عمران خان کی اسپتال منتقلی: سینیٹ میں وزیر برائے پارلیمانی امور کی عملدرآمد کی یقین دہانی، پی ٹی آئی اراکین کا خیرمقدم

منگل 18 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے سینیٹ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی مکمل صحتیابی کے بعد احتجاج ہوگا کیا پی ٹی آئی 27 ستمبر کو احتجاج نہیں کرےگی؟

سینیٹ اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم یا حکومت کو عدالتی فیصلوں کے خلاف جانے کا اختیار نہیں۔

اس سے قبل منگل کو سپریم کورٹ نے حکومت کو ہدایت کی تھی کہ اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کو آئندہ 2 روز کے اندر اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے۔

عدالت نے متعلقہ افسر یا حکومت کو شفا انٹرنیشنل اسپتال کی انتظامیہ سے مشاورت اور رابطے کے بعد ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی۔ بورڈ میں ایک فزیشن، جنرل سرجن، ماہر امراضِ داخلیہ، ماہر امراضِ چشم اور ماہر امراضِ قلب شامل ہوں گے، جو عمران خان کا طبی معائنہ اور علاج کریں گے۔

عمران خان، ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان، مشال اعظم اور پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے، ان کے ذاتی معالجین، اہل خانہ اور وکلا کو رسائی دینے اور ان کی طبی معلومات اہل خانہ کو فراہم کرنے کی استدعا کی تھی۔

پی ٹی آئی ارکان کا عدالتی فیصلے کا خیرمقدم

سینیٹ میں پی ٹی آئی ارکان نے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کیا اور دیگر زیر حراست پارٹی رہنماؤں کو بھی ریلیف دینے کا مطالبہ کیا۔

مزید پڑھیے: عمران خان سے نورین نیازی کی ملاقات کرادی گئی، 45 منٹ تک گفت و شنید

پی ٹی آئی سینیٹر اعظم سواتی نے عمران خان کو علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے حکومت کا بھی شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ معاملات کو مل کر حل کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔

سینیٹر فیصل جاوید نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اب اس پر عمل درآمد انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے دیگر قید پی ٹی آئی رہنماؤں کو بھی ریلیف دینے کا مطالبہ کیا۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے ملک میں عدلیہ کی آزادی کو ثابت کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو بھی عدالتوں سے ریلیف ملا ہے۔

وفاقی وزیر نے عدلیہ کے خلاف توہین آمیز بیانات اور نفرت انگیز مہم کی شدید مذمت بھی کی۔

سڑکوں کی بندش اور معاشی نقصان کا معاملہ

سینیٹ اجلاس میں پی ٹی آئی کے سینیٹر محسن عزیز نے سڑکوں کی مسلسل بندش اور اس کے معیشت پر اثرات کا معاملہ بھی اٹھایا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال 10 روز سے جاری ہے، خام مال کی ترسیل متاثر ہوئی ہے اور صنعت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

محسن عزیز نے کہا کہ مختلف مواقع پر سڑکیں بند کردی جاتی ہیں، کبھی کرکٹ ٹیم کی آمد پر، کبھی غیر ملکی وفود کی وجہ سے موٹرویز اور جی ٹی روڈ بند ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے اڈیالہ جیل دوروں کے دوران بھی راستے بند کیے جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کا عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کا حکم، کیا مسلم لیگ ن اس معاملے سے بالکل لاتعلق تھی؟

انہوں نے سوال اٹھایا کہ روزانہ پٹرول کی قیمتوں کا تعین بھی اسی طرح جاری ہے اور کہا کہ ملک اس انداز میں نہیں چل سکتا، صنعت کو تباہ نہیں کیا جانا چاہیے۔

طارق فضل چوہدری نے جواب دیا کہ ٹرانسپورٹرز کے احتجاج کے بعد ان کے ساتھ کامیاب مذاکرات کیے گئے اور راستے کھول دیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیاست میں تشدد اور انتشار کی گنجائش نہیں اور یہ ملک کے مفاد میں کسی صورت نہیں۔

یہ بھی پڑھیے: عمران خان کی صحت پر سیاست نہیں کریں گے، بیرسٹر گوہر کا سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم

وفاقی وزیر نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز پر زور دیا کہ وہ محض تنقید کے بجائے تعمیری تجاویز پیش کریں۔ انہوں نے سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں پاک فوج اور پولیس کے اہلکاروں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔

سابق فاٹا اور پاٹا کے ٹیکس استثنیٰ کا معاملہ

سینیٹر عطاء الرحمان نے وفاقی بجٹ میں سابق فاٹا اور پاٹا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے ٹیکس استثنیٰ واپس لیے جانے پر توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ ان علاقوں کے لیے 100 ارب روپے فراہم کرنے کا وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ فاٹا کے اضلاع کو عوام سے پوچھے بغیر خیبر پختونخوا میں ضم کردیا گیا اور ان علاقوں کے مسائل میں اضافے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی بھی برقرار ہے۔

سینیٹر عطاء الرحمٰن نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتحاد اور سیاسی تعاون پر بھی زور دیا اور کہا کہ اپوزیشن کو اپوزیشن کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔

سینیٹ اجلاس کورم پورا نہ ہونے پر ملتوی

دوسری جانب سینیٹ اجلاس مسلسل دوسرے روز بھی کورم کے مسئلے کا شکار رہا۔ ارکان کی مطلوبہ تعداد پوری نہ ہونے پر اجلاس جمعرات تک ملتوی کردیا گیا۔

مزید پڑھیں: ڈیل یا ڈھیل؟‘، عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے حکم پر لوگوں کی مختلف رائے

اجلاس کے آغاز میں سینیٹر شہادت اعوان کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد منظور کیے جانے کے بعد وقفہ سوالات معطل کردیا گیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عمران خان کے لیے این آر او حاصل کرنے کی پی ٹی آئی کی خواہش نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے، خواجہ آصف

ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی کا نیتن یاہو کو غزہ امن منصوبے میں رکاوٹیں نہ ڈالنے کا مشورہ

جی سی ایس ای کے بعد ٹی لیولز، گریڈز کتنے اہم اور اے لیولز سے کیسے مختلف، اس کورس کا پاکستان میں کیا مستقبل ہے؟

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، پیٹرول 3 روپے 34 پیسے، ڈیزل 5 روپے 27 پیسے مہنگا

عمران خان کی اسپتال منتقلی کے فیصلے پر پی ٹی آئی نے جلدی مٹھائی کھالی : طلال چوہدری

ویڈیو

پاکستان میں خواتین معذوری کے ساتھ کن مسائل کا سامنا کرتی ہیں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو ’سفید جھنڈا لہرانے‘ کا مشورہ، ایرانی حکام کو ماہر کھلاڑی بھی قرار دے دیا

6 ماہ کے اندر نئے صوبے بنانے کا فیصلہ، کیا نئی آئینی ترمیم آرہی ہے؟

کالم / تجزیہ

سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک

وزیر اعلیٰ اسلام آباد کا اقتدار کب ختم ہوگا؟

انتقال کے 29 برس بعد