’بلاک چین، ٹوکنائزیشن اور اسٹیبل کوائنز پاکستان کی معیشت بدل سکتے ہیں‘، وزیر مملکت اور چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی

ہفتہ 22 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیر مملکت اور چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ پاکستان میں ورچوئل اثاثوں کا ریگولیٹری فریم ورک صرف ایکسچینجز کی نگرانی کے لیے نہیں بنایا گیا بلکہ اس کا مقصد مالیاتی جدت، مالی شمولیت اور ڈیجیٹل معیشت کے نئے مرحلے کی بنیاد رکھنا ہے۔ ان کے مطابق بلاک چین، اسٹیبل کوائنز اور ٹوکنائزیشن پاکستان کی برآمدات، ترسیلات زر، ایس ایم ای فنانسنگ اور اسلامی مالیات کے لیے نئے مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔

بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان کی کئی ملین نوجوان افرادی قوت فری لانسنگ، سافٹ ویئر، ڈیزائن، ڈیجیٹل کانٹینٹ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں عالمی صارفین کو پاکستان سے خدمات فراہم کر رہی ہے، جبکہ ملکی آئی ٹی برآمدات اربوں ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ تاہم اب یہ سوال اہم ہے کہ ان آمدنیوں کی ادائیگی کس رفتار سے اور کتنی لاگت پر پاکستان پہنچتی ہے اور ملک اس ڈیجیٹل ویلیو کو باضابطہ معیشت میں کس طرح شامل کرسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بلال بن ثاقب کی مفتی تقی عثمانی سے اہم ملاقات، ڈیجیٹل اثاثوں کی شرعی حیثیت پر تبادلہ خیال

انہوں نے کہا کہ اگر نئے مالیاتی نظام کے ذریعے جائز برآمدی آمدنی زیادہ آسانی اور شفاف انداز میں پاکستان منتقل ہوسکے تو اس ٹیکنالوجی کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنے کے امکانات کا جائزہ لینا چاہیے۔

بلال بن ثاقب کے مطابق پاکستان کو سرمایہ کاری کی بھی شدید ضرورت ہے، خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، زراعت، توانائی اور انفراسٹرکچر کے لیے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایز ملک کے تقریباً 90 فیصد کاروبار اور 40 فیصد جی ڈی پی میں حصہ رکھتے ہیں، لیکن مارچ 2026 میں ایس ایم ای فنانسنگ صرف 850 ارب روپے تھی۔

وزیر مملکت اور چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی بلال ثاقب

انہوں نے کہا کہ ٹوکنائزیشن کے ذریعے برآمد کنندگان کے قابلِ اعتماد تجارتی واجبات اور دیگر اثاثوں کو عالمی سرمایہ مارکیٹ سے جوڑنے کے امکانات کا جائزہ لیا جاسکتا ہے، جس سے کاروباروں کو ورکنگ کیپیٹل تک بہتر رسائی مل سکتی ہے۔

چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس نے کہا کہ پاکستان کے لیے اسلامی مالیات میں بھی ایک بڑا موقع موجود ہے۔ عالمی اسلامی فنانس کی صنعت تقریباً 5 ٹریلین ڈالر کی ہوچکی ہے، جبکہ عالمی صکوک مارکیٹ میں گزشتہ سال 300 ارب ڈالر سے زائد کے اجرا کے ساتھ ریکارڈ قائم ہوا۔ ان کے مطابق ٹوکنائزڈ اسلامی فنانس کا عالمی قائد ابھی طے نہیں ہوا، اس لیے پاکستان اس شعبے میں نمایاں کردار ادا کرسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ڈرونز کے ذریعے کم بلندی والی فضائی معیشت دنیا بدل دے گی، بلال بن ثاقب

انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کی دوسری بڑی مسلم آبادی کا حامل ملک ہے اور اس کے پاس ورچوئل اثاثوں کو شریعت سے ہم آہنگ مالیاتی مصنوعات کے ساتھ جوڑنے کا منفرد موقع موجود ہے۔

بلال بن ثاقب نے واضح کیا کہ بلاک چین کا استعمال صرف نجی مالیات تک محدود نہیں۔ حکومتیں گرانٹس، سبسڈیز اور مختلف عوامی پروگراموں میں بھی اس ٹیکنالوجی کے ذریعے شفافیت، رسائی اور وسائل کی مؤثر تقسیم بہتر بنا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان عالمی مالیاتی تبدیلی کو صرف استعمال کرے گا یا اپنے قومی مفاد میں اس کی سمت بھی متعین کرے گا۔

ورچوئل اثاثوں کا اگلا مرحلہ مارکیٹ کی تعمیر اور قومی استعمال کے منصوبے ہیں

وزیر مملکت اور چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ پاکستان میں ورچوئل اثاثوں کے ریگولیٹری سفر کو 3 مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں موجودہ سرگرمیوں کو قانون کے دائرے میں لانے کے بعد مارکیٹ کی تعمیر اور قومی سطح پر اس ٹیکنالوجی کے عملی استعمال کے منصوبے شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں قوانین اور قواعد و ضوابط تیار کیے گئے، متعلقہ اتھارٹی قائم کی گئی اور موجودہ سرگرمیوں کو ریگولیٹری فریم ورک میں لایا جا رہا ہے۔ اب دوسرا مرحلہ مارکیٹ کی تعمیر کا ہے، جس میں ذمہ دار اور قابلِ اعتماد آپریٹرز کو لائسنس جاری کیے جائیں گے، صارفین کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا، اینٹی منی لانڈرنگ اور انسدادِ دہشتگردی کی مالی معاونت سے متعلق قوانین پر عمل درآمد کرایا جائے گا اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث آپریٹرز کے خلاف کارروائی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:ڈیجیٹل ایسٹس مارکیٹ کو معیشت کا اہم ستون بنایا جارہا ہے، بلال بن ثاقب

بلال بن ثاقب کے مطابق اس مرحلے میں سنجیدہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو پاکستان میں داخلے کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے تاکہ عالمی اداروں کی شمولیت سے ملک کی مالیاتی مارکیٹ کو وسعت دی جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ تیسرے مرحلے میں پاکستان کے لیے مخصوص قومی استعمال کے منصوبے تیار کیے جائیں گے، جن میں ترسیلات زر، سرحد پار ادائیگیاں، ڈیجیٹل برآمدات، ٹریڈ فنانس، نجی کریڈٹ، ٹوکنائزڈ سیکیورٹیز اور دیگر اثاثوں کی ٹوکنائزیشن شامل ہے۔ جہاں مناسب ہو وہاں بلاک چین کے ذریعے سرکاری وسائل کی تقسیم میں شفافیت اور نگرانی بھی بہتر بنائی جاسکتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہر استعمال کے معاملے کو اس بنیاد پر پرکھا جائے گا کہ اس سے پاکستان کو حقیقی اور قابلِ پیمائش فائدہ کیا حاصل ہوتا ہے۔

بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان کو موجودہ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے پالیسیاں بنانا ہوں گی۔ 2023 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، جو مستقبل کی ورک فورس بنے گا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان نے ڈیجیٹل ایسٹس کے لیے عالمی سطح پر ریگولیٹڈ اور محفوظ راستہ کھولا، معاون خصوصی بلال بن ثاقب

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ذہانت کی لاگت اور دستیابی کو بنیادی طور پر تبدیل کر رہی ہے، جبکہ بلاک چین قدر اور ملکیت کے ڈھانچے کو بدل رہا ہے۔ ہم انسانی تاریخ کی ایک بڑی تکنیکی تبدیلی کے درمیان کھڑے ہیں۔

ان کے مطابق کوئی بھی یقین سے نہیں بتا سکتا کہ 2050 میں کون سی ٹیکنالوجی دنیا پر غالب ہوگی، کیونکہ کچھ ٹیکنالوجیز توقع سے زیادہ تیزی سے ترقی کرتی ہیں، کچھ سست پڑ جاتی ہیں اور بعض ناکام ہوجاتی ہیں، جبکہ نئی ٹیکنالوجیز بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔ اس لیے ریاست کا کام مستقبل کی مکمل پیش گوئی کرنا نہیں بلکہ ایسی قومی صلاحیت پیدا کرنا ہے جو آنے والی تکنیکی تبدیلیوں سے فائدہ اٹھانے کے قابل ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کفایت شعاری اقدامات: قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں ورک فرام ہوم پالیسی کے نفاذ سمیت اہم فیصلے

ملکہ ترنم کی 100ویں سالگرہ: اے وطن کے سجیلے جوانو سے چاندنی راتیں تک، نورجہاں کے نغمے آج بھی جوان

کراچی بندرگاہ پر پاکستان اور امریکا کی مشترکہ کارروائی، افغانستان میں تیار منشیات سری لنکا اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

ایمرجنسی کن حالات میں لگائی جا سکتی ہے؟

جماعت اسلامی کا اسلام آباد لانگ مارچ مؤخر، وزیراعظم سے ملاقات تک ملتان میں قیام کا اعلان

ویڈیو

’بڑا ہوکر اپنے والد کی طرح پولیس افسر بنوں گا‘، شہید ایس پی اکبر شنواری کے بیٹے ایمل کا عزم

تحریک انصاف کو احتجاج کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے، عمران خان مذاکرات کے ذریعے ہی باہر آسکتے ہیں، سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان

27 ستمبر احتجاج: پی ٹی آئی کے مکمل خاتمے کا پلان؟ محسن نقوی نے وارننگ دیدی

کالم / تجزیہ

سید مودودیؒ آج بھی کیوں پڑھے جا رہے ہیں؟

اسلام آباد کو سومنات بنا دیں گے

سومنات: جب تاریخ سیاسی نعرہ بن جائے