افغانستان میں غذائی قلت کا بحران سنگین، بچوں میں وزن کی کمی خطرناک سطح تک پہنچ گئی

پیر 10 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، گہری ہوتی غربت، بار بار آنے والی موسمی آفات اور انسانی امداد میں کمی کے باعث غذائی قلت کا بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں 5 سال سے کم عمر 37 لاکھ بچوں کو شدید غذائی قلت کا خطرہ، یونیسیف کا الرٹ

اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ تنظیم ریچ کی ایک نئی جائزہ رپورٹ کے مطابق افغانستان کے 53 فیصد سروے کیے گئے علاقوں میں صحت کے کارکنوں یا طبی مراکز کی جانب سے غذائی قلت کے کیسز میں اضافے کی اطلاع دی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان علاقوں میں سے 44 فیصد نے بتایا کہ گزشتہ 3 ماہ کے دوران غذائی قلت کے کیسز کی تعداد دگنی ہو گئی۔ سب سے زیادہ اضافہ پنجشیر میں 89 فیصد، فاریاب میں 85 فیصد اور لغمان میں 83 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

یہ جائزہ ریچ نے 10 مئی سے 7 جون کے دوران کیا جس میں افغانستان کے تمام 401 اضلاع سے 12 ہزار 854 اہم معلومات فراہم کرنے والے افراد سے معلومات حاصل کی گئیں۔

رپورٹ کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان میں پہلے ہی غربت اور بے گھر ہونے کے مسائل سے دوچار خاندانوں پر خوراک کی قلت اور معاشی مشکلات کا دباؤ مزید بڑھ رہا ہے۔

اس کے مطابق افغانستان کی 2 کروڑ 19 لاکھ آبادی یعنی تقریباً 45 فیصد افراد انسانی امداد کے محتاج ہیں۔

خوراک کی قیمتوں میں اضافہ اور بڑھتی بھوک

جائزے میں شامل 55 فیصد علاقوں نے گزشتہ 30 روز کے دوران اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کی اطلاع دی جبکہ 63 فیصد علاقوں میں مقامی منڈیوں میں قیمتوں میں اچانک اور بڑے اضافے کی نشاندہی کی گئی۔

اسی دوران 87 فیصد علاقوں میں بتایا گیا کہ خاندان معمول سے زیادہ مویشی فروخت کر رہے ہیں کیونکہ ان کے پاس آمدنی یا خوراک کی کمی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے خاندان بحران سے نمٹنے کے لیے اپنے باقی ماندہ اثاثے بھی فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔

مزید پڑھیے: غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ

مجموعی طور پر 65 فیصد علاقوں نے غذائی عدم تحفظ کو سنگین یا انتہائی سنگین مسئلہ قرار دیا جبکہ ایک چوتھائی علاقوں میں بتایا گیا کہ گزشتہ ماہ زیادہ تر لوگوں کے پاس مناسب خوراک موجود نہیں تھی۔

 

معاشی مشکلات کا اثر بچوں پر بھی پڑ رہا ہے۔ سروے میں شامل 60 فیصد علاقوں کے نمائندوں نے بتایا کہ خاندانوں کے پاس بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی خوراک یا رقم نہ ہونے کے باعث بچے بھی کام کرنے پر مجبور ہیں۔

غربت نقل مکانی کی بڑی وجہ

رپورٹ کے مطابق معاشی مشکلات افغانستان میں لوگوں کی نقل مکانی کی سب سے بڑی وجوہ میں شامل ہیں۔

تقریباً 80 فیصد علاقوں نے مالی مشکلات کو نقل مکانی کی بنیادی وجہ قرار دیا جبکہ 79 فیصد نے بے روزگاری اور غربت کو اس کی وجہ بتایا۔

اسی طرح 75 فیصد علاقوں میں خوراک کی قلت کو نقل مکانی کی وجہ قرار دیا گیا۔ دیگر عوامل میں خشک سالی 40 فیصد، بنیادی سہولیات تک محدود رسائی 31 فیصد، تنازع 15 فیصد اور سیلاب 12 فیصد شامل ہیں۔

حالیہ سیلابوں نے بھی انسانی ضروریات میں اضافہ کر دیا ہے۔ سروے میں شامل 15 فیصد علاقوں بالخصوص افغانستان کے مشرقی اور شمالی حصوں میں سیلاب کے بعد گھروں کو شدید نقصان پہنچا۔

سیلاب کے باعث کئی صوبوں میں لوگوں کو نقل مکانی بھی کرنا پڑی جن میں ارزگان، سمنگان اور بغلان سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق موسمیاتی آفات، بڑھتی ہوئی قیمتوں اور کمزور گھریلو آمدنی کے امتزاج نے پہلے ہی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار آبادیوں پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔

صحت کی سہولیات بھی لوگوں کی پہنچ سے دور

افغانستان میں صحت کی سہولیات تک رسائی بھی ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

جائزے کے مطابق 77 فیصد علاقوں نے ادویات اور طبی آلات کی کمی کو صحت کی سہولیات کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا۔

مزید پڑھیں: غذائی قلت کے خلاف جنگ، بی آئی ایس پی اور اقوامِ متحدہ کا ’نشوونما پروگرام‘ میں 3 سالہ توسیع کا معاہدہ

مزید 59 فیصد علاقوں نے بتایا کہ طبی علاج لوگوں کی مالی استطاعت سے باہر ہو گیا ہے جبکہ نصف سے زیادہ علاقوں میں خصوصی تربیت یافتہ طبی عملے کی کمی کی نشاندہی کی گئی۔

17 فیصد علاقوں میں جواب دینے والے افراد نے بتایا کہ خواتین طویل فاصلے یا سفری پابندیوں کے باعث صحت کے مراکز تک محفوظ اور آسانی سے نہیں پہنچ سکتیں۔

بچوں میں غذائی قلت خطرناک حد تک بڑھ گئی

دوسری جانب اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک ڈبلیو ایف پی نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں ہر تین میں سے ایک شخص کو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے اور ادارے کے پاس بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لیے مطلوبہ وسائل موجود نہیں۔

ڈبلیو ایف پی کے مطابق افغانستان کے 12 صوبوں میں بچوں میں شدید غذائی قلت کی صورتحال نازک سطح تک پہنچ چکی ہے جو اب تک ریکارڈ کی جانے والی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ تنازعات، بڑے پیمانے پر بے روزگاری، اشیائے خورونوش کی بڑھتی قیمتیں، انسانی امداد کے لیے کم ہوتے فنڈز اور رسد کے راستوں میں رکاوٹیں اس بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔

ڈبلیو ایف پی کے مطابق افغانستان میں اس وقت تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ افراد شدید بھوک کا سامنا کر رہے ہیں تاہم فنڈز میں کمی کے باعث ادارہ ان میں سے صرف ہر 9 میں سے ایک شخص تک خوراک پہنچانے میں کامیاب ہو سکا ہے۔

ادارے نے خبردار کیا ہے کہ ضرورت اپنے عروج پر پہنچنے کے باوجود زندگی بچانے والے غذائی پروگرام محدود کیے جا رہے ہیں۔

بچوں میں شدید کمزوری اور وزن میں خطرناک کمی جسے غذائی قلت کی سب سے خطرناک شکل سمجھا جاتا ہے افغانستان کے ایک تہائی صوبوں میں نازک سطح تک پہنچ چکی ہے۔

افغانستان میں ڈبلیو ایف پی کے سربراہ ایلیئف نے کہا کہ غذائی قلت کے شکار بچوں کی صحت کے مراکز تک پہنچنے کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس صورتحال کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

ان کے مطابق انتہائی سنگین حالت میں پہنچنے والے بچوں میں 80 فیصد کی عمر 2 سال سے کم ہے اور غیر سرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ بہت سے بچے طبی مراکز تک اس وقت پہنچ رہے ہیں جب انہیں بچانا ممکن نہیں رہتا۔

ایلیئف نے خبردار کیا کہ انسانی امداد کے لیے فنڈز میں کمی کے باعث شدید غذائی قلت کا شکار لاکھوں افغان بچے ایسے وقت میں امداد سے محروم ہو رہے ہیں جب ان کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: عالمی ادارہ صحت، پاکستان میں غذائی قلت کے شکار 80 ہزار بچوں کو علاج میں مدد دیگا

انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے نتیجے میں ایسی اموات ہو رہی ہیں جنہیں روکا جا سکتا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp