کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں شاہی قلعہ گراؤنڈ کے قریب جھاڑیوں سے 25 سالہ نوجوان میر رضا علی کی گولی لگی لاش 29 جولائی کو ملی۔ میر رضا وفلکس نامی کھانے کے کاروبار کے مالک تھے اور 28 جولائی کو پی ای سی ایچ ایس میں واقع گھر سے لاپتا ہوئے تھے۔
پولیس نے ابتدائی طور پر اغوا کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردیں، تاہم خاندان نے پہلے ہی روز موت کو قتل قرار دیا۔
31 جولائی تا 3 اگست، تفتیش کا رخ بدلا
تحقیقات میں میر رضا کی آخری نقل و حرکت، موبائل فون اور مالی معاملات کا جائزہ لیا گیا۔ پولیس کے مطابق میر رضا نے بعض دوستوں سے رقم طلب کی تھی اور کاروباری مشکلات کا بھی سامنا تھا۔
3 اگست کو پولیس نے خودکشی کے امکان کو بھی تفتیش کا حصہ بنا لیا۔ پولیس کے مطابق میر رضا گھر سے پستول لے کر نکلے، آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گلستانِ جوہر پہنچے اور کیمروں میں انہیں اکیلے دیکھا گیا۔
لیکن چند سوالات برقرار رہے کہ وہ اسی مقام پر کیوں گئے، پستول کہاں گیا اور ہاتھوں پر گولی چلانے کے ذرات کیوں نہیں ملے؟
4 تا 6 اگست، پوسٹ مارٹم پر سوالات
پولیس سرجن ڈاکٹر ثمینہ سید نے پہلے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گولی کے راستے سمیت بعض نکات پر سوالات اٹھائے اور بتایا کہ ہاتھوں پر گولی چلانے کے ذرات کی جانچ بھی نہیں کی گئی۔
پولیس نے مالی مشکلات اور ذاتی معاملات کی بنیاد پر خودکشی کا امکان برقرار رکھا، تاہم میر رضا کے والدین نے اسے مسترد کردیا اور قتل کا مؤقف اختیار کیا۔
6 اگست، عدالت سے قبر کشائی کی اجازت
پوسٹ مارٹم پر سوالات کے بعد میر رضا کے والد نے عدالت سے قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کی درخواست کی۔
عدالت نے اجازت دیتے ہوئے ماہرین پر مشتمل طبی بورڈ بنانے کی ہدایت کی۔ بورڈ کی تشکیل پر خاندان کے اعتراض کے باعث 7 اگست کو قبر کشائی مؤخر ہوئی، تاہم بعد میں اصل 8 رکنی بورڈ بحال کردیا گیا۔
8 اگست، قبر کشائی اور دوسرا پوسٹ مارٹم
8 اگست کو طارق روڈ کے قبرستان میں میر رضا کی قبر کشائی کی گئی۔ 8 رکنی طبی بورڈ نے دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا اور مختلف نمونے فرانزک جانچ کے لیے حاصل کیے۔
دوسرے طبی معائنے میں سر اور چہرے پر متعدد زخم، ناک اور کھوپڑی کی ہڈیوں میں فریکچر اور جسم کے پچھلے حصے پر گولی کا زخم سامنے آیا۔
میر رضا کے وکیل جبران ناصر نے مؤقف اختیار کیاکہ شواہد تشدد اور قتل کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
9 اگست، قتل کی تفتیش، نئی ٹیم اور معطلیاں
دوسرے پوسٹ مارٹم کے بعد قتل کے مؤقف کو مزید تقویت ملی۔ سندھ حکومت نے عدالتی تحقیقات کا اعلان کیا، جبکہ سندھ پولیس نے سابق تفتیشی ٹیم ختم کرکے ڈی آئی جی امیر فاروقی کی سربراہی میں نئی 5 رکنی ٹیم تشکیل دے دی۔
اسی روز گلستانِ جوہر کے متعلقہ پولیس افسران کو جائے وقوعہ کی مناسب تفتیش نہ کرنے پر معطل بھی کیا گیا۔
سوشل میڈیا پر سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن اور ان کے بیٹے سے متعلق بھی الزامات سامنے آئے، تاہم یہ دعوے ثابت شدہ حقائق نہیں تھے۔
10 اگست، نئی ٹیم نے تحقیقات سنبھال لیں
نئی تفتیشی ٹیم نے میر رضا کے اہل خانہ اور ان کے وکیل سے ملاقات کی اور سابق ٹیم سے کیس کا ریکارڈ حاصل کرلیا۔
ٹیم نے واضح کیاکہ تمام شواہد کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا، جبکہ سندھ پولیس کے سربراہ نے بھی تفتیش کو کھلے ذہن کے ساتھ آگے بڑھانے کی ہدایت کی۔
دوسری جانب شرجیل میمن نے سوشل میڈیا پر اپنے اور بیٹے کے خلاف مبینہ جھوٹی معلومات پھیلانے پر سائبر جرائم ادارے سے رجوع کرلیا۔
11 اگست، عدالتی کمیشن کا فیصلہ مؤخر
سندھ حکومت نے میر رضا کیس میں عدالتی کمیشن بنانے کا فیصلہ فی الحال مؤخر کردیا۔
وزیر داخلہ ضیا لنجار کے مطابق میر رضا کے اہل خانہ نے نئی تفتیشی ٹیم پر اعتماد کا اظہار کیا، جس کے بعد والدین کی درخواست پر عدالتی کمیشن کا فیصلہ مؤخر کیا گیا۔
کیس اب کہاں کھڑا ہے؟
میر رضا علی کیس 12 دن میں خودکشی کے امکان سے قتل کی باقاعدہ تفتیش تک پہنچ چکا ہے۔ پہلے پوسٹ مارٹم پر سوالات اٹھے، قبر کشائی اور دوسرا پوسٹ مارٹم ہوا، جسم پر متعدد زخم سامنے آئے، قتل کی دفعہ شامل ہوئی اور پرانی تفتیشی ٹیم کی جگہ نئی ٹیم آگئی۔
میر رضا علی کی موت کا حتمی جواب ابھی سامنے آنا باقی ہے، لیکن ایک بات واضح ہے، جس کیس کا آغاز خودکشی کے شبہے سے ہوا تھا، وہ اب قتل کی تحقیقات، دوبارہ پوسٹ مارٹم اور عدالتی انکوائری تک پہنچ چکا ہے۔ اب نظریں فرانزک رپورٹس، نئی تفتیشی ٹیم اور عدالتی تحقیقات پر ہیں۔
سوال صرف یہ نہیں کہ میر رضا کی جان کیسے گئی، سوال یہ بھی ہے کہ اگر انہیں قتل کیا گیا، تو آخر قاتل کون ہے؟














