افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ملک کی افرادی قوت میں خواتین کی شرکت میں نمایاں کمی آئی ہے اور سال 2026 میں افغان لیبر مارکیٹ میں خواتین کا حصہ کم ہوکر صرف 5.1 فیصد رہ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان رجیم نے سرکاری ملازمین پر اسمارٹ فون کے استعمال پر پابندی عائد کر دی
اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) نے خواتین کے اس شدید معاشی اخراج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اقدامات پر زور دیا ہے۔
آئی ایل او کے مطابق 2020 میں افغانستان کی افرادی قوت میں خواتین کی شرکت 16.5 فیصد تھی، جو 2026 میں کم ہوکر 5.1 فیصد رہ گئی۔ یوں خواتین کی لیبر فورس میں شرکت اپنی سابقہ سطح کے ایک تہائی سے بھی کم رہ گئی ہے۔
اس کے برعکس افغانستان میں مردوں کی ملازمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
افغانستان کے لیے آئی ایل او کے دفتر کے سربراہ اور سینیئر کوآرڈینیٹر ٹائٹ حبی یاکارے نے کہا کہ افغانستان ایک مضبوط اور بحرانوں کا مقابلہ کرنے والی لیبر مارکیٹ اس وقت تک قائم نہیں کرسکتا جب تک اس کی آبادی کا اتنا بڑا حصہ معاشی سرگرمیوں سے باہر رہے۔
رپورٹ کے مطابق خواتین کی ملازمت اور تعلیم پر طالبان کی جانب سے عائد پابندیوں نے ان کی معاشی سرگرمیوں میں شرکت کو شدید متاثر کیا ہے۔
مزید پڑھیے: طالبان رجیم کی سرپرستی میں افغان دہشتگرد فرنچائزز کا پھیلاؤ، عالمی خدشات میں اضافہ
آئی ایل او نے کہا کہ افغانستان میں خواتین کی ملازمت کی شرح دنیا میں یمن کے بعد سب سے کم ہے۔
پابندیوں کے باوجود خواتین کے کاروبار میں اضافہ
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ خواتین کو تعلیم اور متعدد پیشوں سے دور کردیا گیا ہے تاہم ان پابندیوں کے نتیجے میں خواتین کے کاروبار کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں خواتین کے کاروبار کی تعداد 10 گنا بڑھ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس اضافے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ خواتین کو متعدد دیگر پیشوں اور شعبوں میں کام کرنے کے مواقع محدود یا ختم ہوگئے ہیں جس کے باعث بعض خواتین نے کاروبار کا رخ کیا۔
افغان افرادی قوت میں مجموعی اضافہ
آئی ایل او کے مطابق افغانستان میں مجموعی روزگار سنہ 2022 کی کم ترین سطح کے مقابلے میں 14 فیصد بڑھ کر سنہ 2026 میں 85 لاکھ تک پہنچ گیا ہے۔
تاہم رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ روزگار میں یہ اضافہ افغانستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے مقابلے میں کافی نہیں ہے۔
مزید پڑھیں : ’ہم تیرے بن کہیں رہ نہیں پاتے‘: بھارت کا طالبان رجیم سے بڑھتا رومانس، معاملہ کیا ہے؟
آئی ایل او کے مطابق خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں شرکت پر عائد پابندیاں نہ صرف افغان خواتین کے لیے روزگار کے مواقع محدود کررہی ہیں بلکہ ملک کی مجموعی معیشت اور مستقبل کی لیبر مارکیٹ کی مضبوطی کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔














