عمران خان سخت سیکیورٹی میں شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل، 6 رکنی ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم معائنے کے لیے متعین

جمعرات 20 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بانی چییئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور سابق وزیراعظم عمران خان کو سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے جمعرات اور جمعے کی شب سخت سیکیورٹی میں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کردیا گیا۔

عمران خان کو اڈیالہ جیل سے پولیس کے سخت سیکیورٹی حصار میں اسلام آباد لایا گیا جہاں انہیں پٹراس بخاری روڈ کے راستے شفا انٹرنیشنل اسپتال پہنچایا گیا اور اسپتال کے گیٹ نمبر ایک سے اندر لے جایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو علاج کے لیے بیرون ملک بھیجنے کا فیصلہ بھی ہوسکتا ہے: طارق فضل چوہدری

عمران خان کی اسپتال منتقلی سے قبل اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس سید علی ناصر رضوی نے پولیس افسران کے ہمراہ شفا انٹرنیشنل اسپتال کا دورہ کیا اور وہاں سکیورٹی سمیت دیگر انتظامات کا جائزہ لیا۔ آئی جی اسلام آباد نے جمعرات کی رات بھی اسپتال کا دورہ کیا تھا تاکہ سابق وزیراعظم کی آمد سے قبل سکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دی جاسکے۔

شفا انٹرنیشنل اسپتال کے ذرائع کے مطابق عمران خان کے طبی معائنے کے لیے خصوصی انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔ 6 ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم بانی پی ٹی آئی کا چیک اپ کرے گی جس کے بعد یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ انہیں اسپتال میں داخل کیا جائے یا طبی معائنے کے بعد واپس جیل منتقل کردیا جائے۔

اگر عمران خان کو اسپتال میں داخل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو اس صورت میں بھی سیکیورٹی اور دیگر ضروری انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔

اسپتال کے گرد سخت سیکیورٹی

عمران خان کی آمد سے قبل شفا انٹرنیشنل اسپتال اور اس کے اطراف میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے۔ اسلام آباد پولیس کی جانب سے اسپتال کی جانب آنے والے راستوں پر سکیورٹی پکٹس قائم کی گئیں جبکہ بعض مقامات پر رکاوٹیں بھی کھڑی کی گئیں۔

مزید پڑھیے: عمران خان کی اسپتال منتقلی پر حکومت کی نظرثانی درخواست دوبارہ دائر کردی گئی، فیصلہ آج یا کل متوقع ہے، رانا ثنااللہ

اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری سکیورٹی حکم نامے کے مطابق مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 800 سے زائد اہلکار علاقے میں تعینات کیے گئے تھے۔

سیکیورٹی اہلکاروں کو شہریوں کی جان و مال اور عزت کے تحفظ، ممکنہ دہشتگردی کے خطرے سے نمٹنے، امن و امان برقرار رکھنے اور ٹریفک کی روانی یقینی بنانے کی ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں۔

اسلام آباد کے چیف ٹریفک افسر کو اسپتال کے اطراف پارکنگ اور ٹریفک کے انتظامات کی ذمہ داری دی گئی جبکہ لاوارث گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی تلاشی کے انتظامات بھی کیے گئے۔ اسپتال کے سکیورٹی آڈٹ کے علاوہ اسپتال کی جانب آنے والی سڑکوں پر سیکیورٹی پکٹس بھی قائم کی گئیں۔

عمران خان کو جیل سے اسپتال منتقل کرنے کے لیے اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ کے اہلکاروں پر مشتمل خصوصی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی تھیں۔

اگر طبی معائنے کے بعد عمران خان کو اسپتال میں داخل کیا جاتا ہے تو متعلقہ کمرے، وارڈ یا اسپتال کی منزل کو سب جیل قرار دیا جاسکتا ہے، جس کے بعد اڈیالہ جیل کا عملہ بھی وہاں تعینات کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ نے 2 روز میں اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا

عمران خان کی اسپتال منتقلی سپریم کورٹ کے اس حکم کے بعد عمل میں آئی ہے جس میں عدالت نے حکومت کو ہدایت کی تھی کہ بانی پی ٹی آئی کو دو روز کے اندر شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے۔

منگل کو جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے اور اہلخانہ سے ملاقاتوں سے متعلق متعدد درخواستوں کی سماعت کے بعد حکم جاری کیا تھا۔ بینچ میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ ریاست اور سپریم کورٹ کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے کہ حراست میں موجود افراد کی زندگی، صحت، عزت اور سلامتی کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

مزید پڑھیں: عمران خان سخت سیکیورٹی میں شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل، 6 رکنی ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم معائنہ کرے گی

سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ کسی شخص کے قید میں ہونے سے اس کا انسانی سلوک اور ضروری طبی سہولیات حاصل کرنے کا حق ختم نہیں ہوجاتا۔

عدالت نے یہ ہدایات عبوری انتظام کے طور پر جاری کی تھیں اور حکومت، اس کے افسران اور متعلقہ اداروں کو حکم پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنے کی ہدایت کی تھی۔

حکومت نے نظرثانی درخواست دائر کی تھی

سپریم کورٹ کے حکم کے اگلے ہی روز حکومت نے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کے لیے درخواست دائر کی تھی۔ وفاقی دارالحکومت کے چیف کمشنر کی جانب سے اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل نوید حیات ملک نے یہ درخواست دائر کی، جس میں سپریم کورٹ کے عبوری حکم کو امتیازی قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ عدالت کا حکم دائرۂ اختیار سے تجاوز ہے اور اس پر نظرثانی کی جانی چاہیے۔

تاہم جمعرات کی صبح سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے عمران خان کی اسپتال منتقلی کے خلاف دائر کی گئی نظرثانی درخواست بعض اعتراضات عائد کرکے واپس کردی۔

یہ بھی پڑھیے: عمران خان صحت مند ہونے کے بعد دوبارہ جیل جائیں گے، طلال چوہدری

یوں عمران خان کو جمعے کی علی الصبح سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کردیا گیا۔

عمران خان کی صحت پر پی ٹی آئی اور اہلخانہ کے تحفظات

عمران خان اگست 2023 سے جیل میں قید ہیں اور القادر ٹرسٹ کیس، جسے 190 ملین پاؤنڈ کیس بھی کہا جاتا ہے، میں 14 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

قید کے دوران ان کی صحت کے حوالے سے پی ٹی آئی اور اہل خانہ کی جانب سے متعدد مرتبہ تشویش کا اظہار کیا گیا اور انہیں اسپتال منتقل کرکے مناسب طبی معائنہ اور علاج فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔

عمران خان کی دائیں آنکھ کی بیماری سنٹرل ریٹینل وین اوکلوژن (سی آر وی او) بھی رواں سال جنوری کے آخر میں سامنے آئی تھی جس کے بعد حکومت کی جانب سے ان کا علاج کرایا گیا۔

پی ٹی آئی اور ان کے اہلخانہ کا مؤقف رہا ہے کہ عمران خان کی صحت کی صورتحال کے پیش نظر انہیں اسپتال منتقل کیا جائے اور ان کے ذاتی معالجین کو بھی مناسب رسائی دی جائے، جبکہ حکومت ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔

بہن کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت

سپریم کورٹ کی جانب سے اسپتال منتقلی کے حکم کے روز ہی عمران خان کی بہن نورین نیازی کو بھی ان سے ملاقات کی اجازت دی گئی تھی۔ یہ رواں سال ان کی عمران خان سے پہلی تصدیق شدہ ملاقات تھی۔

نورین نیازی نے عمران خان سے کانفرنس روم میں ملاقات کی تھی جہاں ان کی صحت سمیت دیگر معاملات پر گفتگو ہوئی۔ نورین نے اپنے بھائی کو سپریم کورٹ کے اسپتال منتقل کرنے کے حکم سے بھی آگاہ کیا۔

مزید پڑھیں: عمران خان کو ریلیف سیاسی دباؤ سے نہیں، سپریم کورٹ سے ملا، پی ٹی آئی کی حکمت عملی پر سوالات اٹھ گئے

ملاقات کے بعد جیل سے باہر نکلتے ہوئے نورین نیازی نے میڈیا سے گفتگو نہیں کی اور صحافیوں کے سوالات پر خاموش رہنے کا اشارہ کیا تھا۔

اس سے قبل عمران خان کی ان کی بہن ڈاکٹر عظمٰی خان سے آخری تصدیق شدہ ملاقات 2 دسمبر 2025 کو ہوئی تھی۔ اس ملاقات کے بعد ڈاکٹر عظمٰی نے کہا تھا کہ عمران خان کی جسمانی صحت ٹھیک ہے تاہم وہ ’ذہنی اذیت‘ کا شکار ہیں اور انہیں تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ عمران خان کی نورین نیازی سے اس سے قبل ملاقات گزشتہ سال 4 نومبر کو ہوئی تھی۔

پی ٹی آئی کی کارکنوں سے اسپتال سے دور رہنے کی اپیل

پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں عمران خان کی اسپتال منتقلی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ پارٹی کارکن اپنے قائد کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں۔

تاہم انہوں نے کارکنوں اور حامیوں سے اپیل کی کہ وہ اسپتال سے فاصلہ برقرار رکھیں اور عمران خان کے علاج اور صحت کے لیے ماحول سازگار بنانے میں مدد کریں۔

دوسری جانب وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے عمران خان کو (ضرورت پڑنے پر) علاج کے لیے بیرون ملک بھیجے جانے کے امکان کا بھی عندیہ دیا ہے تاہم فی الحال سپریم کورٹ کے حکم کے تحت عمران خان کو طبی معائنے کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیے: حکومت کو عمران خان کی اسپتال منتقلی کا عدالتی فیصلہ ماننا ہی ہوگا، قانونی ماہرین

اب 6 رکنی ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم کے طبی معائنے کے بعد فیصلہ ہوگا کہ عمران خان کو مزید علاج کے لیے اسپتال میں داخل کیا جاتا ہے یا انہیں واپس اڈیالہ جیل منتقل کردیا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مالی مسائل حل نہ ہوئے تو بی پی ایل منعقد نہیں کریں گے، تمیم اقبال

واٹس ایپ اب کاروباری اداروں سے صارفین کے جوابات پر بھی فیس وصول کرے گا

پاکستانی کوہ پیما عاصمہ مشتاق اسپینٹک سر کرنے کے بعد انتقال کرگئیں

بی این پی رہنما مرزا فخرالاسلام عالمگیر بنگلہ دیش کے نئے صدر منتخب

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، پیٹرول 27 پیسے اور ڈیزل ایک روپے 64 پیسے مہنگا

ویڈیو

ڈیل یا ڈھیل، حکومت نے درخواست واپس لے لی، کپتان اسپتال منتقل، اگلی منزل بنی گالہ، بلاول کی پھرتیاں

شاہی خاندان سے تعلقات بہتر ہوگئے، شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کا 6 سالہ جلا وطنی کے بعد وطن واپسی کا فیصلہ

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان ہوں گے، صوبائی حکومت اور الیکشن کمیشن متفق

کالم / تجزیہ

فیصلے کی تاریخ اور تاریخ کا فیصلہ

سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک

وزیر اعلیٰ اسلام آباد کا اقتدار کب ختم ہوگا؟