مصنوعی ذہانت یا اے آئی کے بارے میں برسوں سے یہ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی انسانوں کا کام آسان کرے گی، محنت کے گھنٹے کم کرے گی اور مستقبل میں 4 روزہ ورک ویک بھی ممکن بنائے گی۔ تاہم اے آئی کی ترقی پر اربوں ڈالر خرچ کرنے والی ٹیک کمپنیوں کے اپنے ملازمین کی کہانی اس کے برعکس نظر آتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کون سا اے آئی چیٹ بوٹ حساب کتاب میں سب سے زیادہ درست ہے؟
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ان کمپنیوں میں کام کرنے والے بعض ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ روایتی 5 دن اور 40 گھنٹے کے ہفتہ وار کام سے کہیں زیادہ وقت کام کر رہے ہیں جبکہ بعض ملازمین کے مطابق اے آئی سے متعلق منصوبوں میں کام کے اوقات 90 گھنٹے فی ہفتہ تک پہنچ جاتے ہیں۔
4 سال قبل گوگل کے ایک انجینیئرنگ ڈائریکٹر نے پیشگوئی کی تھی کہ اے آئی سال 2025 تک 4 روزہ ورک ویک ممکن بنا دے گی۔
اس پیشگوئی کے ایک سال بعد رواں برس اوپن اے آئی نے بھی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ 4 روزہ ورک ویک کی آزمائش شروع کریں جس میں ملازمین کی تنخواہوں میں کوئی کمی نہ کی جائے۔ کمپنی کا مؤقف تھا کہ اے آئی مستقبل قریب میں انسانی محنت کو اس قدر تیز کر دے گی کہ کارپوریٹ دنیا کو کم کام کے اوقات کے لیے خود کو تیار کرنا چاہیے۔
تاہم اوپن اے آئی کے ایک سابق تکنیکی ملازم جو گزشتہ برس کمپنی چھوڑ چکے ہیں نے بی بی سی کو بتایا کہ کمپنی نے خود 4 روزہ ورک ویک کا وہ تجربہ کبھی نہیں کیا جس کی آزمائش کا مشورہ وہ دوسری کمپنیوں کو دے رہی تھی۔
اس کے برعکس سابق ملازم نے کمپنی کے کام کے ماحول کو انتہائی سخت قرار دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں اکثر ’بحرانی اجلاس‘ ہوتے تھے ہفتے کے اختتام پر بھی کام کرنا پڑتا تھا اور کارکردگی کا جائزہ لینے کا عمل انتہائی سخت تھا جس کے نتیجے میں بعض ساتھی اچانک ملازمت سے فارغ کر دیے جاتے تھے۔
ان کے بقول آپ ہفتے یا اتوار کو بھی دفتر چلے جاتے ہیں تاکہ زیر التوا کام مکمل کر سکیں یا یہ یقینی بنائیں کہ کچھ خراب تو نہیں ہو رہا۔
اے آئی سے کام کم یا دباؤ زیادہ؟
دیگر ٹیک کمپنیاں بھی یہ تصور پیش کرتی رہی ہیں کہ اے آئی بالآخر انسانوں کے لیے کام کے اوقات کم کر دے گی۔
مزید پڑھیے: مصنوعی ذہانت نے اپنے رنگ دکھانے شروع کردیے، اوپن اے آئی کا جدید ماڈل بے قابو، سائبر حملہ کردیا
اے آئی کمپنی اینتھروپک کا کہنا ہے کہ اس کا مقبول کوڈنگ ٹول اور چیٹ بوٹ کلاڈ مسلسل 7 گھنٹے تک خود کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو تقریباً ایک مکمل دفتری دن کے برابر ہے۔
میٹا کے سربراہ مارک زکربرگ بھی کہہ چکے ہیں کہ کمپنی ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں اے آئی کام کرنے کے طریقے کو ڈرامائی طور پر تبدیل کرنا شروع کر دے گی اور ایسے ٹولز کی مدد سے کہیں کم ملازمین پہلے سے زیادہ کام کر سکیں گے۔
دوسری جانب میٹا اپنے تقریباً 10 فیصد ملازمین کو ملازمت سے فارغ بھی کر چکی ہے جبکہ اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو داریو اموڈی نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی ٹولز کی پیداواری صلاحیت میں اضافے کے ساتھ ملازمتوں میں مزید بڑے پیمانے پر کمی بھی ہو سکتی ہے۔
لیکن انہی کمپنیوں کے ملازمین جو نہ صرف اے آئی تیار کر رہے ہیں بلکہ خود بھی ان ٹولز کو استعمال کرتے ہیں کہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی نے ان کے کام کے اوقات کم کرنے کے بجائے بعض صورتوں میں مزید بڑھا دیے ہیں۔
’سپرنٹ‘ اور 90 گھنٹے کام
امریکا میں ٹیکنالوجی کے شعبے کے ملازمین عموماً اچھی تنخواہیں حاصل کرتے ہیں اور سرمایہ کاری بینکاری، قانون اور طب جیسے شعبوں میں بھی طویل اوقات کار عام ہیں، لیکن ٹیکنالوجی کی صنعت میں ہر وقت 14 گھنٹے کام کرنا ماضی میں معمول نہیں تھا۔ کئی برس تک یہاں صبح 9 سے 5 بجے تک دفتری کام نسبتاً عام سمجھا جاتا تھا۔
اوپن اے آئی کے سابق ملازم کے مطابق وہ کمپنی میں ہفتے کے کم از کم 70 گھنٹے کام کرتے تھے جو ان کی سابقہ ٹیک ملازمتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھا۔
اب وہ اے آئی پر کام کرنے والے ایک اسٹارٹ اپ سے وابستہ ہیں جہاں ان کے مطابق کام اور نجی زندگی میں توازن کچھ بہتر ہے اور وہ عموماً ہفتے میں 50 سے 60 گھنٹے کام کرتے ہیں، تاہم ’سپرنٹ‘ کے اوقات اس سے مختلف ہوتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کی کمپنیوں میں ’اسپرنٹ‘ سے مراد وہ مدت ہے جس میں کسی نئے فیچر یا پروڈکٹ کی ریلیز سے پہلے ملازمین معمول سے کہیں زیادہ گھنٹے کام کرتے ہیں۔ تاہم اے آئی پر تیزی سے کام کرنے والی کمپنیوں میں یہ انتہائی طویل بھی ہو سکتے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرنے والے ٹیک ورکرز کے مطابق اوپن اے آئی اور اینتھروپک میں ایسے مراحل کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتے ہیں اور 7 دن کے دوران کام کے اوقات 90 گھنٹے سے بھی تجاوز کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: اے آئی ماڈل میں انسانی دماغ سے مشابہ نظام کا انکشاف
اوپن اے آئی اور اینتھروپک نے اس خبر کے لیے بھیجے گئے سوالات کا جواب نہیں دیا۔
میٹا کے ملازمین کو ’زبردستی‘ اے آئی ٹیموں میں بھیجا گیا
میٹا میں کام کرنے والے موجودہ اور سابق ملازمین کے مطابق رواں برس انہیں اچانک اے آئی سے متعلق ایسے منصوبوں پر کام کرنے والی ٹیموں میں منتقل کیا گیا جنہیں انتہائی فوری نوعیت کا قرار دیا جا رہا تھا۔
ایک موجودہ اور ایک سابق ملازم نے اس عمل کو ’ڈرافٹ‘ کیے جانے سے تشبیہ دی کیونکہ ان کے مطابق ملازمین کو یہ انتخاب نہیں دیا گیا کہ وہ ان ٹیموں کا حصہ بننا چاہتے ہیں یا نہیں۔
سابق ملازم نے کہا کہ وہ آپ کو بس دوسری ٹیم میں منتقل کر دیتے ہیں۔ آپ انکار نہیں کر سکتے، اور اگر کریں تو آپ کو استعفیٰ دینا پڑتا ہے۔
ان کے مطابق میٹا نے بعد میں اس سخت ’یا کام کرو یا چھوڑ دو‘ پالیسی میں کچھ نرمی کی لیکن اس وقت تک بہت سے ملازمین کو اے آئی سے متعلق کاموں پر منتقل کیا جا چکا تھا۔
ان ٹیموں میں کام کے اوقات بھی طویل تھے اور ملازمین رات گئے تک کام کرتے، ہفتے کے اختتام پر بھی دستیاب رہتے اور کام کے اوقات کے علاوہ بھی خود کو ’آن کال‘ محسوس کرتے تھے۔
امریکا میں 16 سال سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے ہفتے میں کام کے گھنٹوں کی کوئی عمومی قانونی حد مقرر نہیں جبکہ برطانیہ اور یورپ میں اوور ٹائم سمیت ہفتہ وار کام کے اوقات 48 گھنٹے تک محدود ہیں۔
میٹا کے موجودہ اے آئی منصوبوں میں ایسا اے آئی ٹول تیار کرنا بھی شامل ہے جو سافٹ ویئر انجینئرنگ اور دیگر کاموں میں استعمال ہو سکے جبکہ کمپنی ایسے اے آئی ماڈلز کے بنیادی ڈھانچے پر بھی کام کر رہی ہے جو یہ جانچ سکے کہ کوئی اے آئی ماڈل مختلف انسانی کاموں کو کس حد تک انجام دے سکتا ہے۔
سابق ملازم نے کہا کہ آپ دراصل ایسے لوگوں کی ٹیموں میں کام کر رہے ہوتے ہیں جو یہ کوشش کر رہے ہیں کہ انسانوں کے ذریعے کیے جانے والے کاموں کو اے آئی سے کیسے دہرایا جائے۔ ان کے مطابق یہ کام بے انتہا محسوس ہوتا ہے۔
میٹا کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔
اے آئی سے براہ راست وابستہ نہ ہونے والے ملازمین بھی متاثر
اے آئی کی وجہ سے کام کے اوقات میں اضافے کا سامنا صرف ان ملازمین کو نہیں جو براہ راست اے آئی تیار کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: اے آئی چشمے: سہولت کے ساتھ غلط معلومات اور پرائیویسی کے خدشات بھی سامنے آگئے
گوگل کے سابق ملازم امین شالی نے مئی میں کمپنی چھوڑ دی۔ ان کا کہنا ہے کہ اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے ان کی ملازمت کو منفی طور پر متاثر کیا۔
ان کے مطابق انہیں اکثر رات گئے تک کام کرنا پڑتا تھا کیونکہ کمپنی کے اندر انجینیئرنگ سے متعلق بعض نظام ناکام ہو جاتے تھے۔ یہ مسئلہ اس وقت زیادہ بڑھا جب گوگل نے پروسیسنگ یونٹس اور میموری اسٹوریج جیسے اہم وسائل اے آئی منصوبوں کی جانب منتقل کرنا شروع کیے۔
گوگل کے ترجمان نے بھی سوالات پر تبصرہ نہیں کیا۔
گوگل چھوڑنے کے بعد شالی نے بتایا کہ ان کی نیند اور مجموعی صحت میں بہتری آئی ہے۔ ان کے مطابق بڑی ٹیک کمپنیوں میں اے آئی پر ضرورت سے زیادہ انحصار انجینیئرز پر اضافی دباؤ کے ساتھ ایک خراب کام کی ثقافت پیدا کرتا ہے۔
کام کا وقت بچا مگر وہ بھی مزید کام میں صرف ہو گیا
کچھ نئی تحقیق بھی اس خیال کو چیلنج کرتی ہے کہ اے آئی لازماً لوگوں کے کام کا بوجھ کم کر رہی ہے۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے کی ایک تحقیق میں امریکا کی ایک ٹیک کمپنی کے سیکڑوں ملازمین کا 8 ماہ تک جائزہ لیا گیا۔ تحقیق میں معلوم ہوا کہ اے آئی استعمال کرنے کے بعد ملازمین نے زیادہ تیز رفتاری سے کام کیا، زیادہ وسیع دائرے کے کام سنبھالے اور اپنے کام کے اوقات دن کے مزید حصوں تک پھیلا دیے۔
میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے ماہر نیل تھامپسن کے مطابق اے آئی میں سب سے آگے رہنے والی کمپنیوں میں بھی یہ امکان کم ہے کہ ملازمین کو صرف یہ کہا جائے کہ اے آئی ٹول استعمال کریں اپنا کچھ کام اس سے کروائیں اور پھر گھر چلے جائیں۔
ان کے مطابق اگر اے آئی واقعی کچھ وقت بچاتی بھی ہے تو وہ وقت اکثر نئے کاموں، اے آئی نظام کو نافذ کرنے اور یہ یقینی بنانے میں صرف ہو جاتا ہے کہ یہ نظام درست طریقے سے کام کر رہا ہے۔
برکلے کی تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ ٹیک ملازمین کے کام کا دائرہ اس لیے بڑھا کیونکہ انہیں اے آئی ٹولز کے نتائج کو مسلسل جانچنا پڑتا تھا۔
تھامپسن کے مطابق جب کوئی ملازم اے آئی کی مدد سے اپنے کام کے طریقہ کار کو زیادہ مؤثر بنا لیتا ہے تو عموماً بچ جانے والا وقت بھی مزید کام میں استعمال ہونے لگتا ہے۔ بعض اوقات ملازمین یہ کام اپنی مرضی سے کرتے ہیں اور بعض اوقات انہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ انہیں اپنی اہمیت ثابت کرنے کے لیے زیادہ کام کرنا چاہیے۔
تھامپسن کہتے ہیں کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ 20 فیصد کم کام کا مطلب 4 روزہ ورک ویک ہے لیکن نیا کام سامنے آ جاتا ہے۔
یوں اے آئی کے بارے میں اصل سوال شاید یہ نہیں کہ یہ انسانوں کا کتنا کام کم کر سکتی ہے بلکہ یہ ہے کہ اے آئی سے بچنے والا وقت آخر کس کے لیے بچایا جائے گا۔ ملازمین کے لیے یا مزید کام کے لیے؟














