پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے اور آخری ٹیسٹ میں تجربہ کار فاسٹ بولر محمد عباس کو پلیئنگ الیون سے باہر رکھنے کی وجہ واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ کسی انجری کی وجہ سے نہیں بلکہ پورٹ آف اسپین کی کنڈیشنز کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔
کوئنز پارک اوول میں ٹاس کے موقع پر سابق ویسٹ انڈین کپتان ایان بشپ سے گفتگو کرتے ہوئے بابر اعظم نے کہا کہ محمد عباس مکمل طور پر فٹ ہیں، تاہم ٹیم نے سست وکٹ کے باعث ایسی بولنگ لائن اپ منتخب کی جو ان حالات کے لیے زیادہ موزوں تھی۔
مزید پڑھیں:دوسرا ٹیسٹ: ویسٹ انڈیز کے پہلے روز 5 وکٹوں پر 239 رنز، جسٹن گریوز کی نصف سینچری
محمد عباس کو پہلے ٹیسٹ میں شاندار کارکردگی کے باوجود ڈراپ کیے جانے پر کرکٹ حلقوں میں حیرت کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے پہلے ٹیسٹ میں مجموعی طور پر 8 وکٹیں حاصل کی تھیں، جن میں ان کے ٹیسٹ کیریئر کی 7ویں 5 وکٹیں بھی شامل تھیں۔
پاکستان نے دوسرے ٹیسٹ میں اسپن اٹیک مضبوط کرنے کے لیے ساجد خان کو ٹیم میں شامل کیا، جبکہ نوجوان فاسٹ بولر عبید شاہ کو ٹیسٹ ڈیبیو کا موقع دیا گیا۔ محمد علی دوسرے اسپیشلسٹ فاسٹ بولر کے طور پر ٹیم میں برقرار رہے۔
دسمبر 2024 میں ٹیسٹ ٹیم میں واپسی کے بعد محمد عباس مسلسل عمدہ فارم میں رہے ہیں۔ 35 سالہ فاسٹ بولر نے پانچ ٹیسٹ میچوں میں 28 وکٹیں 20.32 کی اوسط سے حاصل کی ہیں، جو اس عرصے میں کسی بھی پاکستانی فاسٹ بولر کی بہترین کارکردگی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق محمد عباس سست وکٹوں پر بھی مؤثر بولر ثابت ہوئے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں کھیلے گئے چھ ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے 27 وکٹیں 17.55 کی شاندار اوسط سے حاصل کیں، جبکہ بنگلہ دیش کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز میں بھی 10 وکٹوں کے ساتھ پاکستان کے کامیاب ترین بولر رہے۔
مزید پڑھیں:ہاکی ٹیسٹ سیریز: پاکستان کا شاندار کم بیک، دوسرے میچ میں جنوبی کوریا کو 1-3 سے شکست
محمد عباس کا مجموعی ٹیسٹ بولنگ اوسط 22.38 ہے، جو طویل ٹیسٹ کیریئر رکھنے والے پاکستانی بولرز میں بہترین شمار ہوتا ہے اور سابق کپتان عمران خان کی 22.81 کی اوسط سے بھی بہتر ہے۔
پاکستانی ٹیم اب انگلینڈ کے خلاف 3 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلے گی، جہاں کاؤنٹی کرکٹ میں ناٹنگھم شائر اور ہیمپشائر کی نمائندگی کرتے ہوئے 171 وکٹیں حاصل کرنے والے محمد عباس سے ایک بار پھر اہم کردار ادا کرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔













