نارتھ ایتھلینٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) نے کہا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے یورپ میں امریکی فوجی تنصیبات کو ممکنہ طور پر نشانہ بنانے سمیت کسی بھی خطرے سے اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے تیار ہے۔
ادھر امریکی حملوں میں اضافے کی صورت میں تہران کی جانب سے جنگ کا دائرہ یورپ تک بڑھانے کے آپشنز پر غور کیے جانے کی اطلاعات نے عالمی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
فنانشل ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی فورسز نے جنوبی اور جنوب مشرقی یورپ میں امریکی فوجی تنصیبات پر ممکنہ حملوں کے مختلف آپشنز کا جائزہ لیا ہے۔
یہ غور اس خدشے کے تناظر میں کیا جا رہا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف دوبارہ حملے کرتے ہیں تو تہران جنگ کو مشرق وسطیٰ سے باہر لے جانے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کھولنے پر پیشرفت ہوئی ہے، مارکو روبیو
نیٹو کے ایک نمائندے نے رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اتحاد اپنے ارکان کے دفاع اور ممکنہ میزائل خطرات سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
نیٹو کے مطابق اس کی مضبوط دفاعی اور فضائی دفاعی صلاحیتیں اتحادی سرزمین کو لاحق خطرات کا جواب دینے کے لیے کافی ہیں اور اتحاد اپنے ارکان کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔
بلغاریہ اور قبرص ممکنہ اہداف میں شامل
فنانشل ٹائمز کے مطابق ایران کے ممکنہ حملوں میں بلغاریہ میں موجود امریکی فوجی تنصیبات بھی شامل ہیں۔
بلغاریہ نے گزشتہ ماہ امریکا کو بیزمر ایئربیس کو ایندھن بھرنے کی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی تھی، جہاں بوئنگ کے سی۔135 اسٹارٹو ٹینکر طیاروں اور تقریباً 250 اہلکاروں کی موجودگی بتائی گئی تھی۔
قبرص بھی ممکنہ اہداف میں شامل ہے۔ جزیرے پر موجود ایک برطانوی فوجی اڈے کو مارچ میں ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ جنگ شروع ہونے کے بعد اس تنصیب پر اپنی نوعیت کا پہلا حملہ تھا، جس نے مشرق وسطیٰ کے تنازع کے یورپ سے منسلک فوجی تنصیبات تک پہنچنے کے خطرے کو نمایاں کیا۔
ایران کا جنگ وسیع کرنے کا آپشن
فنانشل ٹائمز سے گفتگو کرنے والے ایرانی سوچ سے واقف 2 افراد کے مطابق تہران نے واشنگٹن کی جانب سے نئی فوجی کارروائی کی صورت میں تنازع کو وسیع کرنے کے مختلف راستوں کا جائزہ لیا ہے۔
مزید پڑھیں:آبنائے ہرمز اور جوہری معاہدے پر پیشرفت کی امید، امریکا اور ایران مذاکرات کے لیے تیار
ایک ذریعے کے مطابق ایران امریکی حملوں کی صورت میں جنگ کو خطے سے باہر لے جانے کی تیاری کر رہا ہے، جبکہ دوسرے ذریعے نے کہا کہ مزید امریکی فوجی کارروائی کی صورت میں تہران اپنے ردعمل کے لیے ‘کوئی حد نہیں’ رکھ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی فورسز نے آبنائے ہرمز میں زیر سمندر فائبر آپٹک کیبلز کو ممکنہ طور پر نشانہ بنانے کے آپشن پر بھی غور کیا ہے۔ ایسی کارروائی عالمی مواصلاتی نظام اور خطے سے گزرنے والی اہم تجارتی سرگرمیوں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
ایران کے طویل فاصلے تک حملے کی صلاحیت پر سوالات
تہران کی جانب سے جنگ کا دائرہ وسیع کرنے کے خدشات اس وقت مزید نمایاں ہوئے ہیں جب ایران نے اپنی سرحدوں سے خاصے فاصلے پر اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔
گزشتہ ماہ اردن میں ایک امریکی اڈے پر ایرانی حملے میں 3 امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق ایرانی عسکری جائزوں سے واقف افراد نے اس کارروائی کو جنگ کے دوران تہران کا طویل فاصلے تک کیا جانے والا سب سے زیادہ درست حملہ قرار دیا۔
رپورٹ میں ایک ذریعے کے حوالے سے کہا گیا کہ یہ حملہ یورپ کے لیے بھی ایک پیغام تھا کہ وہ میزائل حملوں کی زد میں آ سکتا ہے اور اسے اس جنگ میں اپنے مؤقف پر غور کرنا چاہیے۔
تاہم عسکری ماہرین کے مطابق جنوبی اور جنوب مشرقی یورپ میں موجود امریکی اہداف کو درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کی ایرانی صلاحیت موجود ہو سکتی ہے، لیکن ان میزائلوں کی درستگی اور کئی ماہ کی جنگ کے بعد ایران کے پاس باقی رہ جانے والے طویل فاصلے کے میزائلوں کی تعداد کے بارے میں اب بھی سوالات موجود ہیں۔
تہران کا دفاعی سے جارحانہ پوزیشن کی طرف اشارہ
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے اپنی سرکاری بیان بازی میں بھی زیادہ جارحانہ مؤقف اختیار کرنا شروع کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا اور ایران میں سفارتی سرگرمیاں تیز، ٹرمپ نے حملہ روکنے کا عندیہ دیدیا
رائٹرز کے مطابق ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران نے جاری امریکی بحری ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے تعطل کا شکار مذاکرات کے دوران دفاعی پوزیشن سے نکل کر ‘مکمل طور پر جارحانہ’ فوجی پوزیشن اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کے ساتھ مذاکرات روکنے اور ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھانے کی تیاری نے کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق ایران میں سخت گیر عناصر کو اہم سیکیورٹی اور عسکری عہدوں پر حالیہ تقرریوں نے بھی اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ تہران میں جنگ کے ایک نئے اور بڑے مرحلے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
قالیباف اور محسن رضائی کا حوالہ
رپورٹ میں ایرانی حکمت عملی سے واقف ایک ذریعے نے ایران کے اعلیٰ عہدیدار محمد باقر قالیباف اور سکیورٹی چیف محسن رضائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تہران واشنگٹن کو مذاکرات اور مزاحمت کے درمیان ایک واضح انتخاب دکھانا چاہتا ہے۔
ذریعے کے مطابق پیغام یہ ہے کہ اگر واشنگٹن قالیباف کے ساتھ معاہدے تک نہیں پہنچ سکتا تو اسے رضائی سے نمٹنا ہوگا۔
نیٹو کے لیے نیا سیکیورٹی چیلنج
اگرچہ ایران نے یورپ میں امریکی یا اتحادی فوجی تنصیبات پر حملوں کی کسی منصوبہ بندی کی عوامی طور پر تصدیق نہیں کی، تاہم ممکنہ اہداف کے جائزے کی اطلاعات نے نیٹو کے لیے جنگ کے پھیلاؤ کا ایک نیا سیکیورٹی چیلنج پیدا کر دیا ہے۔
نیٹو کا تازہ بیان اس بات کا اشارہ ہے کہ اتحاد ایران کی ممکنہ کارروائیوں کو محض نظریاتی خطرہ نہیں سمجھ رہا۔ اگر ایران نے کسی نیٹو رکن کی سرزمین یا وہاں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا تو مشرق وسطیٰ کا موجودہ تنازع براہ راست یورپی اتحادی علاقے کی سلامتی سے جڑ سکتا ہے۔
یوں واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری کشیدگی اب صرف ایران، امریکا اور مشرق وسطیٰ تک محدود رہنے کے بجائے یورپ میں موجود امریکی و اتحادی فوجی تنصیبات، عالمی مواصلاتی ڈھانچے اور وسیع تر علاقائی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بننے لگی ہے۔














