ریاستی ووٹر فہرستوں پر وفاقی کنٹرول کی کوشش پھر ناکام، ٹرمپ انتظامیہ کوعدالت میں مسلسل 21 ویں شکست

جمعہ 7 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی محکمہ انصاف کو ریاستوں سے ووٹر فہرستیں حاصل کرنے کی قانونی کوششوں میں اس سال اس وقت شدید دھچکا لگا جب ایک وفاقی عدالت نے وفاقی حکومت کی جانب سے فہرستیں طلب کرنے کی 21 ویں درخواست بھی مسترد کر دی۔

امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو ریاستی ووٹر فہرستیں حاصل کرنے کی کوششوں میں رواں سال 21 ویں عدالتی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں ایک وفاقی جج نے قرار دیا کہ ریاستیں ووٹر ریکارڈز وفاقی حکومت کے حوالے کرنے کی پابند نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ہریانہ انتخابات: ٹھپے پہ ٹھپہ لگانے کے الزام پر برازیلی ماڈل کا جواب

مڈٹرم انتخابات سے قبل انتخابی نگرانی کا دائرہ وفاقی سطح پر بڑھانے کی کوششوں نے امریکی حکومت اور ریاستوں کے درمیان قانونی تنازع کو مزید شدت دے دی ہے۔

ریاستی ووٹر ریکارڈز کے حصول کی مہم

ٹرمپ انتظامیہ نے محکمہ انصاف کے ذریعے ان ریاستوں کے خلاف قانونی کارروائیاں شروع کیں جنہوں نے ووٹر فہرستیں فراہم کرنے سے انکار کیا تھا۔ ان ریکارڈز میں ووٹرز کی تاریخ پیدائش اور سوشل سیکیورٹی نمبر کے جزوی اعداد و شمار جیسی معلومات شامل تھیں۔

عدالتوں نے بارہا مؤقف اختیار کیا کہ امریکی آئین کے تحت وفاقی انتخابات کے انعقاد کی بنیادی ذمہ داری ریاستوں کے پاس ہے اور وفاقی قوانین ریاستوں کو ووٹر ریکارڈز فراہم کرنے کا پابند نہیں بناتے۔

واشنگٹن ڈی سی کے ووٹر ریکارڈز حاصل کرنے کی محکمہ انصاف کی درخواست مسترد کرتے ہوئے امریکی ڈسٹرکٹ جج رینڈولف ماس نے کہا کہ اگر محکمہ انصاف سمجھتا ہے کہ اسے مزید اختیارات یا ریکارڈز درکار ہیں تو اسے یہ معاملہ کانگریس کے سامنے اٹھانا چاہیے۔

ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ غیر شہریوں کی جانب سے ووٹنگ ڈیموکریٹک پارٹی کو فائدہ پہنچا رہی ہے، تاہم ریاستی آڈٹس اور آزاد مطالعات میں غیر شہری ووٹنگ کے واقعات کو انتہائی کم قرار دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:امریکا کی 25 ریاستوں کا ٹرمپ انتظامیہ کے نئے عالمی ٹیرف کیخلاف عدالت سے رجوع

امریکی میڈیا کی ایک تحقیق کے مطابق 1996 میں غیر شہری ووٹنگ کو جرم قرار دیے جانے کے بعد سے اب تک صرف 129 افراد کے خلاف ایسے مقدمات چلائے گئے، جن میں زیادہ تر کیسز انتخابی نظام سے متعلق غلط فہمی یا حکام کے ساتھ رابطے کی کمی کا نتیجہ تھے، نہ کہ کسی منظم سازش کا۔

محکمہ انصاف کے سول رائٹس ڈویژن کی اسسٹنٹ اٹارنی جنرل ہرمیٹ ڈھلون نے کہا کہ صرف اہل شہریوں کو ووٹ دینے کی اجازت یقینی بنانا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور ریاستوں پر درست ووٹر فہرستیں برقرار رکھنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

عدالتوں میں مسلسل ناکامیاں

محکمہ انصاف کو جن 21 مقدمات میں شکست ہوئی، ان میں فیصلے ملک بھر کے مختلف وفاقی ججز نے دیے، جن میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے صدور کی جانب سے مقرر کیے گئے ججز شامل ہیں۔

محکمہ انصاف نے اپنی بیشتر قانونی ناکامیوں کے خلاف اپیلیں دائر کی ہیں۔ اب تک 16 فیصلوں کو چیلنج کیا جا چکا ہے، جبکہ ایک اپیل میں محکمہ انصاف کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

حکام کے پاس اب بھی 9 زیر سماعت مقدمات میں کامیابی کا امکان موجود ہے، جبکہ بعض معاملات کو قدامت پسند اکثریت رکھنے والی امریکی سپریم کورٹ تک لے جانے کا راستہ بھی کھلا ہے۔

انتخابی حقوق کے تحفظ پر خدشات

ٹرمپ انتظامیہ نے قانونی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ دیگر اقدامات بھی کیے ہیں جن پر ڈیموکریٹس اور ووٹنگ رائٹس گروپس نے دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کیا ہے۔

مزید پڑھیں:امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ، ٹرمپ انتظامیہ کو ہیٹی اور شامی تارکین وطن کی بے دخلی کی راہ مل گئی

محکمہ انصاف نے تمام 50 ریاستوں کے انتخابی حکام کو خبردار کیا کہ اگر کسی اہلکار نے جان بوجھ کر غیر شہریوں کو ووٹر فہرست میں برقرار رکھا تو انہیں فوجداری کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس کے علاوہ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے اعلان کیا کہ وہ ان ریاستوں کے لیے بعض ہنگامی امدادی فنڈز روکنے پر غور کرے گا جو ووٹر فہرستوں کی تصدیق کے لیے وفاقی امیگریشن ڈیٹا بیس ’سیو‘ استعمال نہیں کرتیں۔

ججز نے دعوؤں پر سوالات اٹھا دیے

محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ وہ ریاستی ووٹر فہرستوں کا موازنہ وفاقی ڈیٹا بیس سے کرکے ممکنہ غیر شہری ووٹرز کی نشاندہی کرنا چاہتا ہے۔

تاہم ڈیموکریٹس اور ووٹنگ رائٹس تنظیموں کا کہنا ہے کہ شہری حیثیت کی تصدیق کے لیے استعمال ہونے والے بعض وفاقی ریکارڈز میں غلطیوں کا امکان موجود ہے۔

پنسلوانیا کے ووٹر ریکارڈز حاصل کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے جج کیتھی بیسون نے وفاقی حکومت کی کوشش کو ‘بے بنیاد شکوک کی بنیاد پر معلومات حاصل کرنے کی مہم’ قرار دیا۔

امریکا میں ووٹر فہرستوں، انتخابی شفافیت اور غیر شہری ووٹنگ کا معاملہ کئی برسوں سے سیاسی بحث کا مرکز ہے۔

یہ بھی پڑھیں:یو ایف او فائلز کا اجرا اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کا حربہ قرار، ٹرمپ انتظامیہ پر تنقید

ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے دوسرے دورِ صدارت میں انتخابی نگرانی بڑھانے کو ترجیح دی ہے، جبکہ ناقدین کا مؤقف ہے کہ ایسے اقدامات ریاستی اختیارات اور ووٹنگ کے حقوق کو متاثر کر سکتے ہیں۔

حکومت نے حالیہ مہینوں میں دعویٰ کیا ہے کہ بعض ریاستوں میں ممکنہ غیر شہری ووٹرز کی نشاندہی ہوئی ہے، تاہم حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان میں سے کتنے افراد واقعی غیر شہری تھے یا کتنے نے انتخابات میں ووٹ ڈالے۔

انتخابات سے قبل ووٹر فہرستوں کا معاملہ اب امریکی سیاست اور عدالتوں میں ایک اہم تنازع کے طور پر برقرار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے پر الیکشن کمیشن نے ’عوام پاکستان‘ کو ڈی لسٹ کردیا

اسمارٹ چشموں سے خفیہ ریکارڈنگ: لوگ ویڈیو رکوانے کے لیے ڈزنی کے گانے کیوں گانے لگے؟

مون سون بارشوں سے جاں بحق افراد کی تعداد 151 ہوگئی، 8 اگست سے نئے سلسلے کی پیشگوئی، الرٹ جاری

ایک دھن 639 سال، دنیا کا منفرد ترین موسیقی پروگرام جاری

‘بھوتوں کی مہک پہچان لیتا ہوں’، پیرانارمل انویسٹیگیٹر کے حیران کن دعوے

ویڈیو

’۔۔۔ ایک دستخط‘: تجارتی خسارے پر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوئٹزر لینڈ کو دھمکی دے دی

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ’مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ طے، کسی ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا

 ایران جنگ جلد ختم ہو جائے گی، آبنائے ہرمز کھولنے کے عبوری معاہدے کے امکانات روشن، صدر ٹرمپ کا دعویٰ

کالم / تجزیہ

اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟