افغان طالبان رجیم نے سرکاری ملازمین پر اسمارٹ فون کے استعمال پر پابندی عائد کر دی

جمعرات 25 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان کی طالبان حکومت نے سرکاری اداروں میں کام کرنے والے تمام فوجی اور سول ملازمین کے لیے اسمارٹ فون کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے جس کے بعد انسانی حقوق کے کارکنوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے معلومات تک رسائی مزید محدود ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں پر یورپ کی تشویش میں اضافہ، طالبان پر شدید عالمی دباؤ

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک فوجی عدالت کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ 16 جون سے تمام فوجی و سول اداروں کے اہلکاروں، ججوں اور دیگر سرکاری عہدیداروں کے لیے اسمارٹ فون کا استعمال ممنوع ہوگا۔

حکم نامے کے مطابق پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے موبائل فون ضبط کر کے توڑ دیے جائیں گے جبکہ متعلقہ قوانین کے تحت ان کے خلاف کارروائی بھی کی جائے گی۔

طالبان حکومت نے اس معاملے پر باضابطہ مؤقف جاری نہیں کیا، تاہم افغان میڈیا ادارے کابل ٹریبیون کے مطابق وزارتِ مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اسمارٹ فونز کے استعمال پر پابندی سے متعلق خبروں کی تردید کی ہے۔

وزارت نے 18 جون کو جاری ایک بیان میں کہا کہ بعض میڈیا رپورٹس اور وزیر مواصلات عبدالاحد فاضلی سے منسوب بیانات بے بنیاد ہیں اور ان کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں۔

مزید پڑھیے: افغانستان: طاقت، وسائل اور عہدوں پر قندھاری قیادت کی اجارہ داری، طالبان حکومت کے خلاف نئی رپورٹ نے ہلچل مچا دی

دوسری جانب سرکاری ملازمین کا کہنا ہے کہ پابندی کے باعث دفتری امور شدید متاثر ہوئے ہیں کیونکہ بیشتر سرکاری رابطے موبائل فون، واٹس ایپ اور ای میل کے ذریعے انجام دیے جاتے تھے۔

ایک سرکاری ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس فیصلے کے بعد کئی انتظامی امور عملاً تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔

پنج شیر صوبے کے گورنر نے بھی ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ صوبے کے تمام سرکاری دفاتر میں اس پابندی کا فوری نفاذ کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: افغانستان سے ابھرنے والے دہشتگردی کے خطرات پر پاکستان اور روس میں اہم مشاورت

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اسمارٹ فون اب صرف رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ تعلیم، معلومات تک رسائی، نجی مواصلات اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دینے کا اہم ذریعہ بھی ہے۔

حقوقِ نسواں کی سرگرم کارکن صنم کبیری نے کہا کہ آج کے دور میں اسمارٹ فون محض تفریح کا ذریعہ نہیں رہا، اس لیے سرکاری دفاتر میں اس کے استعمال پر پابندی یہ تاثر پیدا کرتی ہے کہ مقصد صرف نظم و ضبط قائم رکھنا نہیں بلکہ معلومات اور رابطے تک رسائی کو محدود کرنا بھی ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی فوجی سازوسامان واپس لے سکتے ہیں، ٹرمپ

واضح رہے کہ طالبان کے اگست 2021 میں اقتدار میں واپس آنے کے بعد خواتین، میڈیا اور سول سوسائٹی پر متعدد پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔ لڑکیوں کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر پابندی برقرار ہے جبکہ متعدد خواتین کو ملازمتوں سے بھی محروم کیا جا چکا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں نے اس دوران دھمکیوں، گرفتاریوں اور سنسرشپ کے واقعات کی بھی نشاندہی کی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سانحۂ اے پی ایس سے برطانوی فٹبال ٹیم تک، عمر نواز کی ناقابلِ یقین کامیابی کی داستان

انگلینڈ نے فرانس کو 4-6 سے شکست دیکر تیسری پوزیشن اپنے نام کرلی،  10 گولوں کا نیا ریکارڈ قائم

’محدود بجٹ میڈیا انڈسٹری کے لیے بڑا چیلنج بن گیا‘

گل پلازہ سانحہ: تفتیشی افسر کی تبدیلی، تحقیقات پر اٹھنے والے سوالات کیا نئی سمت اختیار کریں گے؟

کراچی: کشمیر کالونی میں آزاد کشمیر انتخابات پر بحث، مہاجرین نشستوں کی اہمیت اور کشمیریوں کے تحفظات

ویڈیو

’محدود بجٹ میڈیا انڈسٹری کے لیے بڑا چیلنج بن گیا‘

نہال ہاشمی سے عالمی شہرت یافتہ باکسر عامر خان کی ملاقات، جدید باکسنگ اکیڈمی کے قیام کی خواہش کا اظہار

مذہبی روایات اور محبت سے بھرپور ڈراما سیریل ’دارالنجات‘ کا ٹیزر جاری، شہریار ، درِفشاں کا مرکزی کردار

کالم / تجزیہ

گیری سوبرز: ایک بے بدل کرکٹر کو الوداع

فیفا کے سنہرے جوتوں کی الف لیلیٰ

کشکول کی تیاری