امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے ہیٹی اور شام کے لاکھوں تارکین وطن کو حاصل عارضی تحفظ ختم کرنے کی اجازت دے دی ہے، جس کے بعد ان افراد کو ملک بدری کے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا سے بھارتیوں کی بیدخلی پر وزیر خارجہ جے شنکر کو وضاحت کیوں کرنا پڑی؟
امریکی سپریم کورٹ نے جمعرات کو اپنے فیصلے میں ٹرمپ انتظامیہ کو ہیٹی اور شام کے تارکین وطن کے لیے موجود عارضی تحفظ کی حیثیت ختم کرنے کی اجازت دے دی۔
رائٹرز کے مطابق سپریم کورٹ کے 6-3 اکثریتی فیصلے نے وفاقی عدالتوں کے ان احکامات کو کالعدم قرار دے دیا جن کے ذریعے انتظامیہ کے اقدام کو عارضی طور پر روکا گیا تھا۔ اس فیصلے سے امریکا میں موجود تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار ہیٹی باشندے اور 6 ہزار 100 شامی شہری متاثر ہو سکتے ہیں۔
🚨HUGE: The thousands of Haitians who stormed our border can now be DEPORTED thanks to a major ruling from the Supreme Court today.
This is a HUGE WIN for President Trump and the American people.
Follow: @BoLoudon pic.twitter.com/ockXPsVFje
— Bo Loudon (@BoLoudon) June 25, 2026
عارضی تحفظ کا پروگرام ایسے ممالک کے شہریوں کو امریکا میں رہنے اور کام کرنے کی اجازت دیتا ہے جہاں جنگ، قدرتی آفات یا دیگر سنگین حالات کے باعث واپسی خطرناک سمجھی جاتی ہے۔ ہیٹی کے شہریوں کو 2010 کے تباہ کن زلزلے کے بعد جبکہ شامی شہریوں کو 2012 میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد یہ تحفظ دیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ کے قدامت پسند جج سیموئل ایلیٹو نے اکثریتی فیصلہ تحریر کرتے ہوئے کہا کہ عدالتیں انتظامیہ کے عارضی تحفظ سے متعلق فیصلوں کا جائزہ لینے کا اختیار نہیں رکھتیں۔

تاہم 3 ججوں پر مشتمل اختلافی رائے میں کہا گیا کہ عدالتوں کو یہ اختیار حاصل ہونا چاہیے کہ وہ دیکھ سکیں کہ حکام نے قانونی طریقہ کار پر عمل کیا یا نہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ پروگرام عارضی بنیادوں پر بنایا گیا تھا اور اسے مستقل قیام کے راستے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں:فلسطین کے حامی غیرملکیوں کو امریکا بدر کرنے فیصلہ
فیصلے کے بعد متاثرہ تارکین وطن اور ان کے حامی گروپوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہیٹی اور شام کے موجودہ حالات میں لوگوں کو واپس بھیجنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسیوں سے متعلق اقدامات میں ایک اور اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے اثرات دیگر ممالک کے ان تارکین وطن پر بھی پڑ سکتے ہیں جو امریکا میں عارضی تحفظ کے تحت رہ رہے ہیں۔













