ملک کو سیاسی استحکام کے لیے قومی مکالمے کی ضرورت، نئے صوبوں پر بھی اتفاق رائے پیدا کیا جائے، فواد چوہدری

پیر 3 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام لانے کے لیے قومی مکالمہ ناگزیر ہو چکا ہے اور اس عمل میں تمام سیاسی جماعتوں، اسٹیبلشمنٹ اور دیگر متعلقہ فریقوں کو شامل کیا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی کے خیالات سے بڑی حد تک اتفاق، اصلاحات کا آغاز اپنی وزارت سے کریں، وزیر دفاع خواجہ آصف کا مشورہ

لاہور پریس کلب میں نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے رہنماؤں وسیم اختر، عمران اسماعیل، منیر احمد خان اور مولوی محمود کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام پر بھی قومی سطح پر سنجیدہ مکالمہ ہونا چاہیے کیونکہ موجودہ طرزِ حکمرانی عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ کمیٹی کے قیام کا مقصد قومی مکالمے کے ذریعے ملکی سیاست میں ٹھہراؤ اور استحکام پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت ڈائیلاگ کے بغیر نہیں چل سکتی اور تمام سیاسی قوتوں کو مل بیٹھ کر ملک کے مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بحث دوبارہ شروع ہو چکی ہے اس لیے اس معاملے پر کھلے دل سے گفتگو کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق وسائل اور اختیارات کی منصفانہ تقسیم کے لیے نئے صوبوں کا قیام ایک اہم آپشن ہو سکتا ہے۔

فواد چوہدری نے وزیر داخلہ کے ’سسٹم بیٹھ گیا ہے‘ والے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہ اگر واقعی نظام اس نہج پر پہنچ چکا ہے تو پھر تمام فریقوں سے بات چیت کرنا ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ جس میں عوام کی حقیقی شمولیت نہ ہو وہ نظام کامیاب نہیں ہو سکتا اس لیے سب کو اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی رائے میں اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں کو باہمی مشاورت سے کوئی قابل قبول راستہ نکالنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ گورننس کا نظام ناکام ہو چکا ہے اور اس سے عام شہری کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا۔

مزید پڑھیے: نئے انتظامی یونٹس اور نظام حکومت پر بحث تیز، محسن نقوی کے بیان پر سیاسی تجزیہ کاروں کی کیا رائے ہے؟

سابق وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ صوبوں میں تمام اختیارات وزیر اعلیٰ کے پاس مرکوز ہیں جبکہ وزرا بھی عملاً بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں عوامی وسائل کے استعمال پر بھی سنجیدہ سوالات موجود ہیں اور اس حوالے سے شفاف احتساب کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کوئٹہ جیسے بڑے شہر میں بنیادی طبی سہولت، مثلاً ایم آر آئی مشین تک دستیاب نہیں، جو وسائل کی غیر مساوی تقسیم کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق نئے صوبوں کے قیام سے وسائل اور اختیارات کی بہتر تقسیم ممکن ہو سکے گی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ صرف بلدیاتی انتخابات مسائل کا مکمل حل نہیں بلکہ گورننس کے پورے ڈھانچے پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ترقی اور بہتر انتظامی نظام کی بنیاد نئے صوبوں کے قیام میں پوشیدہ ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ نئے صوبوں کے معاملے پر قومی ڈائیلاگ کا انعقاد کیا جائے جس میں تمام سیاسی جماعتیں شریک ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک میں حقیقی اصلاحات مقصود ہیں تو پاکستان تحریک انصاف کو نظر انداز کرکے یہ عمل کامیاب نہیں ہو سکتا۔

مزید پڑھیں: آپ نے اسی نظام میں 3 سال میں 30سالوں کا سفر کرلیا، رانا ثنا اللہ خان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر شدید تنقید

فواد چوہدری نے مزید کہا کہ قومی مکالمے کے نتیجے میں ایک ایسی قومی حکومت تشکیل دی جا سکتی ہے جو تمام سیاسی قوتوں کی نمائندگی کرے اور نئے صوبوں سمیت اہم آئینی و انتظامی اصلاحات پر پیش رفت کرے۔ ان کے بقول یہ پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp