میر رضا علی قتل کیس میں مقتول کے اہلخانہ نے سندھ حکومت کی جانب سے عدالتی کمیشن تشکیل دینے کے فیصلے کے خلاف سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا اور معاملے کی شفاف، غیر جانب دار اور جامع تحقیقات کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کی استدعا کردی۔
25 سالہ کاروباری شخصیت میر رضا علی کی لاش 29 جولائی کو کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں جھاڑیوں سے ملی تھی۔ مقتول کے اہلخانہ کا مؤقف ہے کہ اسے اغوا، تشدد اور قتل کیا گیا، جبکہ ابتدائی طور پر پولیس کی تفتیش خودکشی کے امکان کے گرد گھومتی رہی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: میر رضا علی قتل کیس: میڈیکل بورڈ کی تبدیلی پر اہلخانہ کا اعتراض، نئی کمیٹی مسترد کردی
مقتول کے اہلخانہ نے اپنے وکیل جبران ناصر کے ذریعے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، جس میں سندھ حکومت، محکمہ داخلہ سندھ، انسپکٹر جنرل پولیس سندھ، کراچی کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس، وفاقی حکومت اور وزارت دفاع سمیت 19 فریقین کو جواب دہ بنایا گیا ہے۔
درخواست میں سندھ حکومت کی جانب سے عدالتی کمیشن تشکیل دینے کے فیصلے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تمام کارروائیوں کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ اہلخانہ نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی کمیشن کے بجائے ایک آزاد، غیر جانب دار اور مختلف اداروں پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے۔
درخواست میں تجویز دی گئی ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں سندھ پولیس، رینجرز، وفاقی تحقیقاتی ادارے، انٹیلی جنس بیورو، انٹر سروسز انٹیلی جنس اور ملٹری انٹیلی جنس کے افسران شامل ہوں، جبکہ ٹیم کی سربراہی ایسے سینئر افسر کے سپرد کی جائے جس کی دیانت داری پر کوئی سوال نہ ہو اور جو اس کیس کی سابقہ تحقیقات میں شامل نہ رہا ہو۔
اہلخانہ نے عدالت سے استدعا کی کہ نئی تحقیقاتی ٹیم میر رضا علی کے مبینہ اغوا، تشدد اور قتل کی ازسرنو اور جامع تحقیقات کرے۔ اس کے علاوہ بھتہ خوری، تاوان، منظم جرائم، کاروباری یا مالی تنازع اور قتل کے دیگر ممکنہ محرکات کا بھی شواہد کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: میر رضا علی قتل یا خودکشی؟ آخری 48 گھنٹوں میں کیا ہوا، ٹائم لائن نے کیس کے کئی راز بے نقاب کر دیے
درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ تحقیقاتی ٹیم اس امر کا تعین کرے کہ آیا کیس کے حقائق انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی کسی شق کے تحت آتے ہیں یا نہیں۔
مقتول کے اہلخانہ نے بعض پولیس افسران کے کردار کی بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ درخواست میں مشرقی ضلع کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس فرخ علی لنجر اور شاہراہ فیصل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس ارشد آفریدی سمیت دیگر متعلقہ افسران کے طرز عمل کی جانچ اور ان کے خلاف محکمانہ تحقیقات کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزاروں نے سندھ حکومت کو سابق تحقیقاتی ٹیم کے ارکان اور دیگر ذمہ دار افسران کے خلاف آزادانہ محکمانہ حقائق جانچنے کی تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دینے کی بھی استدعا کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ محکمانہ تحقیقات اور فوجداری تفتیش قانون کے مطابق آزادانہ اور بیک وقت جاری رہنی چاہئیں۔
مقتول کے اہلخانہ نے ڈپٹی انسپکٹر جنرل فرخ لنجر، کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس سمیع اللہ، مشرقی ضلع کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس زبیر نذیر شیخ، مشرقی ضلع کے سپرنٹنڈنٹ پولیس عثمان صدو زئی اور متعلقہ تھانے کے افسران کو فوری طور پر معطل کرکے ان کے عہدوں سے ہٹانے کی بھی درخواست کی ہے۔
درخواست میں عدالت سے یہ بھی استدعا کی گئی کہ مقدمے میں حتمی چالان پیش کرنے سے پولیس کو روکا جائے اور زیر التوا درخواست کے دوران پولیس کی جانب سے جمع کرائی جانے والی کسی رپورٹ کو حتمی چالان تصور نہ کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: 30 اگست کو شادی تھی، آج جنازہ اٹھ گیا، میر رضا علی کے قتل نے کراچی کو کیوں ہلا کر رکھ دیا؟
اہلخانہ نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی کمیشن کو فوجداری تحقیقات کرنے یا چالان پیش کرنے کا اختیار حاصل نہیں اور اسے پہلے سے دستیاب مؤثر متبادل، یعنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم، کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔
درخواست میں سابقہ تحقیقات پر بھی سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اہلخانہ کے مطابق ابتدائی تحقیقاتی ٹیم نے وقت سے پہلے خودکشی کا مؤقف اختیار کیا، مقتول کے سات قریبی اہلخانہ کے بیانات ریکارڈ نہیں کیے، اہم جسمانی اور ڈیجیٹل شواہد کو مناسب طریقے سے محفوظ اور استعمال نہیں کیا، متعلقہ نگرانی کیمروں کی ریکارڈنگ حاصل کرنے میں ناکامی ہوئی اور مقتول کی سمارٹ گھڑی سے متعلق شواہد کو بھی مناسب انداز میں نہیں سنبھالا گیا۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ طبی معائنے سے متعلق اہم نکات پر بھی مناسب کارروائی نہیں کی گئی، جبکہ بعد کی حتمی طبی رائے میں خودکشی کے امکان کو خارج کردیا گیا۔
سندھ ہائیکورٹ میں سماعت
میر رضا علی کے اہلخانہ کی درخواست پر سندھ ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے سماعت کی اور فریقین سمیت سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل کو 31 اگست کیلئے نوٹس جاری کردیے۔
سماعت کے دوران مقتول کے وکیل جبران ناصر نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس کی تحقیقات ابھی کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اہلخانہ کو ذرائع ابلاغ کے ذریعے معلوم ہوا کہ سندھ حکومت عدالتی کمیشن تشکیل دے رہی ہے۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ تحقیقات کے اس مرحلے پر عدالتی کمیشن کی تشکیل مقدمے کی تفتیش کو متاثر کرسکتی ہے۔
سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر نے دعویٰ کیا کہ عدالت نے درخواست پر فیصلہ ہونے تک پولیس کو حتمی رپورٹ جمع کرانے سے روک دیا ہے۔ ان کے مطابق عدالت نے عدالتی کمیشن کے دائرہ کار اور شرائط بھی طلب کی ہیں جبکہ پولیس افسران کی مبینہ غفلت اور لاپروائی سے متعلق رپورٹ بھی طلب کی گئی ہے۔
میر رضا علی قتل کیس کا پس منظر
میر رضا علی، جو انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن سے فارغ التحصیل اور کراچی میں کاروبار سے وابستہ تھے، 29 جولائی کو گلستان جوہر میں جھاڑیوں سے مردہ حالت میں ملے تھے۔ انہیں ایک روز قبل لاپتا قرار دیا گیا تھا۔
ابتدائی طور پر پولیس نے موت کے معاملے میں خودکشی کے امکان پر تحقیقات کیں، تاہم مقتول کے اہلخانہ مسلسل اس مؤقف پر قائم رہے کہ میر رضا علی کو اغوا، تشدد اور قتل کیا گیا۔
بعد ازاں لاش کی دوبارہ طبی جانچ اور قبر کشائی کے بعد قتل کی دفعہ مقدمے میں شامل کی گئی۔ دوسری مرتبہ ہونے والے طبی معائنے میں جسم پر متعدد زخموں اور کمر میں گولی لگنے کا انکشاف ہوا، جس کے بعد خودکشی کے امکان کو مسترد کردیا گیا۔
طبی معائنے کے معاملے پر کراچی پولیس سرجن اور تفتیشی افسران کے درمیان بھی اختلافات سامنے آئے تھے۔ مقتول کے والد کی درخواست پر عدالت نے 6 اگست کو قبر کشائی کی اجازت دی، جس کے بعد طبی معائنہ کرنے کیلئے طبی ماہرین کا بورڈ تشکیل دیا گیا۔
بعد ازاں بورڈ کی تشکیل میں تبدیلی کی گئی، تاہم مقتول کے اہلخانہ نے نئے بورڈ پر اعتراض کرتے ہوئے قبر کشائی کا عمل مؤخر کرانے کی کوشش کی۔ سندھ حکومت کی جانب سے اصل طبی بورڈ بحال کیے جانے کے بعد 8 اگست کو میر رضا علی کی قبر کشائی کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: میر رضا قتل کیس: اہل خانہ نے سندھ حکومت کا جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ مسترد کردیا
اس کے ایک روز بعد سندھ پولیس نے کیس کی تحقیقات کیلئے نئی ٹیم تشکیل دی جبکہ کراچی کے ایڈیشنل آئی جی نے قتل کیس کی تفتیش تھانہ فیروز آباد سے منتقل کرکے زمان ٹاؤن پولیس کے سپرد کردی۔
سندھ حکومت نے اس کے بعد کیس کی تحقیقات کیلئے عدالتی کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ کیا، تاہم مقتول کے اہلخانہ کی جانب سے اعتراض سامنے آنے کے بعد یہ معاملہ دوبارہ زیر بحث آگیا۔
19 اگست کو میر رضا علی کے والدین میر حسین اور مریم حسین نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو خط لکھ کر قتل کیس کی تحقیقات کی براہ راست نگرانی کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے سابق تحقیقاتی ٹیم کے خلاف تحقیقات اور متعلقہ پولیس افسران کی معطلی کی بھی درخواست کی تھی۔
سندھ حکومت نے اتوار کو اہلخانہ کے خط کا جواب دیتے ہوئے کیس کی تحقیقات کیلئے عدالتی کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ کیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ مقدمے کی تفتیش غیر جانب دارانہ اور قانون کے مطابق ہو رہی ہے یا نہیں۔
تاہم مقتول کے اہلخانہ کے وکیل نے عدالتی کمیشن کی تشکیل پر اعتراض کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ انہیں کمیشن کی تشکیل کے بارے میں پہلے سے آگاہ نہیں کیا گیا اور کمیشن کے دائرہ کار اور شرائط بھی سامنے نہیں لائی گئیں۔
میر رضا علی کی بہن نے بھی ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ اہلخانہ کو سندھ حکومت کے فیصلے کا علم ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اہلخانہ شروع ہی سے تحقیقات کے طریقہ کار پر اعتماد نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ معاملے کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات کی جائیں۔













