کی فروخت بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں امریکی بانڈز کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
تاہم بعض تجزیہ کاروں کے مطابق جاپان اور امریکا کے درمیان حالیہ تعاون اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن کو بھی ین اور جاپانی حکومتی بانڈز میں ممکنہ بڑے پیمانے کی فروخت پر تشویش ہے۔
ان کے مطابق جاپان کے لیے اپنی مالیاتی پائیداری پر مارکیٹ کا اعتماد برقرار رکھنا بدستور انتہائی اہم ہوگا۔













